’اسلام میں جبر نہیں، ذمہ داروں کے خلاف کارروائی ہوگی: فواد چوہدری

فواد چوہدری

پاکستان کے صوبے سندھ میں دو کم سن ہندو لڑکیوں کے مبینہ اغوا اور مذہب کی تبدیلی کے حوالے سے ملک کے وزیر اطلاعات فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ اگر حقیقتاً ایسا ہوا ہے تو یہ غیر قانونی ہے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

فواد چوہدری نے کہا کہ جبری طور ہر مذہب تبدیل کروانے کا معاملہ سیاسی نہیں بلکہ سماجی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مذہب کی جبری تبدیلی کے حوالے سے رکن اسمبلی رمیش کمار ایک قانونی مسودیہ پارلیمان میں پیش کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ان کے بقول مذہب کی جبری تبدیلی ویسے ہی غلط ہے کیونکہ یہ اسلام کے بنیادی اصولوں کے ہی خلاف ہے کیونکہ اسلام میں کوئی جبر نہیں ہے۔

اسی بارے میں

گھوٹکی میں نو عمر ہندو لڑکیوں کا مبینہ ’اغوا‘

مذہب کی جبری تبدیلی پرقانون کی منظوری

سندھ حکومت جبری مذہب کے قانون پر نظر ثانی کے لیے تیار

’مر جاؤں گی لیکن اپنا مذہب نہیں بدلوں گی‘

یاد رہے کہ سندھ میں ہندو کمیونٹی سے تعلق رکھنے والی دو بہنوں کے مبینہ اغوا کے خلاف بعض شہروں میں احتجاجی مظاہرے جاری ہیں، پیر کو ڈھرکی کے علاوہ پنو عاقل اور میرپور ماتھیلو میں بھی احتجاج کیا گیا، جن میں لڑکیوں کی بازیابی کا مطالبہ کیا گیا۔ ڈہرکی میں پولیس سٹیشن کے باہر احتجاج کے دوران ان کے والد نے خود پر پیٹرول چھڑک کر خود سوزی کی کوشش کی لیکن لوگوں نے انہیں گھیر کے بچا لیا اور صبر کرنے کی تلقین کی۔

لڑکیوں کے والد ہری لعل کا کہنا ہے کہ 'اگر انصاف نہیں ملا تو خود کو گولی مار لوں گا'۔

وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ اگرچہ لڑکیوں نے کہا ہے کہ وہ اپنی مرضی سے گئی ہیں اور انھوں نے نکاح کیا ہے تاہم ان کی کم عمر کے باعث قانونی معاملات کو دیکھتے ہوئے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی ہوگی۔

بی بی سی کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ پاکستان میں مجموعی طور پر اقلتیوں کے معاملے میں کوئی مسئلہ ہے نہیں۔ یہ سندھ کا صوبائی مسئلہ ہے جہاں اس حوالے قانون سازی بھی کی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں اقلیتوں کو حقوق کی مکمل آزادی حاصل ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption فواد چوہدری نے کہا کہ اگر کسی کا بھی جبری گمشدگی کے ساتھ کوئی لنک نکلتا ہے تو تحریکِ انصاف کی حکومت اس کو فوری جیل کا راستہ دکھائے گی

جب ان کو یاد دلایا گیا کہ 2018 کہ انتخابات میں بھرچونڈی شریف کے پیر میاں مٹھو کی پاکستان تحریکِ انصاف میں شمولیت کو سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر نشاندہی کے بعد رد کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ ’مجھے نہیں معلوم ایسا ہوا ہے لیکن مجھے یقین ہے کہ وزیرِ اعظم عمران خان نے اس پر فوری اقدام اٹھاتے ہوئے ان کی شمولیت کو رد کیا ہوگا۔‘بھرچونڈی شریف کے میاں مٹھو کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں فواد چوہدری نے کہا کہ ’اگر کسی کا بھی جبری گمشدگی کے ساتھ کوئی لنک نکلتا ہے تو تحریکِ انصاف کی حکومت اس کو فوری جیل کا راستہ دکھائے گی۔ ہم نے پہلے سے بڑے بدمعاشوں کو جیل تک پہنچایا ہے۔‘ فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی پاکستان کے جھنڈے میں موجود سفید رنگ کی بہت عزت کرتی ہے اور حالیہ حکومت کے لیے اقلیتوں کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کچھ عرصہ قبل پنجاب کے وزیر اطلاعات وزیر فیاض الحسن چوہان کو ہندو برادری کے بارے میں نامناسب بات کرنے پر کرنے پر ان کو عہدے سے ہٹا دیا گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ایک ائنی درخواست کے مطابق لڑکیوں نے مذہب تبدیلی کے بعد ان کا نام نادیہ اور آسیہ رکھا گیا ہے اور انہوں نے بغیر کسی خوف و خطرے کے مذہب اسلام قبول کیا ہے

شدت پسند تنظمیوں اور خصوصاً مسعود اظہر کے بارے میں پوچھے گئے سوال پر ان کا کہنا تھا فی الحال ہمیں علم نہیں کہ وہ کہاں ہیں لیکن زیادہ اہم بات یہ ہے کہ اس معاملے میں ہمارا موقف واضح ہے ’ہم پاکستان میں کسی کو بھی ریاست کی رٹ چیلنج کرنے نہیں دیں گے اور نہ ہی پاکستان کی سر زمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال ہونے دیں گے۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان میں موجود ہر شخص پر پاکستان کا قانون لاگو ہوگا۔

دوسری جانب اسلام آباد ہائی کورٹ میں لڑکیوں کی جانب سے ایک آئینی درخواست بھی دائر کی گئی ہے، جس میں انھوں نے کہا ہے کہ 'مذہب تبدیلی کے بعد ان کا نام نادیہ اور آسیہ رکھا گیا ہے اور انہوں نے بغیر کسی خوف و خطرے کے مذہب اسلام قبول کیا ہے اب انہیں اور ان کے شوہروں صفدر اور برکت کو تحفظ فراہم کیا جائے۔'

اسی بارے میں