’بچیوں کی پیدائش کا ریکارڈ سِرے سے موجود ہی نہیں‘

و ہندو بہنوں کے مبینہ اغوا اور جبری طور پر مذہب قبول کرنے کے کیس
Image caption منگل کو دونوں بہنوں کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیش کیا گیا

’بچیوں کی پیدائش کا ریکارڈ سِرے سے موجود ہی نہیں‘

حال ہی میں گھوٹکی سے تعلق رکھنے والی دو بہنوں کو مبینہ طور پر جبری طور پر مذہب تبدیل کرنے اور زبردستی شادی کرانے کے معاملے میں حکام کے لیے ان دو ہندو لڑکیوں کی عمر کا تعین مشکل ہو رہا ہے کیونکہ ان کی پیدائش کا کوئی ریکارڈ سرے سے موجود ہی نہیں ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے پاکستان میں رجسٹریشن کے ادارے نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی یا نادرا کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ریکارڈ کے مطابق لڑکیوں کے والد ہری لعل نے اب تک صرف اپنے تین بڑے بچوں چمن داس، کویتا بائی، اور وجیش کمار کا باقاعدہ اندارج کروایا ہے۔

تاہم لڑکیوں کے گھر سے غائب ہو جانے کے دو روز بعد 22 مارچ کو ان کے والد ڈھرکی میں واقع نادرا رجسٹریشن سینٹر گئے اور اپنے مزید چھ غیر اندارج شدہ بچوں کے اندارج کی درخواست جمع کروائی جو سنہ 2002 سے سنہ 2011 کے دوران پیدا ہوئے۔

اس درخواست کے مطابق ہری لعل نے اپنی 'اغوا' ہونے والی ایک بیٹی روینا بائی کی تاریخِ پیدائش 3 جنوری 2004 جبکہ رینا بائی کی تاریخِ پیدائش یکم جون 2005 درج کروائی ہے۔

'نئے بچوں کے اندراج کے بعد نادرا نے درخواست فارم ہری لعل کے حوالے کرتے ہوئے ان تمام تفصیلات کی تصدیق کسی سرکاری افسر سے کروانے اور نئی پالیسی کے تحت ایک تصدیق نامہ برائے خاندانی کوائف جمع کروانے کی ہدایت کی۔'

ان کے مطابق ان تمام دستاویزات کے مکمل ہونے پر بچوں کا باقاعدہ اندارج ہونا تھا تاہم ابھی تک یہ جمع نہیں کروائے گئے ہیں۔

تصدیق نامہ برائے خاندانی کوائف جمع کروانا ان والدین کی ذمہ داری ہوتی ہے جن کے بچوں کی تعداد سات سے زیادہ ہو۔

نادرا ترجمان نے وضاحت کی کہ سوشل میڈیا پر موجود 'نادرا ریکارڈ' درحقیقت صرف درخواست فارم ہے جو تصدیق کروانے کی غرض سے ہری لعل کو دیا گیا اور اس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیے

’اگر انصاف نہیں ملا تو خود کو گولی مار لوں گا‘

’اسلام میں جبر نہیں، ذمہ داروں کے خلاف کارروائی ہوگی`

سندھ حکومت جبری مذہب کے قانون پر نظر ثانی کے لیے تیار

اسلام آباد ہائی کورٹ نے منگل کو گھوٹکی میں دو ہندو بہنوں کے مبینہ اغوا اور جبری طور پر اسلام قبول کرنے کے کیس کی سماعت کے دوران حکم جاری کرتے ہوئے دونوں لڑکیوں کو ڈسٹرکٹ کمشنر اسلام آباد کے حوالے کردیا ہے۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ کی سربراہی میں آج سماعت کورٹ روم نمبر ایک میں ہوئی۔ عدالت میں گھوٹکی سے تعلق رکھنے والی دونوں بہنیں، روینہ اور رینہ، سیکیورٹی اہلکاروں سمیت 10 بجے عدالت پہنچیں جہاں ذرائع ابلاغ سے تعلق رکھنے والے تمام چینلز پہلے سے موجود تھے۔

عدالت میں سندھ پولیس کے اہلکار دونوں لڑکیوں کے بھائی شمس داس کی طرف سے سندھی اور اردو میں پولیس کو جمع کرائی گئی ایف آئی آر کی کاپی سمیت موجود تھے۔

جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ یہ ایک اہم معاملہ ہے اور اس بارے میں وفاقی حکومت بھی جوابدہ ہے۔

واقعے کے بعد ان دونوں بہنوں کے بھائی کی طرف سے ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔ اس بارے میں سوشل میڈیا پر دونوں لڑکیوں کے والد، ہری لعل کا گھوٹکی پولیس سٹیشن کے سامنے احتجاج اور خود سوزی کی دھمکی کی ویڈیو وائرل ہوگئی۔

عدالت کا کہنا تھا کہ ہمیں صاف شفاف ریکارڈ جمع کرائے جائیں اور اس معاملے پر جو رپورٹ حال ہی میں وزیرِ اعظم عمران خان نے طلب کی تھی وہی عدالت میں بھی جمع کی جائے۔

جسٹس اطہر من اللہ نے تحقیقات مکمل ہونے تک روینہ اور رینہ کو شہید بینظیر بھٹو وومن کرائسس سینٹر میں مہمان کے طور پر منتقل کرتے ہوئے حکم دیا کہ ان کی حفاظت وفاقی حکومت کی ذمہ داری ہوگی اور وہاں قیام کے دوران اجازت کے بغیر کسی کو ان سے ملنے کی اجازت نہیں ہو گی۔

انھوں نے دونوں لڑکیوں کی عمروں پر بھی سوال کیا جس کے جواب میں لڑکیوں کے وکیل عمیر بلوچ نے کہا کہ ان کی عمریں 18 اور 20 سال ہیں۔

Image caption مبینہ طور پر اغوا ہونے والی لڑکیوں کے والد ہری لعل کا کہنا ہے کہ اگر انصاف نہیں ملا تو خود کو گولی مار لوں گا

مبینہ اغوا کاروں کو جانتا ہوں‘

لڑکیوں کے گھر سے غائب ہو جانے کے واقعے کی ایف آئی آر کے متن کے مطابق 20 مارچ کو پانچ سے چھ افراد شام پانچ بجے ان کے گھر ہتھیاروں سمیت داخل ہوئے اور ان کی دونوں بیٹیوں کو زور زبردستی کرکے لے گئے۔

ایف آئی آر کے مطابق والد نے پانچ افراد میں سے تین کو پہچان لیا جن میں سے ایک صفدر علی اور دوسرے کا نام برکت، اور تیسرا احمد شاہ ہے۔ والد کے مطابق ان میں سے دو صفدر علی اور برکت نامی لڑکوں نے ان کی بیٹیوں سے زبردستی نکاح کیا ہے۔

لیکن ساتھ ہی دونوں بہنوں کی طرف سے ایک ویڈیو بیان بھی سامنے آیا جس میں انھوں نے کہا کہ ہم نے اپنی مرضی سے اسلام قبول کیا ہے۔ ایک روز پہلے، 25 مارچ کو، لڑکیوں کی طرف سے ایڈووکیٹ عمیر بلوچ نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی جس کے مطابق ان کو ’ہراساں کیا جارہا ہے۔‘

آج سماعت کے دوران بھی ان کے وکیل نے کہا کہ ’میڈیا کی طرف سے منفی پروپیگینڈا کیا جارہا ہے۔‘

عدالت کے باہر بی بی سی سے بات کرتے ہوئے عمیر بلوچ نے کہا کہ ’ہمارا پٹیشن دائر کرنے کا مقصد ہراساں نہ کیے جانے اور حفاظت فراہم کرنے کی حد تک تھا کیونکہ بچیوں نے اپنی مرضی سے اسلام قبول کیا ہے اور اپنی مرضی سے شادی بھی کی ہے۔اسلام آباد پولیس ان کو ہراساں کررہی تھی اور گرفتار کرنے کی کوشش کررہی تھی۔ ہم نے ڈی سی اسلام آباد سے حفاظت کی درخواست کی تھی لیکن وہ ناکام رہے۔‘

Image caption دونوں بہنوں کی طرف سے ایک ویڈیو بیان بھی سامنے آیا جس میں انھوں نے کہا کہ ہم نے اپنی مرضی سے اسلام قبول کیا ہے

جب ان سے پوچھا گیا کہ ہر بار جبری طور پر مذہب قبول کرانے کے کیس میں ڈہرکی کی خانقاہِ عالیہ قادریہ بھرچونڈی شریف کے منتظم میاں مٹھو کا نام کیوں سامنے آتا ہے؟

تو جواب میں عمیر بلوچ نے کہا: ’کیونکہ وہ حق، سچ کی لڑائی لڑ رہے ہیں۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’ہم نے عدالت سے التجا کی ہے کہ اگر وہ چاہیں تو ان کی عمر معلوم کرنے کے لیے ایج ڈیٹیرمینیشن ٹیسٹ کرنے کا حکم دے سکتی ہے۔"

اس کیس کی سماعت 2 اپریل تک ملتوی کر دی گئی ہے۔

اسی بارے میں