جبری گمشدگی: ’ایجنسیوں کا نام کیوں لیا؟ ایف آئی آر درج نہیں ہوگی‘

تیمور قاضی
Image caption قاضی ارشد کہتے ہیں ’تیمور کا کسی سیاسی یا مذہبی جماعت سے کوئی تعلق نہیں ہے‘

’خبروں میں دیکھا تھا کہ کلبھوشن جادھو کی والدہ کو اس سے ملنے کی اجازت دی گئی تھی۔ میرا صرف ایک سوال ہے، کیا میرا بیٹا کلبھوشن جادھو سے بھی گیا گزرا ہے کہ اس کے والدین کو ملنا تو دور کی بات، یہ تک پتا نہیں کہ وہ زندہ بھی ہے یا نہیں؟‘ یہ ہے سوال پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر سے تعلق رکھنے والے قاضی ارشد کا۔

قاضی ارشد کو رواں سال جولائی میں اپنے بیٹے کو ڈھونڈتے ہوئے دو سال ہوجائیں گے۔ ایک خاکی رنگ کی فائل ہاتھ میں لیے قاضی ارشد کا اسلام آباد کتنی بار آنا ہوا ہے، ان کو اب یاد بھی نہیں ہے۔

قاضی ارشد پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے شہر ڈوڈھیال، ضلع میرپور میں رہتے ہیں۔ یہاں کی زیادہ تر آبادی انگلینڈ میں بزنس اور ریستوران کے کام کے لیے جاتی ہے اور ان میں بہت سے وہیں رہائش پزیر بھی ہے۔

قاضی ارشد کے بیٹے تیمور قاضی ڈوڈھیال شہر کی ایک سُپر مارکیٹ، ڈی مارٹ میں کام کرتے تھے۔

یہ بھی پڑھیے

پاکستان میں دس ماہ میں 899 افراد لاپتہ: رپورٹ

جبری گمشدگیاں: مجوزہ ترمیم کابینہ کے سامنے

جبری گمشدگیاں: ’700 کیس زیر التوا، مزید سینکڑوں کی اطلاع‘

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے قاضی ارشد نے بتایا کہ 13 جولائی سنہ 2017 دوپہر 12 بجے ان کے بیٹے تیمور قاضی کو سادہ لباس میں ملبوس افراد، جنھوں نے اپنا تعارف کاؤنٹر ٹیرارزم ڈیپارٹمنٹ کے ارکان کے طور پر کروایا، بنا کوئی جواز بتائے بازو سے پکڑ کر لے گئے۔

اُس وقت وہاں مارٹ کے مالک طارق میر بھی موجود تھے۔

’تقریباً پانچ آدمی آئے تھے سفید رنگ کی سوزوکی کلٹس میں، سادہ لباس میں۔ میں نے مزاحمت کی کہ آپ کے پاس کوئی سرچ وارنٹ یا کوئی کاغذ ہے جس پر درج ہو کہ تیمور نے کوئی قصور کیا ہے، تو مجھے کہا گیا کہ آپ کا اس بات سے کوئی تعلق نہیں ہونا چاہیے۔ وہ لوگ تیمور کو بازو سے پکڑ کر لے جانے لگے تو میں ان کے پیچھے آگیا، ان میں سے دو نے مجھے پیچھے ہٹا دیا۔‘

طارق نے بتایا کہ جانے کے کچھ دیر بعد سادہ لباس میں ملبوس اہلکار تیمور کا فون لینے واپس آئے۔ ’ہمیں تو پتا نہیں تھا کہ تیمور کا فون دکان میں رہ گیا ہے، لیکن ان کو پتا تھا کہ فون کہاں ہے اور وہ فون اٹھا کر واپس چلے گئے۔‘

Image caption انکوائری افسر نے کہا ’ہمارے پاس فوٹیج دیکھنے کے لیے مشین نہیں ہے آپ اس کی تصویریں بنوا کر لے آئیں‘

طارق میر کی پیدائش انگلینڈ کی ہے اور ان کے والدین ان کی پیدائش کے چند ماہ بعد 1968 میں بریڈ فورڈ، انگلینڈ سے پاکستان واپس آگئے تھے۔ طارق کے چھ بھائیوں میں سے تین آج بھی انگلینڈ میں مقیم ہیں۔

طارق میر نے جب سنہ 2011 میں ڈی مارٹ کے نام سے سُپر مارکیٹ کھولی تو تیمور قاضی بھی ان کے ساتھ شامل ہوئے۔

’مجھے تو بس یہ معلوم ہے کہ تیمور ایک شریف اور ایماندار لڑکا ہے۔ لیکن اس طرح سے کسی کو بھی اٹھا کر لے جانے کی بات سمجھ نہیں آرہی کہ کیا وجہ ہوسکتی ہے۔‘

’سی سی ٹی وی فوٹیج دیکھنے کی مشین خراب ہے‘

رواں سال جبری گمشدگی پر بنائے گئے کمیشن کو 71 شکایات موصول ہوئیں جن میں سے 48 رد کردی گئیں۔ جس طرح ملک کے دیگر حصوں میں جبری طور پر گمشدہ افراد کے لواحقین کے ساتھ ہوتا ہے، ویسا ہی قاضی ارشد کے ساتھ بھی ہوا۔

’بیٹا، پہلے تو پولیس افسر ایف آئی آر درج کرنے کو راضی نہیں تھے۔ مجھے کہا گیا کہ آپ نے ایجنسیوں کا نام کیوں لیا ہے۔ اس وجہ سے آپ کی ایف آئی آر درج نہیں ہوگی۔‘

Image caption ’ہمیں بس یہ بتادیں کہ ہمارا بیٹا زندہ ہے یا نہیں۔ ہوسکے تو ہمیں ایک بار اس کا چہرہ دکھا دیں`

تیمور قاضی کے بھائی مامون ارشد قاضی ک یجانب سے ڈی جی آئی ایس پی آر آصف غفور کو لکھے گئے ایک خط کے متن کے مطابق، واقعے کے ایک روز بعد جب والد نے عدالت میں گمشدگی کی درخواست جمع کروائی تو 15 جولائی کو ان کے گھر انسدادِ دہشت گردی کی ٹیم آگئی جنھوں نے جاتے ہوئے کہا کہ تیمور کے بارے میں اگر مزید جانچ پڑتال کی تو ’تمہارے بیٹے کو جان سے ماردیں گے۔‘

قاضی ارشد نے اب تک یہی خطوط وزیرِ اعظم پاکستان عمران خان، چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ، سابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کو بھی بھیجے ہیں۔

واقعے کی ایف آئی آر عدالتی کمیشن برائے گمشدہ افراد کے حکم پر چھ ماہ بعد درج ہوئی۔

جون سنہ 2018 میں قاضی ارشد نے جبری طور پر گمشدہ ہونے والے افراد کے لیے بنائی گئی انکوائری کمیشن کو خط لکھا۔ ’انکوائری ہوئی تو وہاں بیٹھے افسر کو ہم نے مارٹ کے اندر بنی ہوئی سی سی ٹی وی فوٹیج دکھائی، جس میں میرے بیٹے کو لے جاتے ہوئے صاف دیکھا جاسکتا تھا۔ مجھے افسر نے کہا کہ ہمارے پاس فوٹیج دیکھنے کے لیے مشین نہیں ہے آپ اس کی تصویریں بنوا کر لے آئیں۔‘

یہ کہنے کے بعد قاضی ارشد کچھ دیر چُپ ہوگئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption رواں سال جبری گمشدگی پر بنائے گئے کمیشن کو 71 شکایات موصول ہوئیں جن میں سے 48 رد کردی گئیں

کمیشن نے قاضی ارشد کا کیس وزارتِ انسانی حقوق کو بھیج دیا۔ اور ایک جوائنٹ انویسٹیگیشن ٹیم بنائی گئی جس کو اس معاملے کی جانچ کرنے کا بھی حکم دیا گیا۔ سی ٹی ڈی پنجاب اور ایڈیشنل آئی جی کو رپورٹ جمع کرنے کا بھی کہا گیا۔

لیکن اس کے بعد سے اب تک سماعت کے علاوہ کوئی خبر نہیں ہے۔

جبری گمشدگی پاکستان میں ایک بڑا مسئلہ ہے جس پر ملک کے ذرائع ابلاغ پر بحث و مباحثہ تو دور اس کا نام لینے پر بھی پابندی ہے۔ اس پابندی کے باعث جن خاندانوں کے لوگ اٹھائے جاتے ہیں ان کے لیے انصاف حاصل کرنا بہت مشکل ہوجاتا ہے۔

اس کے متعلق انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے چند ادارے آواز بلند کرتے رہے ہیں لیکن ان کو بھی دھمکیوں اور ریاستی اداروں کی طرف سے سخت ردّ عمل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

قاضی ارشد کے بیٹے کے کیس میں یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ ان کا تعلق پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر سے ہے جو پاکستان کے نیشنل کمیشن آف ہیومن رائٹس کے دائرہ کار میں نہیں آتا۔

اس بارے میں بات کرتے ہوئے این سی ایچ آر کے چيئرمین جسٹس ریٹائرڈ علی نواز چوہان نے کہا کہ جبری گمشدگیوں کو جرم قرار دینا چاہئیے۔

'ایسا بھی ہوا ہے کہ کچھ کیسز میں آپسی لڑائی کی بنیاد پر بھی لوگوں کو جبراً اٹھایا گیا ہے۔ ہم سب یہ جانتے ہیں کہ ریاستی اداروں میں چند ایسے لوگ شامل ہیں جو ان اداروں کا نام خراب کررہے ہیں۔ تو یہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی عوام کی حفاظت کرے اور اندر بیٹھے مجرموں کی نشاندہی کرے۔'

Image caption قاضی ارشد کو رواں سال جولائی میں اپنے بیٹے کو ڈھونڈتے ہوئے دو سال ہوجائیں گے

انھوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے حکم پر وزارتِ داخلہ کی طرف سے جبری گمشدگیوں پر بنائی گئی انکوائری کمیشن 'نا ہی کسی کو سزا دے سکتی ہے اور نا ہی اب تک کسی کو ڈھونڈنے میں کامیاب رہی ہے۔'

انھوں نے کہا کہ اس وقت 'جبری طور پر گمشدہ افراد کا پتا لگانے اور ان کو عدالت میں پیش کرنے کی ضرورت ہے۔"

تیمور قاضی سے متعلق انکوائری کمیشن سے کئی مرتبہ رابطہ کرنے کے باوجود بھی جواب موصول نہیں ہوسکا۔

جب قاضی ارشد سے ان کے بیٹے کے سیاسی اور مذہبی خیالات کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے بتایا کہ ’تیمور کا کسی سیاسی یا مذہبی جماعت سے کوئی تعلق نہیں ہے اور نا ہی اس کو لے جاتے ہوئے یا بعد میں سادہ لباس میں ملبوس افراد نے کچھ کہا۔ کمیشن نے بھی ایسی کوئی بھی بات نہیں کی۔‘

حال ہی میں ساہیوال میں ایک ہی خاندان کے افراد کی سی ٹی ڈی کی فائرنگ سے مارے جانے کی ویڈیو اور خبر گردش کرنے لگی تو قاضی ارشد اور ان کے خاندان والے گھبرا گئے۔

’ہمیں بس یہ بتادیں کہ ہمارا بیٹا زندہ ہے یا نہیں۔ ہوسکے تو ہمیں ایک بار اس کا چہرہ دکھا دیں۔ یا اس کو عدالت میں پیش کردیں۔ میں قسم کھا کر کہتا ہوں میں اب گھر نہیں جاسکتا۔ تیمور کی والدہ ہر وقت ایک ہی سوال پوچھتی ہے۔۔۔ میں اسے کیا جواب دوں؟ میرے پاس خود کوئی جواب نہیں ہے۔‘

اسی بارے میں