کمسن ہندو لڑکیوں کا مبینہ اغوا: ’اگر انصاف نہیں ملا تو خود کو گولی مار لوں گا‘

ہری لال
Image caption اگر انصاف نہ ملا تو خود کو گولی مار لوں گا: ہری لعل

سندھ میں ہندو کمیونٹی سے تعلق رکھنے والی دو بہنوں کے مبینہ اغوا کے خلاف بعض شہروں میں احتجاجی مظاہرے جاری ہیں، پیر کو ڈھرکی کے علاوہ پنو عاقل اور میرپور ماتھیلو میں بھی احتجاج کیا گیا، جن میں لڑکیوں کی بازیابی کا مطالبہ کیا گیا۔

ڈہرکی میں پولیس سٹیشن کے باہر احتجاج کے دوران ان کے والد نے خود پر پیٹرول چھڑک کر خود سوزی کی کوشش کی لیکن لوگوں نے انہیں گھیر کے بچا لیا اور صبر کرنے کی تلقین کی۔

لڑکیوں کے والد ہری لعل کا کہنا ہے کہ ’اگر انصاف نہیں ملا تو خود کو گولی مار لوں گا‘۔

یہ بھی پڑھیے

’میڈم۔۔۔ یقین رکھیے یہ مودی کا انڈیا نہیں۔۔۔‘

ہندو بچے اسلامیات پڑھنے پر مجبور کیوں؟

پاکستان میں ہندو خواتین سکھ بننے پر مجبور

ہری لعل درزی کا کام کرتے ہیں۔ ان کے 6 بچے ہیں جن میں سے تین بیٹیاں ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ایک ہفتہ گزر چکا ہے لیکن مسئلہ حل نہیں ہو رہا ہے اور کوئی ان کی بات سننے کو تیار نہیں ہے۔

’ہم غریب لوگ ہیں اسی لیے کوئی وڈیرہ یا پولیس ہماری بات نہیں سن رہا حالانکہ ہمارے ساتھ ظلم ہوا ہے۔ پولیس آج نہیں صبح اور صبح کو شام تک ملزمان کی گرفتاری کا کہہ کر ٹال دیتی ہے، ان کی لڑکیوں سے ملاقات تک نہیں کرائی جارہی، ایک کی عمر 13 سال اور دوسری کی عمر 15 سال ہے۔

دوسری جانب سندھ پولیس کی ایک ٹیم پنجاب کے ضلع رحیم یار خان میں گئی تھی، جہاں سے یہ خبریں آئیں تھیں کہ دونوں لڑکیوں نے تبدیلی مذہب کے بعد نکاح کرلیا ہے۔

خانپور سے ایک ویڈیو سامنے آئی تھی جس میں دونوں لڑکیاں سنی تحریک کے دفتر میں موجود ہیں اور سنی تحریک پنجاب کے جنرل سیکریٹری جواد قادری بتا رہے تھے کہ دونوں نے درگاہ بھرچونڈی میں مذہب تبدیل کرلیا ہے جس کے بعد دونوں کا نکاح کرا دیا گیا ہے۔ تاہم دونوں لڑکیوں کے نکاح نامے میں شناختی کارڈ نمبر نہیں تحریر کیا گیا۔

صوبائی وزیر اقلیتی امور ہری رام کشوری لال نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ کچھ گرفتاریاں عمل میں آئی ہیں جب تک لڑکیاں بازیاب ہوکر بیان نہیں دیتیں اس وقت تک یہ نہیں پتہ چل سکتا کہ حقیقت کیا ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ لڑکیوں کی خانپور منتقلی سے لگتا ہے کہ اس کے پیچھے یقیناً کوئی منصوبہ بندی ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ میں لڑکیوں کی جانب سے ایک آئینی درخواست بھی دائر کی گئی ہے، جس میں انھوں نے کہا ہے کہ ’مذہب تبدیلی کے بعد ان کا نام نادیہ اور آسیہ رکھا گیا ہے اور انہوں نے بغیر کسی خوف و خطرے کے مذہب اسلام قبول کیا ہے اب انہیں اور ان کے شوہروں صفدر اور برکت کو تحفظ فراہم کیا جائے۔‘

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں