#BhuttoKaKarawan: بلاول بھٹو کی نوازشریف کو سندھ آنے کی دعوت

بلاول تصویر کے کاپی رائٹ TWITTER/@BBhuttoZardari
Image caption یہ ٹرین مارچ ایسے وقت میں کیا جارہا ہے جب بے نامی اکاؤنٹس کا مقدمہ کراچی سے اسلام آباد منتقل کیا گیا ہے

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو کی قیادت میں مہنگائی کے خلاف ٹرین مارچ بھیریا روڈ اسٹیشن پہنچ گیا ہے۔ جہاں پر خطاب کرتے ہوئے انہوں نے نوازشریف کو سندھ آنے کی دعوت دی ہے۔

چیئرمین بلاول بھٹو کا کہنا تھا ’نوازشریف سندھ آئیں ہم انہیں ویلکم کرینگے، ہم این آئی سی وی ڈی میں ان کا علاج کروائیں گے اور صحت کا خیال رکھیں گے۔‘

بلاول بھٹو نے اس ٹرین مارچ کا آغاز منگل کی صبح کراچی سے کیا تھا۔ اس مارچ کو ’کارروانِ بھٹو‘ قرار دیا گیا ہے اور کہا ہے کہ یہ مارچ مہنگائی کے خلاف ہے۔

ٹرین مارچ کے لیے خصوصی ٹرین منگل کی صبح کینٹ اسٹیشن سے روانہ ہوئی، جو کراچی کے مختلف اسٹیشنوں سے ہوتی ہوئی ٹھٹہ کے سٹیشن جنگ شاہی پہنچی اور وہاں سے حیدرآباد اور ٹنڈو آدم سے ہوتی ہوئی نوابشاہ سٹیشن پر رکی جہاں بلاول بھٹو اپنے آبائی شہر میں رات کو قیام کیا۔ توقع ہے کہ وہ شام تک لاڑکانہ پہنچ جائیں گے۔

اس مارچ کے دوران وہ 25 مقامات پر کارکنوں اور ہمدردوں سے خطاب کریں گے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے چھوٹے بڑے شہروں کے اسٹیشنوں پر استقبالی کیمپ لگائے گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

’ہماری کمزوری تھی کہ نیب کا کالا قانون ختم نہ کر سکے‘

عمران میں اتنی ہمت نہیں: بلاول بھٹو زرداری

زرداری اور فریال تالپور کے خلاف مقدمہ راولپنڈی منتقل

آٹھ بوگیوں پر مشتمل ٹرین میں ایک بوگی خصوصی طور پر بلاول بھٹو جبکہ ایک بوگی صحافیوں کے لیے مختص کی گئی ہے۔ اس ٹرین میں صوبائی وزرا بھی شامل ہیں۔

یہ ٹرین مارچ ایسے وقت میں کیا جارہا ہے جب بے نامی اکاؤنٹس کا مقدمہ کراچی سے اسلام آباد منتقل کیا گیا ہے، جہاں بلاول بھٹو اور ان کے والد آصف علی زرداری جے آئی ٹی کے روبرو اپنا بیان قلم بند کرا چکے ہیں۔

ان مقدمات میں آصف علی زرداری اور ان کی ہمشیرہ فریال تالپور ضمانت پر رہا ہیں۔

ٹرین مارچ کے دوران کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ عام انتخابات میں پنجاب پولیس نے ان کا راستہ روکا، پشاور میں نکلنے نہیں دیا، لیاری میں حملہ کروایا گیا بعد میں لیاری میں رینجرز نے کام دکھایا اور آج بھی فارم 45 لاپتہ ہیں۔ ’لاڑکانہ میں بھی انہوں نے کوشش کی لیکن ان سے نہیں ہوا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ TWITTER/@MediaCellPPP
Image caption پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے چھوٹے بڑے شہروں کے اسٹیشنوں پر استقبالی کیمپ لگائے گئے ہیں

بلاول بھٹو کا کہنا تھا جو الیکشن میں دھاندلی کے ذریعے حاصل نہیں کرسکے وہ نیب کے ذریعے حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ یہ نیب مشرف کا بنایا ہوا قانون ہے اور پرویز مشرف نے اپنی مرضی کی حکومت بنانے کے لئے نیب کا استعمال کیا۔

’وہ سمجھتے ہیں وہ ہمیں ڈرا لیں گے اور ہم ڈر جائیں گے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ بھٹو کا نواسہ جمہوریت کا دفاع نہیں کرے گا؟ یہ کیسے ہوسکتا ہے؟ ہم چار اپریل کو جمع ہو کر پوری دُنیا کو پیغام دیں گے کہ بھٹو اور بینظیر کے جانثار موجود ہیں۔‘

وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اس ٹرین مارچ کے بارے میں تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’آج کراچی سے دنیا کے پہلے ابو بچاؤ ٹرین مارچ کا آغاز ہوا ہے، پہلی تحریک جو کرپشن کو قانونی تحفظ کے لیے شروع کی جا رہی ہے۔‘

سینئر صحافی اور تجزیہ کار ضیاالدین احمد کا کہنا ہے کہ سیاسی جماعتوں کے لیے یہ ضروری ہوتا ہے کہ اشوز کے ذریعے اپنے ورکرز کو متحرک اور سرگرم رکھیں ورنہ جماعت کی بقا نہیں رہتی۔ اس مارچ کا تعلق یقیناً مقدمات سے ہے لیکن پیپلز پارٹی کی قیادت عدالتوں میں جاتی ہے، وہاں مقدمات کا سامنا بھی کر رہے ہیں اور کہیں یہ نہیں لگتا کہ وہ عدالت کا بائیکاٹ کریں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ TWITTER/@BBhuttoZardari

’ذوالقفار علی بھٹو سے لے کر آج تک کونسا ایسا فیصلہ ہے جس کے بارے میں کہا گیا ہو کہ ججوں نے درست فیصلہ دیا ہے، تب سے ایگزیکیٹو نے عدلیہ کو استعمال کیا ہے کبھی اپنے مخالفین کو غدار قرار دینے کے لیے یا پھر عوام کی نظروں میں یہ بتانے کے لیے کہ یہ تو غلط لوگ ہیں۔‘

ضیاالدین احمد کا کہنا ہے کہ نواز شریف جب پہلی مرتبہ وزیر عظم بنے تھے اور عمران خان پہلی مرتبہ وزیر اعظم بنے ہیں، دونوں کا مخالفین سے رویہ ایک جیسا ہی ہے۔ اسٹیبلشمنٹ نے جو نواز شریف سے کروایا اب وہ عمران خان سے کروانا چاہتے ہیں۔

سینئر صحافی مظہر عباس کا کہنا ہے کہ بلاول بھٹو نے اس مارچ میں ایک بڑا سیاسی جوا کھیلا ہے جس میں وہ دیکھنا چاہ رہے ہیں کہ کس حد تک ان کی سندھ میں پذیرائی برقرار ہے اور اگلے مرحلے میں جب وہ پنجاب یا خیبر پختون خواہ کا رخ کریں گے تو ان کو کتنی پذیرائی ملے گی، وہ یہ دیکھنا بھی چاہتے ہیں اور پیغام بھی دینا چاہ رہے ہیں۔

’نیب میں مقدمات میں تیزی نظر آرہی ہے۔ بین السطور میں نظر یہی آرہا ہے کہ بلاول بھٹو نہیں تو آصف علی زرداری اور فرہال تالپور کی گرفتاری کے امکانات بڑھتے جا رہے ہیں اور بلاول اپنی طاقت کا مظاہرے کرکے کوئی نہ کوئی ریلیف لینا چاہ رہے ہیں۔

یاد رہے کہ بلاول بھٹو کا یہ پہلا ٹرین مارچ ہے اس سے قبل بینظیر بھٹو اور نواز شریف بھی ٹرین مارچ کرچکے ہیں جبکہ بینظیر بھٹو کے مارچ کا رخ پنجاب کی طرف ہوتا تھا۔

مظہر عباس کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی کی قیادت نے ذہنی طور پر یہ تسلیم کرلیا ہے کہ جب تک کوئی بڑی تبدیلی نہیں آتی انہیں پنجاب میں پذیرائی نہیں ملے گی، وہاں جو لوگ تحریک انصاف میں گئے ان میں سے اکثر پیپلز پارٹی والے تھے اور فی الحال ایسا کوئی تاثر نہیں ملتا کہ وہ واپس آرہے ہیں۔

دوسری بڑی جماعت مسلم لیگ ن ہے جس کی وہاں جڑیں موجود ہیں اس صورتحال میں پیپلز پارٹی کو وہاں گنجائش نہیں مل رہی۔

اسی بارے میں