قبائلی اضلاع میں خاصہ دار اور لیوی فورس سراپا احتجاج

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
خاصہ دار اور لیوی فورس نے بطور احتجاج پولیو کی ڈیوٹی دینے سے انکار کردیا ہے

پاکستان میں وفاق کے زیرانتظام قبائلی علاقوں کے خیبر پختونخوا میں انضمام کے بعد وہاں اصلاحات کا عمل تو جاری ہے لیکن بہتر منصوبہ بندی اور قوانین کے فقدان کے باعث بیشتر معاملات سابق فاٹا کی طرح نہ صرف مبہم اور پیچیدہ ہیں بلکہ اس سے قبائلی اضلاع میں مایوسی کی کیفیت بھی پیدا ہورہی ہے۔

سابق فاٹا میں مقامی سطح پر امن و امان کی تمام تر ذمہ داری خاصہ دار اور لیوی فورس کے ذمے تھی اور اس ضمن میں انہیں قانونی تحفظ بھی حاصل تھا لیکن انضمام کے بعد ان کے سروس سٹرکچر کے بارے میں تاحال حکومت کی طرف سے کوئی واضح فارمولہ سامنے نہیں آیا ہے جس سے ان میں مایوسی بڑھتی جارہی ہے۔

خاصہ دار اور لیوی فورس کے اہلکاروں نے اپنے مسائل کے حل کے لیے گذشتہ چند ہفتوں سے تمام قبائلی اضلاع میں احتجاجی سلسلے کا آغاز کیا ہوا ہے جس میں روز بروز شدت دیکھی جارہی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ نئے نظام میں انہیں اپنا وجود نظر نہیں آرہا ہے اور نہ حکومت اس سلسلےمیں سنجیدگی کا مظاہرہ کر رہی ہے لہٰذا ان کے پاس اپنا حق مانگنے کے لیے احتجاج کے سوا اور کوئی چارہ باقی نہیں رہتا۔

اہلکاروں کے مطابق ان کی طرف سے حکومت کو 22 مطالبات پیش کیے گئے ہیں جن میں سرفہرست خاصہ دار اور لیوی فورس کو تمام تر مراعات کے ساتھ محکمہ پولیس میں ضم کرنا شامل ہے۔

حکومت نے خاصہ دار اور لیوی اہلکاروں کے مطالبات کے حل کے لیے ان سے مذاکرات کا سلسلہ بھی جاری رکھا ہوا ہے لیکن تاحال انہیں کوئی کامیابی نہیں ملی ہے۔

مختلف سرکاری اعداد و شمار کے مطابق تمام قبائلی اضلاع میں خاصہ دار اور لیوی فورس کی کل تعداد 25000 ہزار کے لگ بھگ بتائی جاتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

قبائلی علاقے میں کارروائی، پولیس اور خاصہ داروں میں جھڑپ

لیویز اہلکاروں کے قتل کے خلاف احتجاج، پی ٹی ایم بھی شریک

سابقہ ’قبائلی علاقوں‘ کا نئے دور کی طرف سفر: اہم تبدیلیاں

کورٹ کچہری سے قبائیلیوں کی توقعات؟

سابقہ فاٹا میں قبیلے کی مانیں یا قانون کی؟

لیکن لیوی اور خاصہ فورس میں فرق کیا ہے اور ان کی ذمہ داریاں کیا کیا ہیں۔ اس بارے میں ذیل میں مختصر جائزہ پیش کیا جارہا ہے۔

خاصہ دار فورس

خاصہ دار فورس کو سابق فاٹا میں ایک کمیونٹی پولیس کی حیثیت حاصل تھی۔ ان کی بھرتی مختلف قبائل سے کی جاتی ہے اور ہر قبیلے کو ان کی آبادی کے لحاظ سے خاصہ دار دیے جاتے تھے۔

خاصہ دار اہلکاروں کی بھرتی کے لیے کوئی باقاعدہ نظام یا قوانین موجود نہیں جیسے عام طور پر پولیس یا فوج میں ہوتا ہے بلکہ کوئی بھی قبائلی شخص خواہ وہ نوجوان ہو یا زیادہ عمر کے اس فورس کا حصہ بن سکتا ہے۔

اس فورس کو مراعاتی فورس بھی کہا جاتا ہے۔ مثلاً اگر سابق فاٹا میں پولیٹکل انتظامیہ یا حکومت کسی بااثر قبائلی سردار یا ملک سے کوئی اہم کام لیتی تو اس کو بدلے میں نوازنے کے طور پر دو یا تین خاصہ دار دیے جاتے اور اس طرح وہ اپنے قبیلے یا خاندان میں کسی عزیز یا رشتہ دار یا اپنے بیٹے کو خاصہ دار فورس میں بھرتی کرتا اور اس طرح ان کی نوکری لگ جاتی۔

عام طور پر جب کوئی خاصہ دار اہلکار ریٹائر ہو جاتا ہے تو اس کی جگہ ان کے بیٹے کو بھرتی کیا جاتا اور اس طرح یہ سلسلہ نسل درنسل چلتا رہتا ہے۔

اس فورس میں بھرتی ہونے والے افراد کے لیے پہلے زیادہ تربیت لازم نہیں ہوا کرتی تھی۔ چونکہ یہ فورس قبائل پر مشتمل ہوتی تھی اور قبائلی علاقوں میں ویسے بھی اکثریت افراد بندوق چلانے اور علاقائی روایات اور طور طریقوں سے واقف ہوتے ہیں لہٰذا ان کے لیے ٹریننگ کی شرط نہیں ہوتی تھی۔ تاہم قبائلی علاقوں میں دہشت گردی کے خلاف جنگ شروع ہوجانے کے بعد خاصہ دار فورس کی تربیت پر بھی توجہ دی جانے لگی۔

خاصہ دار فورس کی تنخواؤں اور دیگر مراعات کے حوالے سے کوئی باقاعدہ ڈھانچہ موجود نہیں۔ عام طور پر ان کی تنخواؤئیں برائے نام ہی ہوتی ہیں جبکہ ان کو بندوق اور وردی بھی حکومت کی طرف سے نہیں دی جاتی بلکہ انہیں خود اپنی جیب سے خریدنا پڑتی ہے۔ یہ فورس سابق کالا قانون ایف سی آر کے تحت پولیٹکل ایجنٹ کے ماتحت فرائض سرانجام دیتی رہی ہے۔

ایک عام خاصہ دار اہلکار کی تنخواہ دس سے پندرہ ہزار کے لک بھگ بتائی جاتی ہے۔ تاہم آج کل اس میں کچھ اضافہ کیا گیا ہے۔

سابق فاٹا میں خاصہ دار کی نوکریاں کھلے عام فروخت ہوتی رہیں جس کی وجہ سے اکثر اوقات اس فورس میں گھپلوں کی اطلاعات آتی رہی ہیں۔ اس طرح بھی ممکن تھا کہ کوئی خاصہ دار کسی سے یکمشت لاکھ یا دو لاکھ روپے لے کر اپنی نوکری فروخت کرتا اور پھر اسی پوسٹ پر کسی دوسرے کو بھرتی کیا جاتا۔

اکثر اوقات سابق فاٹا کے ’بادشاہ‘ سمجھنے جانے والے پولیٹکل ایجنٹ پر خاصہ دار کی نوکریاں فروخت کرنے کے الزامات لگتے رہے ہیں۔ اس فورس کی بنیادی ذمہ داری امن و امان برقرار رکھنا اور حکومتی تنصیبات کی حفاظت کرنا ہے۔

لیوی فورس

لیوی فورس خاصہ دار اہلکاروں کے مقابلے ایک باقاعدہ فورس کے طور پر جانی جاتی ہے۔ تاہم دونوں کی ودری اور دیگر مراعات ایک جیسی بتائی جاتی ہیں۔

لیوی فورس کا وجود ویسے تو برطانوی راج میں ہوا لیکن پاکستان بننے کے بعد یہ فورس بلوچستان اور سابق صوبہ سرحد میں بھی فرائض سرانجام دیتی رہی ہے۔ تاہم سابق فاٹا میں پہلے لیوی فورس تمام ایجنسیوں میں تعینات نہیں تھی بلکہ چند علاقوں تک ہی محدود تھی۔ لیکن سابق فوجی صدر جنرل پرویز مشرف کے دور میں جب دہشت گردی کی آگ قبائلی علاقوں تک پھیلی تو اس فورس کو زیادہ تر ایجنسیوں تک توسیع دی گئی۔

قبائلی علاقوں میں یہ فورس لیوی ایکٹ کے تحت پولیٹکل ایجنٹ کے ماتحت کام کرتی رہی ہے اور اس کی ذمہ داری سرحدی علاقوں سمیت تمام علاقوں میں امن و امان اور حکومتی عمل داری کو برقرار رکھنا ہے۔

خاصہ دار کے برعکس لیوی فورس کا باقاعدہ سروس ڈھانچہ موجود ہے اور انہیں قانونی تحفظ بھی حاصل ہے۔ اگرچہ ان کی تنخوائیں بھی برائے نام ہی ہوتی ہے لیکن ریٹائرمنٹ کے بعد ان کو پنشن اور دیگر مراعات حاصل ہوتی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ لیوی اہلکاروں کو بندوق، اسلحہ اور وردی وغیرہ بھی حکومت کی طرف سے فراہم کی جاتی ہے۔

قبائلی علاقوں میں کئی سالوں تک اہم انتظامی امور پر فرائض سرانجام دینے والے سابق سیکرٹری سکیورٹی برائے فاٹا غلام قادر خان کا کہنا ہے کہ سابق نواز شریف حکومت میں سرتاج عزیز کی سربراہی میں قائم ہونے والی فاٹا اصلاحاتی کمیٹی میں خاصہ دار فورس کو ختم کرنے اور لیوی کو پولیس میں ضم کرنے کی تجویز دی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت میں بھی دونوں فورسز کے ضمن میں واضح فارمولہ سامنے نہیں آرہا جس سے کشمکش کی صورتحال برقرار ہے۔

انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت اور خیبر حکومت کو مل کر انضمام کے عمل کو منتقی انجام تک پہنچانا ہوگا ورنہ قبائل میں احساس محرومی بڑھتی جائیگی۔

اسی بارے میں