عاصمہ شیرازی کا کالم: نئے پاکستان کی پرانی ہندو لڑکیاں

پاکستان
Image caption منگل کی صبح دونوں بہنوں کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیش کیا گیا

اگر محمد بن قاسم نہ ہوتے تو سندھ کی دھرتی کی بیٹیوں کا کیا حال ہوتا۔ یہاں سے ایک بیٹی روئی اور سمندر پار محمد بن قاسم گھوڑے کو ایڑھ لگاتے اپنی مسلمان بہن کو بچانے سندھ آ نکلے۔

راجا داہر کو باور کرایا کہ مسلمان اپنی عزتوں کی حفاظت کرنا جانتے ہیں۔ اب خدا کی کرنی دیکھیے کہ سندھ میں کئی محمد بن قاسم جنم لے چکے ہیں اور کم عمر ہندو لڑکیوں کو دھڑا دھڑ مسلمان کر رہے ہیں۔ اب ایسے میں بھلا محمد بن قاسم کا کیا قصور؟

سندھ دھرتی پر میاں مٹھو جیسے روحانی پیشوا کے ہوتے ہوئے کم از کم اسلام کو کوئی خطرہ نہیں بلکہ اسلام محفوظ ترین ہاتھوں میں ہے۔

اسے حوالے سے مزید پڑھیے

’اگر انصاف نہیں ملا تو خود کو گولی مار لوں گا‘

’اسلام میں جبر نہیں، ذمہ داروں کے خلاف کارروائی ہوگی`

’میڈم۔۔۔ یقین رکھیے یہ مودی کا انڈیا نہیں۔۔۔‘

Image caption اس واقع کے بعد ہندو برادری نے بھی احتجاج کیا

ان کی درگاہ نوجوان اور کم عمر لڑکے، لڑکیوں سے ہمہ وقت بھری رہتی ہے اور جوق در جوق یہ کم سن مشرف بہ ایمان ہوتے ہیں۔ ان کا سیاسی اثرورسوخ کبھی کم نہیں ہوا۔

پہلے پیپلز پارٹی کے ساتھ تھے لیکن ان کی قابلیت کے پیش نظر پی پی نے انتخابی ٹکٹ نہیں دیا اور پھر۔۔۔ تبدیلی ان کا کچھ نا کر سکی اور وہ تبدیلی کا کچھ نا کر سکے تو۔۔ گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس (جی ڈی اے) کی طرف کھچے چلے آئے۔

سندھ میں ہندوؤں کی کافی تعداد موجود ہے جو پاکستان کے پرچم کے سفید رنگ کی بھر پور نمائندگی کرتے ہیں۔ مگر آئے روز ہندو کم سن لڑکیوں کے اغوا اور پھر اخباری اطلاعات کے مطابق صرف مخصوص درگاہوں پر ہی ان کی تبدیلی مذہب اور پھر اُن کے نکاح ایک معمول سا بن گئے ہیں۔

یہ کیا بات ہے کہ سندھ میں صرف کم سن اور خوبصورت لڑکیاں ہی اپنا مذہب چھوڑنا چاہتی ہیں۔۔ ایسا کیوں ہے؟

لڑکے اور خاص کر پختہ عمر کے افراد تبدیلی مذہب کی طرف نہیں آ رہے؟ یہ سوال ہندو کونسل کے سربراہ ڈاکٹر رمیش کمار مستقل اٹھا رہے ہیں۔

حال ہی میں گھوٹکی کی دو بہنوں رینا اور روینا کے مبینہ اغوا اور جبری تبدیلی مذہب نے سندھ کی ہندو کمیونٹی میں غم اور غصے کی فضا پیدا کر دی ہے۔

صورتحال یہ ہے کہ اخباری اطلاعات کے مطابق صرف عمر کوٹ میں ہی ہر ماہ لگ بھگ 25 جبری شادیاں رپورٹ ہوتی ہیں جبکہ پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق کی 2016 کی رپورٹ کے مطابق سندھ میں جبری تبدیلی مذہب کے واقعات بڑھتے چلے جا رہے ہیں۔

اس حالیہ کیس میں گھوٹکی کی دونوں بہنوں کے باپ کی روتی پیٹتی ویڈیو سامنے آئی ہے۔

بے بسی اور بے کسی نے سوشل میڈیا پر کئی ضمیروں کو جنجھوڑا ہے تاہم نہیں جنھنجوڑا تو اُن کو جومحض مذہب کی جبری تبدیلی کو اسلام کی بہت بڑی خدمت سمجھتے ہیں۔

یہ سوچنا ہو گا کہ آخر قیامِ پاکستان کے وقت 23 فی صد اقلیتیں سکڑ کر اب تقریباً 5 فی صد کیوں رہ گئی ہیں؟

سوچنا ہو گا کہ قومی پرچم کے سفید رنگ کا تناسب کم کیوں ہوتا چلا جا رہا ہے؟ سوچنا ہوگا کہ ہم اقلیتوں کو اہم مقام اور تحفظ کیوں نہیں دے پا رہے؟

Image caption مبینہ طور پر اغوا ہونے والی لڑکیوں کے والد ہری لعل کا کہنا ہے کہ اگر انصاف نہیں ملا تو خود کو گولی مار لوں گا

سندھ میں قانون کے مطابق عمر اٹھارہ سال کم سنی کہلاتی ہے جس کے باعث شادی بھی غیر قانونی تصور ہوتی ہے لہٰذا یہ دونوں بہنیں پنجاب لائی گئیں جہاں ان کے نکاح ہوئے۔

یاد رہے کہ سندھ میں دو سال قبل مذہب کی جبری تبدیلی کی روک تھام کا بل بھی منظور ہوا تاہم بے پناہ مخالفت کے باعث وہ بل گورنر صاحب کی اوطاق میں ہی پڑا رہ گیا۔

پیپلز پارٹی دوبارہ بل لانے کی جرات کرے گی یا نہیں اور کیا قومی اسمبلی اس سلسلے میں کوئی پیش رفت کرے گی ؟ یہ ایک اہم سوال ہے۔

عاصمہ شیرازی کے دیگر کالم پڑھیے

بریگیڈیئر ریٹائرڈ اسد منیر بنام ریاست

کوٹ لکھپت کا قیدی نمبر 4470

باجوہ ڈاکٹرائن یا عمرانی نظریہ، فیصلہ ہو چکا

انڈیا کو جواب، پاکستان کے آپشنز کیا ہیں؟

ہم ایسے منافقانہ رویوں کا شکار ہیں کہ جس کی مثال نہیں ملتی۔ ہم چاہتے ہیں کہ دنیا ہم جیسی ہو جائے مگر ہم دنیا جیسے نہ ہوں۔

'لا اکراہ فی الدین' یعنی دین میں کوئی جبر نہیں، اسلام کا بنیادی اصول ٹھہرا جو اس بات کا غماز ہے کہ زبردستی تبدیلی مذہب سے کم از کم اسلام کی خدمت تو قطعی نہیں ہو رہی۔

حال ہی میں نیوزی لینڈ میں مسجد پر حملے کے بعد جو اقدامات وہاں کی حکومت اور وزیراعظم نے کیے، صبح و شام رطب اللسان اپنے ملک میں ایسی مثالیں بنائے جانے پر معذرت خواہ نظر آتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption حال ہی میں نیوزی لینڈ میں مسجد پر حملے کے بعد ملک کی وزیر اعظم جاسنڈا آرڈرن کے اقدامات کی دنیا بھر میں پذیرائی ہوئی

حجاب اوڑھنے، اذان نشر کرانے جیسے اقدامات کی تعریف کرنے والوں سے محض ایک سوال کر لیں کہ کیا ہم اپنے ایوانوں میں عیسائی، ہندو یا احمدیوں کے ساتھ صرف یک جہتی ہی کر سکتے ہیں ۔۔۔۔آوازیں بند ہو جائیں گی اور زبانیں گھگھیانا شروع کر دیں گی۔

اعمال کا دارومدار نیتوں پر کا پرچار کرنے والے آسان مذہب کو ہم اپنی کم فہمی سے مشکل بنا رہے ہیں، یہ جانتے بوجھتے کہ دلوں کو فتح کرنے والا مذہب کس طرح جبر کو جائز قرار دے سکتا ہے؟

وقت آ گیا ہے کہ جبری تبدیلی مذہب کی روک تھام اور اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے قانون سازی کی جائے تا کہ پاکستان واقعی ایک نیا نکور پاکستان بن جائے۔

ایسا پاکستان جہاں سب کی جان، مال اور عزتوں کی پاسدار ی ہو۔ ہندو ہوں یا مسلم، کسی بھی مذہب اور فرقے کے ہوں اپنے عقائد کے مطابق جی سکیں۔

اسی بارے میں