اوکاڑہ فارمز: مزارعین کے خلاف قائم کیے گئے فوجداری مقدمات ختم کرنے کا حکم

اوکاڑہ ملٹری فارمز تصویر کے کاپی رائٹ BBC URDU
Image caption ملڑی فارمز18 ہزار ایکٹر پر محیط ہیں جن میں پانچ ہزار ایکڑ فوج کے پاس جبکہ 13 ہزار ایکڑ مزارعین کے پاس ہیں

نیشنل کمیشن آف ہیومن رائٹس (این سی ایچ آر) نے اوکاڑہ ملٹری فارمز پر حتمی نتائج کا حکم جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب تک بورڈ آف ریوینیو (بی او آر) کے ذریعے اوکاڑہ مزارعین کو اپنی زمینوں کی ملکیت نہیں مل جاتی تب تک ان کو پاکستان کی فوج کو گندم کا حصہ یعنی بٹائی دینا ہوگی۔

’سب فوج کو دے دیں گے تو ہمارے پاس کیا بچے گا‘

’سچ لکھنے کی سزا ملی اور یہ معجزہ ہے کہ آج زندہ ہوں‘

مہر ستار اور نواز شریف

حکم نامے کے مطابق اوکاڑہ مزارعین کو ہراساں نہیں کیا جائے گا اور ان کے خلاف جو فوجداری مقدمے قائم کیے گئے ہیں وہ واپس لیے جائیں گے۔ یہ یقین دہانی بھی کرائی جائے گی کہ اس طرح کے مقدمات انسدادِ دہشت گردی عدالت کے تحت نہیں چلائے جائیں گے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے این سی ایچ آر کے چیئرمین جسٹس (ریٹائرڈ) علی نواز چوہان نے بتایا کہ ’پچھلے سال تک کی ساری بٹائی معاف کر دی جائے گی اور اس سال سے بٹائی دینا پڑے گی۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ بٹائی ملٹری فارمز کو دینا ہوگی کیونکہ زمین پنجاب حکومت کی ہے مگر انھوں نے اس کا کنٹرول پاکستان کی فوج کو دیا ہوا ہے۔

جنوری 17 کو ہونے والی آخری سماعت کے دوران پنجاب حکومت کے سینیئر ارکان موجود تھے اور ان کا کہنا تھا کہ بٹائی پاکستان کی فوج کو دی جائے۔

پنجاب حکومت کے ارکان کی جانب سے این سی ایچ آر کو دیے گئے بیان کے مطابق فوج کے پاس مزارعین کی طرف سے جو بٹائی جاتی ہے، وہ اس کو خزانے میں منتقل کر دیتی ہے، جس سے پھر پنجاب حکومت ڈیل کرتی ہے۔

اوکاڑہ ملٹری فارمز کی تاریخ؟

Image caption اب تک اس تنازعے کے نتیجے میں 1900 لوگوں کے خلاف مختلف نوعیت کے مقدمات درج ہو چکے ہیں

برٹش راج کے دور میں ان زمینوں کا کنٹرول انگریزوں کے ہاتھ میں تھا اور جس طرح آج اوکاڑہ فارمز پر اُگنے والی گندم کا حصہ یعنی بٹائی پاکستان کی فوج کو جاتی ہے، اُسی طرح پہلے یہ حصہ برٹش راج کو جاتا تھا۔

آزادی کے بعد پاکستان کی فوج دعویٰ کرتی رہی کہ وہ اس زمین کی مالک ہے اور بٹائی ان کو دی جائے۔ البتہ دسمبر 2018 میں ہونے والی سماعت کے دوران پاکستان کی فوج نے پہلی بار اوکاڑہ ملٹری فارمز کی ملکیت سے دستبردار ہوتے ہوئے اصل مالک پنجاب حکومت کو ظاہر کیا جس کی تصدیق اگلی سماعت کے دوران پنجاب حکومت کے ارکان نے بھی کی۔

لیکن مزارعین نے بٹائی پنجاب حکومت کو دینے سے انکار کر دیا جبکہ اوکاڑہ ملٹری فارمز پر اپنی موجودہ زمینوں کی ملکیت کا دعویٰ کیا۔

این سی ایچ آر رپورٹ پر تنقید

پاکستان کسان رابطہ کمیٹی کے جنرل سیکریٹری فاروق طارق نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’اس بات کا تعین کرنا کہ کسانوں کو بٹائی دینی چاہیے یا نہیں این سی ایچ آر کے دائرہ کار میں نہیں ہے۔ این سی ایچ آر کی رپورٹ اس تنازعے کا صرف ایک پہلو دکھا رہی ہے۔ ان کو کسانوں کی طرف سے بار بار سامنے لایا گیا پہلو بھی دیکھنا ہوگا۔ ورنہ یہ تنازعہ اتنی آسانی سے حل نہیں ہوگا۔‘

انھوں نے کہا کہ اوکاڑہ کے کسان پچھلے 100 سال سے اپنی زمین کی ملکیت کی جنگ لڑ رہے ہیں۔

’ہم ان کے اس مطالبے کی حمایت کرتے ہیں۔ اور وزیرِ اعظم عمران خان سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اوکاڑہ کے مزارعین سے کیے گئے تمام وعدے پورے کریں۔ ساتھ ہی، یہ کیس اس وقت خوش اسلوبی سے پایہ تکمیل تک پہنچے گا جب مہر عبدالستار اور جدوجہد میں شامل تمام لوگوں کے خلاف مقدمات ختم کیے جائیں گے۔‘

انھوں نے کہا: ’آپ مزارعین کو جیلوں میں قید کر کے ان کو بٹائی دینے کے لیے مجبور نہیں کر سکتے۔‘

فاروق طارق نے اوکاڑہ ملٹری فارمز کے تنازعے کے حل کے لیے این سی ایچ آر کی تمام کاوشوں کا خیر مقدم کیا۔ خاص کر 2016 میں اوکاڑہ فارمز پر کمیشن کی جانب سے شائع ہونے والی رپورٹ جس میں کسانوں کے ساتھ ہونے والے مظالم کی فہرست اور اس کے لیے دی گئیں این سی ایچ آر کی تجاویز کو سراہا۔

لیکن انھوں نے ساتھ ہی کہا کہ ’این سی ایچ آر اپنی ہی رپورٹ میں شائع ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا دوبارہ نوٹس لے۔‘

بورڈ آف ریوینیو سے ملکیت کے لیے رجوع کریں

جسٹس (ریٹائرڈ) علی نواز چوہان نے کہا ہے کہ ’ہم مزارعین کے راستے میں نہیں ہیں، یہ مزارعین کئی پشتوں سے ان زمینوں پر کاشت کاری کر رہے ہیں تو اگر وہ چاہیں تو بی او آر/ پنجاب حکومت سے ملکیت کے لیے بات کریں۔ ہم اس میں ان کی پوری مدد کریں گے۔ لیکن جب تک زمین کی ملکیت ان کے حوالے نہیں ہو جاتی تب تک ان کو بٹائی دینا ہوگی۔ اگر آپ ایک بار کرائے دار ہیں، تو آپ ہمیشہ کرائے دار رہیں گے۔‘

اوکاڑہ ملٹری فارمز کا تنازعہ کیا ہے؟

Image caption سنہ 2016 میں مزارعین اور عوامی ورکرز پارٹی کے کارکنان نے لاہور میں احتجاجی مظاہرہ کیا تھا

اوکاڑہ ملٹری فارمز 18000 ایکڑ کی زمین ہے جس میں سے 5000 ایکڑ زمیں فوج کے زیر انتظام ہے جبکہ 13000 ایکڑ مزارعین کے پاس ہے۔

ان زمینوں پر زیادہ تر گندم، مکئی اور چاولوں کی کاشت ہوتی ہے۔ فوج کا پہلے موقف یہ تھا کہ ریوینیو اتھارٹی کے مطابق زمین ان کی ہے جو برٹش راج کے بعد ان کے حصے میں آئی تھی اس لیے کسانوں کو اُگائی ہوئی فصل کا کچھ حصہ بٹائی کے طور پر ان کو دینا ہوگا۔

دوسری جانب اوکاڑہ فارمز پر کاشت کرنے والے کسانوں کا کہنا ہے کہ یہ زمین ان کے آباو اجداد کی ہے۔ برٹش راج کے بعد زمینیں فوج کو چلی گئیں جس کے نتیجے میں کسان فوج کو کئی سالوں تک ان زمینوں پر اگنے والی کاشت کا حصہ دیتے رہے۔

سابق صدر پرویز مشرف کے دورِ حکومت میں کسانوں سے کہا گیا کہ وہ یہ زمینیں ٹھیکے پر لے لیں۔ مزارعین نے اس پر اعتراض کیا کیونکہ ان کو خدشہ تھا کہ ٹھیکا بھی بڑھا دیا جائے گا اور ایک وقت پر ٹھیکا منسوخ کر کے ان سے ان کی زمینیں خالی کروادی جائیں گی۔

’مالکی یا موت‘

Image caption اوکاڑہ ملٹری فارمز پر خبریں لکھنے کے نتیجے میں صحافی حسنین رضا نے 23 ماہ جیل کاٹی اور 2018 میں رہائی پائی

انجمن مزارعین پنجاب کے سیکرٹری جنرل ڈیوڈ رحمت نے کہا کہ ’یہاں مسئلہ صرف بٹائی کا نہیں بلکہ زمین کی ملکیت کا ہے۔ ہم نے سب سے پہلے ڈیمانڈ رکھی تھی کہ کہ جیڑھا واوھے، اوہی کھاوے، اور ہم آج بھی اسی پر قائم ہیں۔‘

سنہ 2000 میں انجمنِ مزارعینِ پنجاب نے ’مالکی یا موت‘ کا نعرہ یہ کہہ کر بلند کیا کہ ان زمینوں پر مزارعین کا حقِ وراثت ہے اور پاکستان میں ٹھیکے پر کام کرنے والوں یا رہنے والوں کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔

اس کے بعد سے آج تک ہونے والی جھڑپوں میں مزارعین کے مطابق ان کے 13 افراد ہلاک کر دیے گئے ہیں جبکہ عوامی ورکرز پارٹی (اے ڈبلیو پی) کا کہنا ہے کہ مزارعین کی زیادہ تر قیادت قید میں ہے۔

اس سلسلے میں سب سے بڑا واقعہ سنہ 2014 میں پیش آیا تھا جب پاکستانی فوج ٹینکوں سمیت اوکاڑہ ملٹری فارمز میں داخل ہوئی اور طاقت کا استعمال کیا جس کے نتیجے میں چک 15 کے نور محمد کمبوہ مارے گئے اور کئی گرفتاریاں بھی عمل میں لائی گئیں۔

اے ڈبلیو پی کے فاروق طارق نے بتایا کہ اسی دوران عوامی ورکرز پارٹی کے کئی ارکان پکڑے گئے جن پر انڈین ایجنٹ ہونے کا الزام لگایا گیا اور آج انجمن تحفظ مزارعین کے جنرل سیکرٹری مہر عبدالستار پر غداری اور فوجداری کا مقدمہ دائر ہے اور وہ جیل میں قید ہیں۔

Image caption مہر عبدالستار انجمنِ مزارعین پنجاب کے جنرل سیکرٹری ہیں اور ان کو 2017 میں گرفتار کیا گیا

واضح رہے کہ مہر عبدالستار انجمنِ مزارعین پنجاب کے جنرل سیکرٹری ہیں۔ ان کے خلاف اپریل 2016 میں 36 مقدمات درج کیے گئے تھے۔ مارچ 2017 میں ان کو ساہیوال کے ایک ہائی سکیورٹی جیل میں بھیج دیا گیا تھا۔

سوشل میڈیا پر مہر عبدالستار کی تصویریں بھی سامنے آئیں جن میں ان کے ہاتھ پاؤں میں زنجیریں دیکھی جا سکتی ہیں۔ جبکہ ان کے وکیل کی طرف سے عدالت میں کہا گیا کہ ان کو 24 گھنٹے زنجیروں میں رکھا جاتا تھا۔

جون 2018 میں ان کو رہا کیا گیا لیکن اب بھی ان کے خلاف لاہور اور اوکاڑہ کے تھانوں میں مقدمات درج ہیں۔

صحافیوں پر بھی ملٹری فارمز پر خبر لکھنے کے نتیجے میں مقدمات درج کیے گیے تھے جن میں حسنین رضا شامل ہیں، جنہوں نے 23 ماہ جیل کاٹی اور 2018 میں رہائی پائی۔

اسی بارے میں