باجوڑ میں انٹرنیٹ سروس کی بحالی، نوجوان پر جوش

موبائل تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption ڈیٹا سروس کی بحالی سے باجوڑ میں ایک جشن جیسا سماں ہے اور بالخصوص نوجوان طبقے میں بہت زیادہ جوش و خروش نظر آرہا ہے

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے قبائلی ضلع باجوڑ میں تقریباً دو سال پہلے سکیورٹی خدشات کے باعث معطل کی گئی انٹرنیٹ ڈیٹا سروس دوبارہ بحال کردیی گئی ہے۔

وزیراعظم پاکستان عمران خان نے پیر کو ٹوئٹر پر اپنے ایک پیغام میں اعلان کیا کہ سابق فاٹا کو قومی دھارے میں شامل کرنے کے حوالے سے ایک اور وعدہ پورا کردیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ گذشتہ جمعے کو باجوڑ میں جلسہ عام میں عوام سے تھری جی سروس کی بحالی کا وعدہ کیا تھا اور آج سے وہاں یہ سہولت فراہم کردی گئی ہے۔

اس سے پہلے پیر کی صبح ہی سے لوگوں نے ضلع بھر میں موبائل فونز پر نظریں مرکوز کی ہوئی تھیں کہ کب انٹرنیٹ سروس بحال ہوتی ہے اور ان کا رابطہ دنیا سے قائم ہو جاتا ہے۔

نامہ نگار رفعت اللہ اروکزئی کے مطابق باجوڑ ایک باشندے بلال یاسر نے کہا کہ ’دوپہر تک جب کوئی سگنل نہیں آیا تو بیشتر لوگ مایوس ہونے لگے کہ شاید آج یہ کام نہ ہوسکے۔‘

یہ بھی پڑھیئے

باجوڑ جہاں 'اربوں کی تجارت' ہوتی تھی

’کالج جہاں سکیورٹی اہلکاروں کی جگہ تو ہے پر طلبا کی نہیں‘

تاہم انھوں نے کہا کہ چار بجے کے بعد اچانک موبائل فونز پر سنگل آنے شروع ہوئے جس سے لوگوں کے چہروں پر خوشی کے اثار نمایاں ہونے لگے۔

انھوں نے کہا کہ انٹرنیٹ سروس نہ ہونے کی وجہ سے باجوڑ میں ایسی صورتحال تھی کہ جیسے پورا علاقہ تاریکی میں ڈوبا ہوا ہو۔

انھوں نے کہا کہ علاقے کے زیادہ تر افراد بیرونی ممالک میں محنت مزدوری کرتے ہیں اور جنہیں پہلے اپنے عزیزو اقارب سے رابطہ کرنے میں بڑی مشکلات درپیش تھیں۔ تاہم ان کے بقول چونکہ انٹرنیٹ سستی سہولت ہے اور اس کے ذریعے سے ویڈیو کال اور رابطوں میں آسانی ہوجاتی ہے لہٰذا ایسے افراد کو اس سہولت سے کافی فائدہ پہنچے گا۔

باجوڑ کے ایک اور رہائشی میاں جاوید رحمان نے کہا کہ ڈیٹا سروس کی بحالی سے باجوڑ میں ایک جشن جیسا سماں ہے اور بالخصوص نوجوان طبقے میں بہت زیادہ جوش و خروش نظر آرہا ہے۔

Image caption علاقے کے زیادہ تر افراد بیرونی ممالک میں محنت مزدوری کرتے ہیں اور جنہیں پہلے اپنے عزیزو اقارب سے رابطہ کرنے میں بڑی مشکلات درپیش تھیں

انھوں نے کہا کہ اس سہولت سے کاروباری طبقے کو بھی رابطوں میں آسانی ہوگی اور یہاں ایسے افراد بھی ہے جن کا کاروبار صرف اور صرف انٹرنیٹ سے وابستہ ہے۔

یہ آمر بھی اہم ہے کہ پندرہ مارچ کو وزیراعظم عمران خان نے باجوڑ کا ایک مختصر دورہ کیا تھا جہاں جلسے عام میں عوام نے ان سے تھری جی سروس کی بحالی کا مطالبہ کیا تھا۔ تاہم وزیراعظم نے وعدہ کیا تھا کہ اسلام آباد واپس جاکر وہ اس بات کا جائزہ لیں گے اور بہت جلد باجوڑ میں ڈیٹا سروس بحالی کردی جائے گی۔

اس کے علاوہ وزیراعلی خیبر پختونخوا محمود خان نے بھی گذشتہ روز ٹوئٹر پر جاری ایک پیغام میں کہا تھا کہ وزیراعظم کی طرف سے باجوڑ کے عوام سے جو وعدہ کیا گیا تھا اس پر تمام کام مکمل کرلیا گیا ہے اور پیر سے وہاں باقاعدہ طورپر ڈیٹا سروس کو بحال کیا جارہا ہے۔

خیال رہے کہ باجوڑ میں پہلی مرتبہ 2005 میں موبائل فون سروس کا آغاز کیا گیا تھا تاہم اس وقت انٹرنیٹ سروس نہیں تھی۔ لیکن علاقے میں دہشت گردی اور شدت پسندی کے باعث موبائل فون سروس بھی بار بار معطل ہوتی رہی۔

تاہم علاقے میں انٹرنیٹ سروس پہلی مرتبہ دسمبر 2016 میں اس وقت شروع ہوئی جب مختلف موبائل فون کمپنیوں نے تھری جی سروس کا باقاعدہ آغاز کیا۔ لیکن یہ سہولت بمشکل تین مہینے ہی جاری رہی کیونکہ بعض سکیورٹی خدشات اور امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال کے باعث ڈیٹا سروس بند کردی گئی۔

اسی بارے میں