’مشرف کی صحت بہتر رہی تو دو مئی کو پیش ہوں گے‘

مشرف تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے خلاف آئین شکنی کے مقدمے کی سماعت کرنے والی خصوصی عدالت نے ملزم دو مئی کو عدالت میں پیش ہو کر بیان ریکارڈ کروانے کا حکم دیا ہے۔

بلوچستان ہائی کورٹ کی چیف جسٹس طاہرہ صفدر کی سربراہی میں تین رکنی خصوصی عدالت نے کہا ہے کہ اگر ملزم مقررہ تاریخ تک عدالت میں پیش نہ ہوئے تو پھر عدالت اس بارے میں مناسب حکم جاری کرے گی۔

پرویز مشرف کے وکیل سلمان صفدر نے بی بی سی کو بتایا کہ اُنھوں نے پرویز مشرف کی اہلیہ سے ان کی صحت کے بارے میں دریافت کیا ہے اور ان کے بقول سابق فوجی صدر کی حالت پہلے سے بہتر ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ ان کے موکل کا علاج دبئی اور برطانیہ میں چل رہا ہے اور اگر ان کی صحت میں بدستور بہتری آتی رہی تو وہ عدالتی حکم کی تعمیل کرتے ہوئے دو مئی کو خصوصی عدالت میں پیش ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیے!

پرویز مشرف کا بیان سکائپ پر ریکارڈ کرنے کا حکم

مشرف کی شرط: ’تمام کیسز میں ضمانت دی جائے‘

پرویز مشرف کی گرفتاری کے لیے انٹرپول سے رابطے کا حکم

پرویز مشرف کا شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بلاک

اس سے قبل پرویز مشرف کے خلاف آئین شکنی کے مقدمے کی سماعت کے دوران سابق فوجی صدر کے وکیل کی طرف سے بریت کی درخواست پر خصوصی عدالت کا کہنا تھا کہ پہلے ملزم کا بیان ریکارڈ کیا جائے گا۔

ملزم پرویز مشرف کے وکیل نے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 265کے تحت بریت کی درخواست میں موقف اختیار کیا کہ ان کے موکل کے خلاف مقدمہ قانون کے مطابق دائر نہیں کیا گیا۔

انھوں نے کہا کہ آئین شکنی کا مقدمہ صرف وفاقی حکومت دائر کر سکتی ہے، وفاقی حکومت کا مطلب وفاقی کابینہ ہے وزارت داخلہ نہیں۔ سابق فوجی صدر کے وکیل کا کہنا تھا کہ ان کے موکل کے خلاف آئین شکنی کا مقدمہ غیرقانونی ہے جس کے نتیجے میں اس ٹرائل کی قانونی حیثیت نہیں اور کابینہ کی منظوری کے بغیر ٹرائل نہیں ہو سکتا۔

بیرسٹر سلمان صفدر کے مطابق اُنھوں نے عدالت سے استدعا کی کہ پہلے ان کی بریت کی درخواست سے متعلق فیصلہ کریں کیونکہ تکنیکی بنیادوں پر ان کے خلاف مقدمہ قانون کے مطابق درج نہیں کیا گیا۔

اُنہوں نے کہا کہ خصوصی عدالت نے حکم دیا کہ بریت کی درخواست کو رجسٹرار آفس میں جمع کروائیں اور اس عدالتی کارروائی سے پہلے ایسا تااثر ملا جیسے یہ درخواست مسترد کردی گئی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

سابق فوجی صدر کے وکیل سلمان صفدر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ان کے موکل عدالت سے فرار نہیں چاہتے بلکہ ان کی بیماری طوالت اختیار کر گئی ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ اگر عدالت چاہے تو ڈاکٹرز کا پینل بھجوا کر پرویز مشرف کا معائنہ کرواسکتی ہے اور ڈاکٹرز کے پینل کے دورے کے اخراجات ان کے موکل برداشت کریں گے۔

سابق فوجی صدر کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ان کے موکل واش روم میں گر گئے تھے، جس کی وجہ سے وہ چلنے سے بھی قاصر ہیں۔

بینچ کی سربراہ نے استفسار کیا کہ کیا ان کے موکل ویڈیو لنک کے ذریعے بیان ریکارڈ کروانے کو تیار ہیں جس پر پرویز مشرف کے وکیل نے کہا کہ ان کے موکل ویڈیو لنک کے ذریعے بیان ریکارڈ کروانے کو تیار نہیں ہیں۔

سماعت کے دوران عدالت نے پرویز مشرف کے وکیل سے استفسار کیا کہ وہ اپنے موکل سے معلوم کر کے بتائیں کہ وہ کب واپس آ سکتے ہیں۔

جس پر ملزم کے وکیل نے پرویز مشرف کے خاندان سے بات کر کے بتایا کہ ان کے موکل کی کیموتھراپی ہورہی ہے، جو سات سے آٹھ گھنٹے طویل عمل ہے، وہ 13 مئی کوعدالت پیش ہونا چاہتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

جسٹس نذر اکبر نے ریمارکس دیے کہ عدالت نے مشرف کی آٹھ گھنٹے کی کیموتھراپی نہیں کرنی، بلکہ انہوں نے صرف ایک گھنٹہ عدالت میں گزارنا ہے۔

جسٹس طاہرہ رمضان نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ 13 مئی کو رمضان المبارک ہوگا اور اس ماہ کے دوران ججز کی دستیابی مشکل ہوگی۔

واضح رہے کہ سابق فوجی صدر کے خلاف آئین شکنی کے مقدمےمیں غیر معمولی طوالت پر سپریم کورٹ نے برہمی کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ اگر متعقلہ عدالت اس بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کرتی تو سپریم کورٹ اس معاملے پر یکم اپریل تک اپنا حکم سنائے گی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں