پلوامہ حملہ: پاکستان نے انڈیا سے مزید معلومات طلب کر لیں

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption 54 افراد سے تفتیش جاری ہے لیکن اب تک پلوامہ واقعے سے پاکستان کا تعلق ثابت نہیں ہوسکا ہے: ترجمان وزارت خارجہ

پاکستان نے پلوامہ حملے کی ابتدائی تفتیش میں انڈیا کی طرف سے دیے گئے 90 لوگوں کی فہرست میں سےاب تک 54 کی شناخت کی ہے اور باقی افراد سے مزید معلومات طلب کی ہیں۔

دفترِ خارجہ کی ہفتہ وار بریفینگ کے دوران ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا کہ پلوامہ واقعے کے بعد وزیرِ اعظم نے تحقیقات کی پیشکش کی تھی جس کے بعد انڈیا کی طرف سے 90 نام دیے گئے تھے۔

انھوں نے کہا کہ باقی ناموں کی معلومات مکمل نہیں تھیں اور ان کی مزید معلومات ہم نے انڈیا سے طلب کی ہیں۔

یہ بھی پڑھیئے

تحمل رکھیں، جواب دیا جائے گا: نریندر مودی

’مسعود اظہر کے خلاف قرارداد انڈیا کا سیاسی حربہ‘

اوڑی سے پلوامہ حملے تک

14 فروری کو انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے ضلع پلوامہ میں انڈین سیکیورٹی فورسز کے قافلے پر حملے میں 40 فوجی ہلاک ہوئے تھے جس کے بعد انڈیا اور پاکستان کے درمیان تعلقات جنگ کے قریب پہنچ گئے۔

دفترِ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ 54 افراد سے تفتیش جاری ہے لیکن اب تک پلوامہ واقعے سے پاکستان کا تعلق ثابت نہیں ہوسکا ہے۔ انھوں نے کہا کہ بھارت کی طرف سے 22 مقامات کی نشاندہی کی گئی تھی اور ان مقامات پر کسی قسم کا کوئی کیمپ نہیں ہے۔

ایک روز قبل پاکستان کے دفترِ خارجہ نے سفارتی برادری کو بریفنگ کے دوران بتایا تھا کہ بھارت کی طرف سے 27 فروری کو 91 صفحات پر مشتمل ایک رپورٹ موصول ہوئی تھی۔ اس رپورٹ کے چھ حصے تھے جس کے دو سے تین حصے پلوامہ واقعے کے بارے میں تھے۔

ترجمان کے مطابق پاکستان صرف پلوامہ سے منسلک حصوں پر تحقیقات کررہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس رپورٹ میں ایک علیم ڈار نامی شخص کا اعترافی بیان ویڈیو کی شکل میں موجود ہے جس میں اس نے پلوامہ کے واقعے کی ذمے داری قبول کی ہے۔ واٹس ایپ اور ٹیلیگرام نمبروں کے علاوہ بھارت نے ایک دہشت گرد تنظیم سے تعلق رکھنے والے 90 لوگوں کے نام بھی بھیجے ہیں۔

پاکستان نے واٹس ایپ نمبر سے کیے جانے والی کالز کے بارے میں امریکی حکومت سے معاونت کے لیے بھی بات کی ہے۔

دفترِ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ مزید تفتیش کے لیے بھارت سے مزید معلومات درکار ہوں گی جس کے لیے بھارت سے تعاون کی امید ہے۔

امریکی سفیر برائے افغانستان زلمے خلیل زاد کا بیان

افغانستان کے بارے میں وزیرِ اعظم عمران خان کے دیے گئے ایک بیان پر امریکی سفیر برائے افغانستان زلمے خلیل زاد کے ٹوئٹر پر جاری ہونے والے ایک تنقیدی بیان پر بات کرتے ہوئے دفترِ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ ’افغانستان کا معاملہ حساس ہے اور اس پر غیر سفارتی گفتگو کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔

ترجمان نے کہا کے وزیرِ اعظم عمران خان کے بیان کو ’سیاق و سباق سے ہٹ کر شائع اور نشر کیا گیا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

مسعود اظہر

دفترِ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ امریکہ نے برطانیہ اور فرانس کے تعاون سے مسعود اظہر کے خلاف اقوامِ متحدہ کی پابندی کمیٹی میں قرارداد پیش کی ہے اور سلامتی کونسل میں یہ معاملہ پہلے سے ہی زیرِ غور ہے۔ انہوں نے کہا کے سلامتی کونسل کے باہر اس طرح کی قرارداد کونسل کی ساکھ کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔

شاردہ راہداری

پاکستان میں حال ہی میں شاردہ راہداری کھولنے کے حوالے سے آنے والی خبروں کو دفترِ خارجہ نے رد کرتے ہوئے کہا کہ ان خبروں میں کوئی صداقت نہیں ہے۔

اسی بارے میں