نازیہ اقبال: پشتو گلوکارہ کی بیٹیوں سے زیادتی کے جرم میں ان کے بھائی کو سزائے موت

ریپ تصویر کے کاپی رائٹ iStock
Image caption گزشتہ برس نازیہ اقبال کی طرف سے روات پولیس سٹیشن میں مقدمہ درج کیا گیا تھا جس میں ان کے بھائی پر الزام لگایا گیا کہ وہ انکی دو کمسن بچیوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بناتا رہا ہے (فائل فوٹو)

پاکستان کے صوبہ پنجاب کی ایک مقامی عدالت نے پشتو کی ممتاز گلوکارہ نازیہ اقبال کی کمسن بیٹیوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کے جرم میں ان کے سگے بھائی کو سزائے موت اور چھ لاکھ روپے جرمانے کی سزا کا حکم سنایا ہے۔

راولپنڈی کے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج طاہر اسلم نے جرم ثابت ہونے پر ملزم افتخار علی کو سزائے موت اور جرمانے کی سزا کا حکم سنایا۔ ملزم افتخار علی نامور پشتو گلوکارہ نازیہ اقبال کے حقیقی بھائی ہیں۔

گزشتہ برس نازیہ اقبال کی طرف سے روات پولیس سٹیشن میں مقدمہ درج کیا گیا تھا جس میں ان کے بھائی پر الزام لگایا گیا کہ وہ انکی دو کمسن بچیوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بناتا رہا ہے۔

دریں اثناء گلوکارہ نازیہ اقبال نے راولپنڈی میں عدالت کے سامنے سے جاری کردہ ایک وڈیو پیغام میں کہا ہے کہ آج وہ سرخرو ہوگئی ہیں اور انہیں عدالت کی طرف سے انصاف ملا جس کے تحت ان کے بھائی کو موت اور جرمانے کی سزا ہوئی۔

تاہم انہوں نے کہا کہ انہیں جرمانہ نہیں چاہیے، انہیں انصاف درکار تھا جو انہیں مل گیا ہے اور وہ اس پر اللہ تعالی کی شکر گزار ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

گلوکارہ کا بھائی پر بچیوں کے ساتھ جنسی زیادتی کا الزام

قصور ریپ کیسز: عائشہ سے زینب تک

’پاکستان میں ہر روز 9 بچے جنسی زیادتی کا شکار‘

انہوں نے وڈیو پیغام میں روتے ہوئے کہا کہ وہ آج ان لوگوں کو مبارک باد پیش کرنا چاہتی ہیں جو ان کی بچیوں کے ساتھ جنسی زیادتی پر خفا اور رنجیدہ تھے۔

خیال رہے کہ گلوکارہ نازیہ اقبال گزشتہ کئی سالوں سے اپنے چھ بچوں کے ہمراہ راولپنڈی میں مقیم ہیں۔

گزشتہ سال پشتو گلوکارہ نے تھانہ روات میں اپنے بھائی افتخار کے خلاف ایک ایف آئی آر درج کروائی تھی جس میں ان کی دو کمسن بیٹیوں کے ساتھ جنسی زیادتی کا الزام لگایا گیا تھا۔

پولیس نے بعد میں ملزم کو گرفتار کرلیا تھا جبکہ میڈیکل رپورٹس میں بھی بچیوں کے ساتھ جنسی زیادتی کی تصدیق ہوئی تھی۔

متعلقہ تھانے میں درج کروائی جانے والی ایف آئی آر میں نازیہ اقبال نے کہا تھا ’بیٹیاں مجھ سے اکثر شکایتیں کرتی تھیں کہ ماموں ہمارے ساتھ زیادتی کرتا ہے، مجھے بچیوں کی باتوں پر یقین نہیں ہوا۔ بروز ہفتہ بوقت قریب آٹھ بجے میں بچوں کا ناشتہ بنانے اٹھی تو ساتھ والے کمرے سے میری چھوٹی بیٹی کے رونے کی آواز آئی۔‘

نازیہ کے مطابق انھوں نے کمرے میں جا کر دیکھا تو ان کا بھائی ان کی بیٹی کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنا رہا تھا جبکہ ان کی بڑی بیٹی کے مطابق ’ماموں ہمیں اپنے موبائل پر بچوں کو ذبح کرنے کی ویڈیوز دکھاتا تھا اور کہتا تھا کہ اگر کسی کو بتایا تو جان سے مار دوں گا۔‘

اس واقعے کے بعد نازیہ اور ان کی بچیاں شدید صدمے کی کیفیت میں مبتلا ہوگئیں تھیں۔

اسی بارے میں