ایک انڈین شہری کی پاکستان اور پاکستانی ہائی کمیشن کی یادیں

تصویر کے کاپی رائٹ Rajesh Joshi
Image caption ہری روشنی میں نہائی ہوئی عمارت میرے سامنے تھی جس پر پروجیکٹر کی مدد سے دو بڑے چاند تارے پروجیکٹ کیے گئے تھے

جیسے ہی ٹیکسی رکی سادہ لباس پہنے چار پانچ لوگوں نے ہمیں گھیر لیا، انہوں نے اپنا تعارف کرا‏ئے بغیر ہم سے ہمارا نام، پتہ اور پیشہ جاننا چاہا۔

سڑک پر اتنی کم روشنی تھی کہ ہمارے بارے میں معلومات حاصل کرنے کی جلدی میں ان لوگوں نے ہمارے چہرے دیکھنے کے لیے اپنے موبائل کی ٹارچ جلارکھی تھی۔ ہمارے لیے ان کے چہرے دیکھنا ناممکن تھا۔ ان میں ایک کے ہاتھ میں ویڈیو کیمرا تھا جو شاید ثبوت کے طور پر ہماری ویڈیو بنانے میں مصروف تھا۔

یہ پڑھتے وقت شاید آپ کو لگے کہ میں گائے کے تحفظ کے لیے بنے انتہا پسند گروہوں یا 'گاؤ رکشک' گروپوں کے ہاتھ لگنے کے اپنے تجربے کی تفصیلات پیش کررہا ہوں۔

لیکن جمعے کے شام جنوبی دلی کے علاقے چاناکیے پوری میں جو کچھ ہوا اس کے بعد گائے کے تحفظ کے لیے بنے انتہا پسند گروہوں اور پولیس کے درمیان تفریق کرنا مشکل ہوگیا ہے۔

پاکستانی سفارتخانے کے باہر سکیورٹی سخت تھی۔ سڑکوں پر ناکہ بندی کردی گئی تھی۔ سفارتخانے میں داخل ہونے کا راستہ پوچھوں تو پولیس والے ایک گیٹ سے دوسرے گیٹ بھیج دیتے تھے۔

مہمانوں میں لکھاری اور انسانی حقوق کے کارکن سیدہ سیدن، محمد علی جناح کی اہلیہ رتی جناح کی زندگی پر کتاب لکھنے والی شیلاریڈی سمیت بی بی سی کے دیگر رپورٹرز، سفارتکار، فوجی افسران اور تاجر شامل تھے۔

یہ بھی پڑھیے

'باجی تم پاکستان کیوں گئیں'

وہ شادی جو 14 فروری کی وجہ سے نہ ہوسکی۔۔۔

انڈیا پاکستان: ٹی وی پر جنگ کس طرح لڑی گئی

’سیاح نہ آئے تو بچوں کو کیا کھلائیں گے؟‘

تصویر کے کاپی رائٹ pakhcnewdelhi.org.pk

ہم سبھی کو اس بات کا اندازہ تو تھا کہ پاکستانی سفارتخانے کے باہر ہر آنے جانے والے پر نظر رکھی جاتی ہے۔ بالکل اسی طرح جیسے پاکستان میں ہر ہندوستانی کے ایک ایک سیکنڈ پر نظر رکھی جاتی ہے۔

لیکن کسی کو بھی اس طرح کے استقبال کی توقع نہیں تھی۔ شاید آزاد بھارت میں پہلی بار چاناکیے پوری کے ڈپلومیٹک انکلیو میں بغیر جھجک کے خفیہ ایجنسیوں کے لوگ ان گروپوں کی طرح سرے عام لوگوں کو پاکستانی ہائی کمیشن نہ جانے کی ہدایت دے رہے تھے اور ویڈیو بنا رہے تھے۔

میں پاکستانی ہائی کمیشن کے باہر کھڑا تھا پر مجھے ایسا کیوں لگ رہا تھا کہ میں پاکستان میں ہوں جہاں گلی کے موڑ پر کھڑا ہر شخص مجھ پر نگاہ رکھنے کے لیے ہی تعینات کیا گیا ہو۔

میں نہ وجہ جاننا چاہی تو آنکھوں سے اشارہ کر کے بولے 'میں بتا رہا ہوں آپ کو اس بار آپ بھی مت جانا۔ میں یہ بات کسی وجہ سے کہہ رہا ہوں۔ اس بار نہیں جانا چاہیے'۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption غور سے سنا تو اسی نغمے کی دھن پر پاکستان کے بانی قاعد اعظم محمد علی جناح کی تعریف ہو رہی تھی

وہاں موجود سبھی لوگ سنجیدہ ہوگئے اور سب کو لگا اتنی سنجیدگی سے کہی جانے والی بات کو سنجیدگی سے نہ لینا بیوقوفی ہوگی۔ مجھے لگا یہ ضروری ہے کہ مجھے یہاں کچھ بولنا چاہیے۔ ميں نے تھوڑی جنجھلاہٹ والے لہجے اور ذرا تیز آواز میں کہا 'خوف نہ پیدا کریں۔ جس کو جانا ہے اس کو بغیر کسی ڈر کے جانا چاہیے۔ جو نہیں جانا چاہتا وہ نہ جائے'۔

خوف کی اسی چادر کو پھاڑنا میرے لیے پاکستان میں بھی ضروری ہوگیا تھا کیونکہ ایک عام پاکستانی آپ کو دوستی کی گرم جوشی کا وہ تحفہ دیتا ہے جسے آپ کبھی نہیں بھلا سکتے۔ آپ کے عام پاکستانی دوست آپ کو لزیز کھانوں کی دعوتوں میں لطیفے سنا سنا کر پاگل کر دیں گے، وہ کلاسیکی موسیقی کی وہ باریکیاں سمجھائیں گے کہ آپ کا منہ کھلا کا کھلا رہ جائے گا۔ اس لیے میرے لیے اس خوف کی چادر کو ہٹانا ضروری ہوگیا تھا۔

آپ اگر لاہور میں ٹانگے پر سوار ہوں اور اترتے وقت بتائیں کہ آپ انڈیا سے آئے ہیں تو ٹانگے والا آپ سے کرایا نہیں لے گا۔ حلوائی آپ کو مفت میں مٹھائیاں کھلا کر ہی مانے گا اور تحفے دینے میں بے حد خوشی حاصل کرنے والے ہر شخص کو آپ یہی کہتے سنے گیں ' آپ ہمارے مہمان ہیں جی'۔

پر اسلام آبادم میں ہر مقام پر پیچھا کرنے والے 'اسٹیبلشمینٹ' کے وہ گم نام سائے اس پاکستانی گرم جوشی کے 'اینٹی تھیسس' تھے۔ خوف کی چادر کو پھاڑنے کی نیت سے ایک دن میں نے اسلام آباد کے نواح تک میرے پیچھے پیچھے آنے والے ایک سائے سے بات کرنے کا فیصلہ کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

'اسلام علیکم جناب' میں نے مسکرا کر سلام کیا۔

'وعلکیم سلام' جواب اتنے ہی ادب سے آیا۔

'سر جی آپ لوگ تو پورا دن تھک جاتے ہوں گے'، یہ کہہ کر میں نے بات چیت شروع کرنی چاہی۔

' کیا کریں جی، بیوی بچے بھی تو پالنے ہیں جی'۔

لیکن اگلے ہی لمحے جیسے ہی اس سپاہی کو اپنی ذمہ داری کا احساس ہوا وہ اپنے سخت لہجے میں بو لا 'آپ کتنی دیر اور ہیں یہاں پر'۔

لیکن جمعے کی شام بھارتی حکومت کی جانب سے بھیجے گئے خفیہ ادارے کے ان لوگوں کے گھیرے کو پار کر کے میں نے پاکستانی ہائی کمیشن کے گیٹ کے اندر قدم رکھا تو ہری روشنی میں نہائی ہوئی عمارت میرے سامنے تھی جس پر پروجیکٹر کی مدد سے دو بڑے چاند تارے پروجیکٹ کیے گئے تھے۔

کچھ ہی دیر میں اعلان کیا گیا کہ اب انڈیا اور پاکستان کا قومی ترانہ بجایا جائے گا، سبھی لوگ ادب کے ساتھ کھڑے ہوجائیں۔ اس کے بعد پاکستان اور انڈیا کے قومی ترانوں کی دھن بجی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption آپ اگر لاہور میں ٹانگے پر سوار ہوں اور اترتے وقت بتائیں کہ آپ انڈیا سے آئے ہیں تو ٹانگے والا آپ سے کرایا نہیں لے گا

یہاں تک تو سب ٹھیک تھا۔ جب مہمان کھانے کی میزوں کی طرف بڑھے تو مجھے اپنے کانوں پر یقین نہیں ہوا۔

لاؤڈ سپیکر پر جو گانا بجا اسے ہم 15 اگست اور 26 جنوری کے موقع پر سکول میں گایا کرتے تھے۔ عادت کے مطابق میں گنگانے لگا۔

دے دی ہمیں آزادی بنا کھڑک بنا ڈھال

سابرمتی کے سنت تونے کر دیا کمال

آندھی میں بھی جلتی رہی گاندھی تیری مشعل

سابرمتی کے سنت تو نے کر دیا کمال

غور سے سنا تو اسی نغمے کی دھن پر پاکستان کے بانی قائد اعظم محمد علی جناح کی تعریف ہو رہی تھی۔

یوں دی ہمیں آزادی کہ دنیا ہوئی حیران

اے قائد اعظم تیرا احسان ہے احسان

ہر سمت مسلمانوں پر چھائی تھی تباہی

ملک اپنا تھا اور غیروں کے ہاتھوں میں تھی شاہی

ایسے میں اٹھا دین محمد کا سپاہی

اور نعرہ تکبیر سے دی تونے گواہی

میں سکتے کی حالت میں کھڑا تھا۔ آہستہ آہستہ گانے کی آواز دھیمی پڑتی گئی اور میرے ذہن میں پاکستانی شاعرہ فہمیدہ ریاض کی یہ نظم ابھرنے لگی:

تم بالکل ہم جیسے نکلے

اب تک کہاں چھپے تھے بھائی

وہ مورکھتا، وہ گھامڑپن

جس میں نے صدی گنوائی

آخر پہنچی دوار تمہارے

ارے بدھائی، ارے بدھائی

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں