’مائی لارڈ رجسٹری نہیں کیش جمع کراؤں گا‘

اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق صدر اور پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری اور ان کی بہن فریال تالپور کی ضمانت قبل از گرفتاری منظور کرتے ہوئے اُنھیں دس دس لاکھ روپے کے دو ضمانتی مچلکے جمع کروانے کا حکم دیا ہے۔

ان دونوں ملزمان کی ضمانت قبل از گرفتاری جعلی بینک اکاؤنٹس سے مبینہ طور پر اربوں روپے بیرون ملک سمگل کرنے کے مقدمات میں دی گئی ہے۔ سابق صدر اور ان کی بہن کو دس اپریل تک ضمانت دی گئی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ قومی احتساب بیورو کو بھی نوٹس جاری کردیے ہیں۔

جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے ڈویژن بینچ نے ملزمان کی طرف سے ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواستوں کی سماعت کی۔

یہ بھی پڑھیے

بے نامی کھاتے اور بد نامی

’ہماری کمزوری تھی کہ نیب کا کالا قانون ختم نہ کر سکے‘

’آمدن سے زائد اثاثے‘: سپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی گرفتار

جعلی اکاونٹس کیس: زرداری کی درخواستیں مسترد

جعلی اکاؤنٹس: 172 نام ای سی ایل میں ڈالنے پر نظر ثانی

ملزمان کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ان کے موکلوں کو مختلف مقدمات میں قومی احتساب بیورو کی طرف سے تین سمن جاری کیے گئے ہیں۔ اُنھوں نے کہا کہ خدشہ ہے کہ نیب کے حکام سابق صدر آصف علی زرداری اور فریال تالپور کو کسی بھی مقدمے میں گرفتار کرلیں گے اس لیے اُنھیں ضمانت دی جائے۔

سابق صدر آصف علی زرداری اور ان کی بہن فریال تالپور کی درخواستوں کی سماعت کرنے والے جج صاحبان اور کمرہ عدالت میں موجود درجنوں افراد بھی مسکرائے بغیر نہ رہ سکے جب ملزمان کے وکیل نے کہا کہ وہ دس دس لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے گھر کی رجسٹری کے بجائے کیش کی صورت میں یا سیونگ سرٹیفکیٹ کی صورت میں جمع کروائیں گے۔

کمرہ عدالت میں وکلاء سابق صدر کے ساتھ سیلفاں بناتے رہے۔ کچھ دیر تک تو یہ معاملہ چلتا رپا پھر عدالتی اہلمد کی نشاندہی پر سیکیورٹی کے اہلکار وہاں پہنچ گئے اور انھوں نے وکلا کو ایسا کرنے سے منع کیا۔

وکلا کا موقف ہے کہ اُنھوں نے آصف علی زرداری کے ساتھ اس وقت سلفیاں بنائیں جب جج صاحبان عدالت میں نہیں پہنچے تھے۔

جب تک ملزمان کی طرف سے ضمانتی مچلکے جمع نہیں کروائے گئے اس وقت تک وہاں پر موجود ضلعی انتظامیہ اور پولیس کے حکام نے ان کو جانے کی اجازت نہیں دی۔

سابق صدر کی گاڑی کو احاطہ عدالت میں جانے کی اجازت نہیں دی گئی اور جب وہ گاڑی سے اترے تو ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ جیسے اُنھیں چلنے میں دشواری پیش آرہی ہے۔

مبصرین کے مطابق جعلی بینک اکاونٹس کیس میں سندھ ہائی کورٹ اور پھر سپریم کورٹ سے ریلیف نہ ملنے کی وجہ سے آصف علی زرداری پریشان دکھائی دیے ہیں۔

دوسری طرف اسلام آباد کی احتساب عدالت نے جعلی بینک اکاؤنٹس سے مبینہ طور پر اربوں روپے بیرون ملک سمگل کرنے کے مقدمے میں گرفتار ہونے والے پانچ ملزمان کا مزید جسمانی ریمانڈ دینے کی استدعا مسترد کردی ہے اور اُنھیں جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا ہے۔ ان ملزمان میں آفتاب میمن، جبار میمن اور حسن میمن بھی شامل ہیں۔

اسی بارے میں