بٹگرام: ریپ اور بلیک میلنگ کے بعد طالب علم کی خود کشی

خودکشی تصویر کے کاپی رائٹ Mohammad Ishaq

صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع بٹگرام کے علاقے شانگلی بالا میں مقامی پولیس حکام اور رشتے داروں نے تصدیق کی ہے کہ نویں جماعت کے طالب علم محمد عدنان نے جنسی زیادتی کا نشانہ بننے کے بعد تصاویر اور ویڈیو کی بلیک میلنگ کے ڈر سے خودکشی کی تھی۔

یاد رہے کہ محمد عدنان کی پھندے سے لٹکی لاش 14 مارچ کو ملی تھی جبکہ پولیس اور اہلیاں علاقہ نے ملزمان کو 25 مارچ کو شناخت کرکے قانون کے حوالے کیا۔

محمد عدنان کے چچا محمد اسحاق نے بی بی سی کو بتایا کہ 14مارچ کی شام کو جب عدنان کا پتا نہیں چل رہا تھا تو ہم سب لوگ پریشان ہوئے اور پورے علاقے میں تلاش شروع کردی، کئی گھنٹے تک عدنان کو تلاش کرتے رہے۔ ’مگر رات گئے جب اس کے گھر کے اوپر والے حصے میں گئے تو اس کی لاش پنکھے سے لٹکی ہوئی تھی۔ اس موقع پر گھر میں کہرام مچ گیا تھا۔ اس کی لاش کو فوراً بٹگرام ہسپتال پہنچایا گیا۔‘

اسی بارے میں

بیٹی کا والد پر ریپ کا الزام، قانون کیا کہتا ہے؟

چھ ماہ میں ملک میں’بچوں کے ریپ اور قتل کے 768 واقعات‘

اسلام آباد: 11سالہ بچی کا ریپ کے بعد قتل، ملزمان گرفتار

’اس موقعے پر مجھے تو سمجھ نہیں آرہی تھی کہ عدنان کی خود کشی کی کیا وجہ ہوسکتی ہے۔ مگر اس کے ہم عمر کزن، دوست اور رشتہ داروں نے بتانا شروع کیا کہ کچھ عرصہ سے عدنان بہت پریشان رہتا تھا۔ جس پر مجھے شک ہوا اور میں نے ان سے تفصیلی بات کی تو پتا چلا کہ علاقے کے کچھ لوگوں کے پاس عدنان کی برہنہ تصاویر وغیرہ موجود ہیں۔ یہ صورتحال میرے لیے کسی طرح بھی قابل قبول نہیں تھی۔‘

محمد اسحاق کا کہنا تھا کہ انھوں نے عدنان کی موت کا باقاعدہ مقدمہ درج کروایا اور تدفین کے بعد عدنان کو پیش آنے واقعات کی تفتیش شروع کی تو ایک ایک کرکے کڑیاں ملنا شروع ہوگئیں۔ ’پتا چلا کہ گرفتار ملزمان نے عدنان کی تصاویر لینے کے بعد کچھ اور لوگوں کو بھی بھیجی تھیں۔‘

’جن لوگوں کو وہ تصاویر بھیجی گئی تھیں انھوں نے بھی عدنان کو بلیک میل کرنا شروع کردیا تھا۔ بے عزتی، خوف، ڈر، شرم کی بنا پر شاید عدنان کے پاس خودکشی کے علاوہ کوئی اور راستہ باقی نہیں بچا تھا۔‘

محمد اسحاق کہتے ہیں کہ کاش عدنان مجھے یا خاندان کے کسی اور بزرگ کو اس سے متعلق کچھ بھی بتا دیتا تو ہم اس معاملے کو فی الفور حل کردیتے تو شاید یہ نوبت نہ آتی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Mohammad Ishaq

محمد اسحاق کا کہنا تھا کہ پولیس نے ہم سے اس سارے واقعے میں بہت تعاون کیا۔ عدنان کی خودکشی اور پوسٹ مارٹم رپورٹ پر پولیس کو بھی شک ہوگیا تھا کہ معاملہ کچھ اور ہے۔ ’ہمیں جو بھی کڑی ملتی تھی وہ پولیس کو فراہم کرتے تھے اور پولیس اس پر مزید تفتیش کرتی تھی۔‘

محمد عدنان کے ایک کزن نے بی بی سی کو بتایا کہ جس روز محمد عدنان نے خود کشی کی تھی اس روز اس نے غیر معمولی طور پر اپنے والد کی قبر پر کئی گھنٹے گزارے تھے۔ ’میرا اس دوران دو مرتبہ قبرستان کے علاقے سے گزر ہوا تو میں نے دیکھا کہ وہ اپنے والد کی قبر کے سرہانے پر بیٹھا تھا اور کچھ پڑھ رہا تھا۔ میں سمجھا کہ وہ تلاوت کررہا ہوگا۔‘

’دوسری مرتبہ بھی جب اسی طرح دیکھا تو اس سے پوچھا کہ کیا بات ہے تو عدنان کا کہنا تھا کچھ نہیں بس ویسے ہی بیٹھا ہوں، گھر جاتا ہوں۔ رات کو پتا چلا کہ خودکشی کرلی ہے۔ شاید والد کی قبر پر بیٹھ کر اس نے خود پر گزرنے والے حالات بیان کیے ہوں۔ پتا نہیں وہ وہاں پر کیا کیا کرتا رہا اور اس پر کیا گزرتی رہی تھی۔‘

اہلیاں علاقہ کا رد عمل

محمد عدنان کے خاندان، علاقے کے لوگوں اور پولیس پر واضح ہوچکا تھا کہ عدنان کی خود کشی کی وجوہات کیا ہیں۔ اس پر علاقے کا ایک بڑا جرگہ ہوا۔ اس جرگے میں دونوں گرفتار ملزمان بھی پیش ہوئے اور جرگہ کی ایک ویڈیو میں واضح طور پر موجود ہیں۔ اس میں انھوں نے جرگہ کے سامنے اعتراف کیا ہے کہ انھوں نے گذشتہ سال اکتوبر میں محمد عدنان سے جنسی زیادتی کی تھی جس میں ایک ملزم محمد عدنان کو لے کر دوسرے ملزم کے پاس گیا اور وہاں پر وقوعہ پیش آیا تھا۔

جرگہ میں موجود ذرائع کے مطابق دونوں مرکزی ملزمان کے جرگہ کے سامنے اعتراف کے بعد ان کے والدین نے جرگہ کو ان کے مستقبل کا اختیار دیا اور ایک ملزم کے والد نے جرگہ کے سامنے کہا کہ وہ خود اپنے بیٹے کو اس گھناؤنے جرم کی سزا دیتا ہے۔

یہاں تک کہا گیا کہ اگر ان ملزم لڑکوں کو گولی مار دی جائے تو ان کے والدین کو کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔

مگر اس موقع پر محمد عدنان کے خاندان والوں نے فیصلہ کیا کہ دونوں ملزمان کو قانون کے حوالے کیا جائے گا اور قانون ان کو جو سزا دے گا وہ سب کو قبول ہوگی۔

جرگے میں دونوں ملزمان کے والدین اور خاندان والوں نے اعلان کیا کہ وہ دونوں کی کوئی بھی قانونی مدد نہیں کریں گے اور اگر کوئی ان کی قانونی مدد کرنے کی کوشش کرے گا تو اس کی بھی مخالفت کی جائے گئی۔

جرگے میں فیصلہ کیا گیا کہ اس واقعے کے ملزمان کو اس طرح نشان عبرت بنانے کی کوشش کی جائے گی کہ آئندہ علاقے میں کوئی اور اس طرح کی جرات نہ کرسکے۔

پولیس تفتیش اور کیس کی صورتحال

بٹگرام ضلع کے پولیس افسر عبدالرؤف بابر قیصرانی نے بی بی سی کو بتایا کہ محمد عدنان کی لاش جب ہسپتال لائی گئی تو اس وقت ہی سے محسوس ہورہا تھا کہ معاملہ صرف خودکشی نہیں ہے بلکہ اس کے بیک گراونڈ میں کوئی اور خوفناک معاملہ بھی موجود ہے۔

’پہلے مرحلے پر محمد عدنان کا موبائل فون حاصل کیا تو اس وقت ہی سمجھ میں آگیا کہ معاملہ کیا ہے۔ محمد عدنان کو گذشتہ سال اکتوبر میں جسنی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تھا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ محمد عدنان کے موبائل فون، عدنان کے خاندان اور علاقے کے لوگوں کی مدد سے ملزمان تک پہچنے میں مدد ملی اور جب دونوں ملزمان سے تفتیش کی اور ان کے موبائل فون قبضے میں لیے گئے تو اس میں سے عدنان کی برہنہ تصاویر بھی بر آمد ہوئیں اور یہ بھی پتا چلا کہ انھوں نے کس کس کو یہ تصاویر بھجی تھی۔ موبائل ڈیٹا سے یہ بھی پتاچلا کہ عدنان کو وہ کس طرح بلیک میل کررہے تھے اور وہ کس صوررتحال کا سامنا کررہا تھا۔

عبدالروف بابر قیصرانی کے مطابق اس وقت ایک ملزم جوڈیشنل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے۔ اس ملزم نے جوڈیشنل مجسٹریٹ کی عدالت میں بھی اقرار جرم کیا ہے جبکہ دوسرا ملزم اس وقت پولیس کی حراست میں ہے جس کو جلد ہی عدالت میں پیش کردیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ ملزمان کے خلاف قتل، بلیک میلنگ، اور زنا بالجبر کے تحت مقدمات درج کیے گے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Creative Stock
Image caption پاکستان میں ہر سال بچوں سے زیاتی کے واقعات میں اضافہ ہورہا ہے سال 2018 کے پہلے چھ ماہ میں رپورٹ ہونے والے کیسز کی تعداد بارہ تھی

پاکستان میں بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی

بچوں کے خلاف جنسی زیادتی پر کام کرنے والے ادارے ساحل کے مطابق پاکستان میں ہر سال بچوں سے زیاتی کے واقعات میں اضافہ ہورہا ہے۔

سال 2017 کی رپورٹ کے مطابق ہر سال نو واقعات کسی نہ کسی طرح رپورٹ ہوئے ہیں جبکہ سال 2018 کے پہلے چھ ماہ میں یہ تعداد بڑھ کر بارہ ہوچکی تھی۔ واضح رہے کہ یہ وہ تعداد ہے جو کہ رپورٹ ہوئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

پاکستان: پانچ سال میں بچوں سے زیادتی کے 17 ہزار واقعات

قصور ریپ کیسز: عائشہ سے زینب تک

’ہر روز اوسطاً 12 بچے مختلف جرائم کا شکار ہوتے ہیں‘

ساحل کے قانونی مشیر امیتاز سومرو ایڈووکیٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ 2009 سے لے کر اب تک ساحل کے پاس تقریباً 240 ایسے مقدمات موجود ہیں جن پر وہ متاثرین کو قانونی مدد فراہم کر رہے ہیں مگرابھی تک صرف 65 مقدمات کے فیصلے ہوچکے ہیں۔ ان کے مطابق ایسے واقعات بڑھنے کی ذمہ داری کسی ایک نہیں بلکہ مختلف عوامل پر عائد ہوتی ہے۔ جس میں سب سے پہلے تو متاثرہ بچے کا خاندان طویل عدالتی سسٹم سے اکتا کر راہ فرار اختیار کرتا ہے۔

’میرے مشاہدے میں پانچ سو مقدمات ایسے ہوں گے جن میں متاثرہ خاندان کے لواحقین نے راضی نامے کیے۔ اور اگر عدالتوں نے راضی نامے تسلیم نہیں کیے تو ثبوتوں کو عدالتوں میں چھپایا گیا جس بنا پر ملزمان بری اور رہا ہوتے ہیں۔‘

پشاور میں انسانی حقوق کے ممتاز کارکن قمر نسیم نے بی بی سی کو بتایا کہ بچوں اور بچیوں سے زیادتی کے واقعات تو پہلے بھی ہوتے تھے مگر اب ایک جو موبائل سے ویڈیو اور تصاویر بنا کر بلیک میل کرنے کے واقعات میں انتہائی اضافہ ہوچکا ہے۔

’خود تصور کریں پہلے بچے کو زیادتی کا نشانہ بنانا اور پھر مستقل بلیک میل کرنے کے لیے تصاویراور ویڈیو بنا لیں، اپنے دوستوں کو بھی بھیج دیں اور یہ سب مل کر ان کو بلیک میل کریں۔ وہ کس دردرناک عذاب کا سامنا کرتے ہوں گے یہ کوئی اور تصور بھی نہیں کرسکتا ہے۔‘

قمر نسیم کے مطابق پورے ملک اور صوبہ خیبر پختونخوا میں ایسے واقعات بہت بڑھ رہے ہیں۔ سوات، اٹک اور اب بٹگرام والا واقعہ تو رپورٹ ہوچکا ہے مگر کئی ایسے واقعات ہوں گے جو رپورٹ ہی نہیں ہوئے ہوں گے اور پتا نہیں متاثرہ بچے، بچیاں کس دردناک عذاب سے گزر رہے ہوں گے۔ اس معاملے سے نمٹنے کے لیے حکومت، ریاستی اداروں اور معاشرے کو مل کر سوچنا ہوگا۔

اسی بارے میں