خواتین کے خلاف جرائم: ’مروجہ قوانین میں ترامیم کی ضرورت ہے‘

خاتون پر تشدد تصویر کے کاپی رائٹ Thinkstock

رواں ماہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں پیش آئے ایک واقعہ کی ویڈیو منظر عام پر آئی جس میں ظاہری طور پر تشدد کا شکار ایک خاتون مبینہ تشدد اور زیادتی کی تفصیلات بتاتے ہوئے گڑگڑا کر وزیر اعلیٰ پنجاب اور متعلقہ حکام سے انصاف کی اپیل کرتی دکھائی دیں۔

زار و قطار روتی یہ خاتون اپنے علاقے کی چند بااثر افراد کا نام لے کر الزام عائد کرتی ہیں کہ کس طرح انھوں نے ان پر تشدد کیا اور ان کو برہنہ کر کے گلی میں پھرایا گیا۔

وہ بتاتی ہیں کہ محلے کے دیگر افراد اس واقعہ کے عینی شاہد ہیں مگر ملزمان کے بااثر ہونے کی وجہ سے اس کی مدد نہیں کی گئی اور آخر میں وہ وزیر اعلیٰ و دیگر حکام سے کہتی ہیں کہ ان کو انصاف دلوایا جائے۔ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ خاتون کے چہرے پر تشدد کے واضح نشانات ہیں اور ان کے کپڑے بھی پھٹے ہوئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

خیبر پختوخوا کا پنجاب حکومت سے مدد لینے کا فیصلہ

خواتین پر تشدد روکنے کے لیے موبائل ایپ متعارف

انڈیا میں مسلمان خاندان پر تشدد کی ویڈیو وائرل

یہ ویڈیو جلد ہی سوشل میڈیا پر وائرل ہوتی ہے اور صارفین اس خاتون سے اظہار ہمدردی کرتے ہوئے حکومت اور اس کے نمائندوں سے ملزمان کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا مطالبہ کرتے ہیں۔ سماجی کارکن جبران ناصر نے بھی یہ ویڈیو شیئر کی اور کارروائی کا مطالبہ کیا۔

حکومت ایکشن لیتی ہے

22 مارچ کو وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری جبران ناصر کو جواب دیتے ہوئے مطلع کرتی ہیں کہ باغبان پورہ پولیس نے ان کو بتایا ہے کہ درحقیقت یہ دو گروہوں کے درمیان لڑائی تھی اور تشدد کی شکار متاثرہ خاتون نے مبینہ ملزمان سے 'صلح' کر لی ہے۔

’مصالحت نامہ‘ جو کہ انسانی حقوق کی وزیر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر پوسٹ کیا اس کے مطابق متاثرہ خاتون نے تمام ملزمان کو 'اللہ کے لیے معاف' کر دیا ہے۔ یہ مصالحت نامہ ایس پی آپریشنز لاہور کے آفس میں لکھا اور سائن کیا گیا۔

وزیر اعلیٰ پنجاب کے ترجمان ڈاکٹر شہباز گل نے بھی ٹویٹر کے ذریعے عوام کو آگاہ کیا کہ ’ہم اس کیس کو دیکھ رہے ہیں۔ خاتون نے ان (ملزمان) کو معاف کر دیا ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ @JIBRANNASIR

اس معاملے پر حکومتی ردِعمل اور وزراء اور مشیران کی جانب سے معافی نامہ دکھانے پر صارفین نے ان کو آڑے ہاتھوں لیا اور ان سے سوال کیا کہ کیا حکومتی ذمہ داری صرف اس حد تک ہی محدود ہے کے وحشیانہ تشدد کے بعد معافی نامہ پیش کر دیا جائے؟

تھانے کچہری کے چکر نہیں کاٹ سکتی

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے متاثرہ خاتون نے بتایا کہ اس واقعے کے بعد متعدد درخواستیں دینے کے باوجود پولیس ایف آئی آر درج نہیں کر رہی تھی تاہم بعد ازاں جب ملزمان کو پتا چلا کہ پرچہ ہونے والا ہے تو انھوں نے معافی مانگ کی اور میں نے انھیں معاف کر دیا۔

’میں روز روز تھانے کے چکر کاٹ کر تھک گئی تھی۔ ڈیڑھ ہفتہ ایسے گزرا کہ میں روز تھانے جاتی اور ذلیل ہوتی تھی کوئی میری بات نہیں سنتا تھا۔ محلے داروں نے بھی کہا کہ کہاں تک تھانوں کے چکر لگاؤ گی تمھارے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ملزمان سے ان کا پہلے بھی جھگڑا ہو چکا تھا اور ان کے خاوند ملزمان کی جانب سے درج کروائی گئے ایک مقدمہ کے نتیجے میں پہلے ہی پولیس کی حراست میں تھے۔ اس پرچے کے خلاف میں نے بھی عدالتی حکم کے تحت ملزمان کے خلاف پرچہ کروایا تھا اور اس کے بعد یہ مجھے دھمکیاں دے رہے تھے۔ ان دھمکیوں کے بارے میں بھی پولیس کو بتایا مگر کوئی بات نہیں سنی گئی۔

اس واقعے کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ پوری گلی میں مجھے گھسیٹا اور مارا گیا اور کپڑے پھاڑ کر برہنہ کیا گیا۔

’جب انھوں نے دیکھا کہ اب اوپر سے آرڈر ہوئے ہیں اور ایف آئی آر ہونی لازمی ہے تو انھوں نے کہا کہ ہم تمھارے خاوند کے خلاف دی گئی ایف آئی آر واپس لے لیتے ہیں۔ میرا خاوند اب رہا ہو چکا ہے۔‘

’وہ بدمعاش لوگ ہیں اور جب کسی نے ہمارا ساتھ ہی نہیں دینا تو ہم لڑائیاں مول کیوں لیں۔ میرے خاوند کہہ رہے تھے کہ وہ بدلہ لیں گے میں نے ان کو بھی سمجھایا کہ صبر کریں۔‘

’دل پریشان ہوتا ہے مگر جب اپنے چھوٹے چھوٹے بچوں کو دیکھتی ہوں تو آگے کچھ کرنے کی ہمت نہیں ہوتی۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

اس سوال کے جواب میں کہ آیا اب وہ ملزمان کے خلاف کارروائی کرنا چاہتی ہیں ان کا کہنا تھا کہ ’میرے ساتھ اتنا کچھ ہوا مگر کوئی کچھ نہیں کر سکا کل کو وہ مجھے مار بھی دیں گے اور بعد میں پیسے دے کر باہر آ جائیں گے تو میں کیا کر سکتی ہوں۔ کسی کا کچھ نہیں جانا بچے تو میرے دربدر ہوں گے۔‘

انھوں نے بتایا کہ محلے داورں نے مشورہ دیا ہے کہ اس محلے سے مکان چھوڑ جائیں یہ زیادہ بہتر ہے۔ ’اس واقعے کے بعد سے میں اپنے گھر نہیں گئی ہوں اور اب میں اپنے خاوند اور بچوں کے ساتھ اپنے دیور کے گھر رہ رہی ہوں۔ واپس نہیں جاؤں گی گھر بیچ کر کہیں اور لے لیں گے۔‘

قانون کیا کہتا ہے؟

ماہر قانون اسد جمال کا کہنا ہے کہ پاکستان کا قانون اس طرح کے جرائم میں فریقین کے مابین صلح کی اجازت دیتا ہے۔ 'عموماً اس طرح کے مقدمات میں جرم کا شکار ہونے والے افراد دباؤ کے تحت فیصلہ کرتے ہوئے جرم کا ارتکاب کرنے والے کو معاف کرتے ہیں۔'

حکومت کو اس طرح کے معاہدوں کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے اور اس کے لیے قوانین میں ترمیم کی ضرورت ہے کیوں کے اس طرح کے جرائم سے معاشرے میں بگاڑ پیدا ہوتا ہے۔

اسد جمال کہتے ہیں کہ ’اس طرح کے کیسیز میں یہ ہوتا ہے کہ فریقین بات طے کر کے آ جاتے ہیں اور ریاست خاموش تماشائی بن کر دیکھتی رہتی ہے۔ اس طرح کے واقعات کا اثر پورے معاشرے پر ہوتا ہے صرف جرم کا شکار ہونے والے پر نہیں۔‘

معاشرے کے خلاف ہونے والے جرم کے نتیجے میں اس طرح کے معافی نامے کو مسترد کرتے ہوئے حکومت کو چاہیے کہ فریق بن کر اس معاملے کو آگے لے کر چلا جائے۔

حکومتی ردِعمل

شہباز گل نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بالکل یہ ریاست کی ذمہ داری تھی کہ اس معاملے کو لے کر آگے چلتی اور اسی لیے ہم نے پولیس کو سخت سے سخت ایکشن لینے اور پرچہ درج کرنے کے احکامات دیے تھے۔

’یہ بدقسمتی ہے کہ پاکستان میں لوگ ایک دوسرے کا سوشل پریشر لیتے ہیں اور اس کے تحت صلح کر لی جاتی ہے۔‘

اس کیس کو درج ہونا تھا اگر وہ خاتون مبینہ ملزمان کو معاف نہ کرتیں۔

’ابھی بھی اگر وہ خاتون سمجھتی ہیں کہ ان کی ایف آئی آر درج ہونی چاہیے اور قانونی کارروائی ہونی چاہیے تو پنجاب حکومت ان کے لیے سب کچھ کرنے کو تیار ہے۔‘

اسی بارے میں