کرتارپور راہداری پر بات چیت ملتوی، پاکستان کا اظہارِ افسوس

گرودوارہ

پاکستان نے انڈیا کی جانب سے کرتارپور راہداری کے سلسلے میں دونوں ممالک کے نمائندوں کے درمیان دو اپریل کو طے ملاقات ملتوی کرنے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔

پاکستانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے ٹوئٹر پر اپنے پیغامات میں کہا کہ آخری لمحے پر ملاقات کو پاکستان کی رائے لیے بغیر موخر کرنا سمجھ سے باہر ہے۔

ادھر انڈیا کی وزارتِ خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ انڈیا نے پاکستان سے کرتارپور راہداری کے حوالے سے اہم تجاویز کے بارے کچھ وضاحتیں طلب کی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

کرتارپور:برسوں میں پہلا مشترکہ بیان، ’خوشگوار ماحول‘

گرودوارہ کرتار پور: پاکستان کو زمین دینے کی تجویز

سدھو مشرقی پنجاب میں 'ہیرو،' بقیہ انڈیا میں 'غدار کیوں؟'

بیان کے مطابق اس کے علاوہ چند ’متنازع عناصر‘ کی کرتارپور راہداری کی کمیٹی میں تعیناتی کی اطلاعات کے حوالے سے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وضاحت مانگی گئی ہے۔

انڈین وزارتِ خارجہ نے اپریل کے وسط میں ملاقات کرنے کی تجویز بھی دی ہے۔

رواں برس جنوری میں پاکستان نے کرتارپور راہداری کے حوالے سے مجوزہ معاہدہ انڈیا کے حوالے کیا تھا اور مںصوبے کا سنگ بنیاد 20 نومبر 2018 کو رکھا گیا جبکہ تکمیل نومبر 2019 میں ہو جائے گی۔

اس معاملے پر مذاکرات کا پہلا دور 14 مارچ کو پاکستان اور انڈیا کی سرحد پر ہوا تھا جس کے بعد ایک مشترکہ اعلامیہ بھی جاری کیا گیا تھا۔

اس کے بعد 19 مارچ کو تکنیکی معاملات پر بات چیت کے لیے بھی دونوں ممالک کے نمائندے ملے تھے اور دو اپریل کو تیسری ملاقات طے تھی جو موخر کر دی گئی ہے۔

ان مذاکرات میں دونوں ممالک کے وفود یہ طے کر رہے ہیں کہ ویزا فری سفر کے لیے دوسری کون کون سے دستاویزات درکار ہوں گی۔ پاکستان اور انڈیا کی جانب سے راہداری کے لیے جو سڑک تعمیر کی جائے گی اس کو ایک دوسرے سے ملانے اور اس کے الائنمنٹ کے بارے میں بھی بات ہو رہی ہے۔

کرتارپور کے حوالے سے بی بی سی اردو کے دیگر مضامین

گرودوارہ کرتارپور:3 کلومیٹر کا فاصلہ،7 دہائیوں کی مسافت

’جو سکون کرتارپور آکر ملتا ہے وہ دوربین سے نہیں آتا‘

سکھ برادری کرتارپور بارڈر کھلنے کے لیے بیتاب کیوں؟

واضح رہے کہ یہ بات چیت ایک ایسے ماحول میں ہو رہی ہے جب پلوامہ حملے اور فضائی دراندازی کے واقعات کے بعد دونوں ملکوں کے تعلقات انتہائی کشیدہ ہیں۔

ان ملاقاتوں کے لیے اٹاری واہگہ سرحد کا انتخاب بھی بظاہر اسی نکتہ نظر سے کیا گیا ہے کہ انڈین عوام کو یہ تاثر نہ ملے کہ پاکستان کے خلاف سخت بیانات اور کارروائیوں کے دعووں کے درمیان انڈیا اس سے مذاکرات کر رہا ہے۔

کرتارپور میں کیا ہو رہا ہے؟

راہداری منصوبے میں دریائے راوی پر پُل اور ساڑھے چار کلو میٹر سڑک شامل ہے۔ منصوبہ نومبر میں ہونے والے سکھوں کے مذہبی بانی و پیشوا بابا گورو نانک کی 551ویں برسی سے قبل مکمل ہونے کا امکان ہے۔

گرداس پور میں جہاں سے کرتار پور راہداری شروع ہوگی، راہداری اور مسافر ٹرمینل کے لیے زمینیں حاصل کرنے کا عمل شروع ہو گیا ہے۔ انڈیا کی مرکزی حکومت نے ان کسانوں کے نام کا نوٹیفیکیشن جاری کر دیا ہے جن کی زمینیں حاصل کی جا رہی ہیں۔

انڈین لینڈ پورٹ اتھارٹی کے اہلکار اکھل سکسینہ نے بی بی سی کو بتایا کہ 'یہ ایک ٹا‏ئم باؤنڈ پراجیکٹ ہوگا۔ اس کوریڈور کو 11 نومبر کو کھلنا ہے۔ اس وقت تک ہم یہاں ایک انتہائی جدید اور بڑا مسافر ٹرمینل تعمیر کریں گے۔ اس میں تمام مطلوبہ سہولیات ہوں گی۔'

کرتارپور کہاں ہے؟

کرتار پور وہ مقام ہے جہاں سکھوں کے پہلے گرو بابا نانک دیو جی نے اپنی زندگی کے آخری ایام گزارے تھے۔ یہیں گرودوارے میں ان کی ایک سمادھی اور قبر بھی ہے جو سکھوں اور مسلمانوں کے لیے ایک مقدس مقام کی حیثیت رکھتی ہے۔

کرتارپور میں واقع گرودوارہ دربار صاحب کا انڈین سرحد سے فاصلہ چند ہی کلومیٹر کا ہے اور یہ پنجاب کے ضلع نارووال کی حدود میں تحصیل شکر گڑھ کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں دریائے راوی کے مغربی جانب واقع ہے۔ یہاں سے انڈیا کے ڈیرہ صاحب ریلوے سٹیشن کا فاصلہ تقریباً چار کلومیٹر ہے۔

راوی کے مشرقی جانب خاردار تاروں والی انڈین سرحد ہے۔ ڈیرہ بابا نانک میں بین الا قوامی سرحد پر کئی میل کی دوری پر واقع گرونانک دیو کے گرودوارے کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے لوگوں کی قطاریں لگی ہوتی ہیں۔ سرحد پر دو طاقتور دوربینیں لگائی گئی ہیں جو اس گرودوراے پر فکسڈ ہیں۔ لوگ اس گرودوارے کی زیارت کے لیے ان دوربینوں کے محتاج ہیں۔

اسی بارے میں