فوجی عدالتیں: 'سیاسی جماعتیں نہ مانیں تو مدت میں توسیع نہیں ہو گی'

فواد چوہدری تصویر کے کاپی رائٹ EPA

پاکستان میں دہشت گردی سے متعلق مقدمات کی تیز پیروی کے لیے نیشنل ایکشن پلان کے تحت قائم فوجی عدالتوں کی دوسری دو سالہ آئینی مدت اتوار کو مکمل ہو گئی ہے۔

حکومت فوجی عدالتوں کو مزید توسیع دینے کا ارادہ رکھتی ہے تاہم حزب مخالف کی جماعتیں فی الحال اس کی مخالفت کر رہی ہیں۔

ماضی میں ان عدالتوں کی مدت میں توسیع کی حمایت کرنے والی یہ سیاسی جماعتیں اب تحفظات کا اظہار کر رہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

’فوجی عدالتیں مسئلے کا حل نہیں ہیں‘

فوجی عدالتیں پھر آئین کا حصہ بن گئیں

اگر فوجی عدالتیں بھی ناکام ہو گئیں تو۔۔۔

پاکستان کے وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع سیاسی جماعتوں میں اس معاملے پر اتفاقِ رائے پر منحصر ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اگر سیاسی جماعتیں متفق نہ ہوئیں تو فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع نہیں ہو گی۔

فواد چوہدری کا کہنا تھا ’حکومت فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع کے معاملے پر اتفاقِ رائے پیدا کرنے کی کوشش کرے گی اور اگر اس پر اتفاقِ رائے ہوتا ہے تو فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع ہو گی۔ اگر باقی جماعتیں سمجھتی ہیں کہ اب توسیع کی ضرورت نہیں ہے تو یہ توسیع نہیں ہو گی۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

وزیر اطلاعات نے کہا کہ حکومت سمجھتی ہے کہ ملک کو فوجی عدالتوں کی اب بھی ضرورت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’فوجی عدالتوں کا قیام غیر معمولی حالات میں ایک غیر معمولی قدم تھا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ فوجی عدالتوں نے کامیابی کے ساتھ ڈیلیور بھی کیا ہے۔ فوجی عدالتوں کی اب بھی ضرورت ہے۔ ہم دہشت گردی کو مکمل شکست دینے کے بہت قریب ہیں اور ہم سمجھتے ہیں کہ یہ توسیع ضروری تھی اور اب بھی بہت اچھا ہو گا کہ یہ توسیع دوبارہ دی جائے لیکن ظاہر ہے یہ اس صورت میں ممکن نہیں کہ اگر اس معاملے پر قومی اتفاقِ رائے نہ ہو جیسا کہ قومی ایکشن پلان کے وقت تھا۔‘

یہ بھی پڑھیے

فوجی عدالتیں: ’ہم اسی بل سے دوبارہ ڈسے جا رہے ہیں‘

فوجی عدالتوں کی پہیلی اور ان کا مستقبل

فوجی عدالتیں اور انصاف کے تقاضے

دوسری جانب ماہرِ قانون ریما عمر کا بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ فوجی عدالتوں میں ایک اور مرتبہ توسیع بالکل بھی نہیں ہونی چاہیے۔

’پہلے ہی یہ ایک غلط اقدام تھا، پارلیمان نے دو مرتبہ اس میں توسیع کر کے ایک اور غلطی کی، اور اب اگر تیسری دفعہ ایسا کیا جاتا ہے تو یہ اس بات کی بھی نفی ہو گی کہ آئین سے متصادم یہ قانون غیر معمولی وقت میں عارضی بنیادوں پر کیا گیا ایک حل تھا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں ہونے والی تحقیق یہ بتاتی ہے کہ سزائے موت کسی بھی جرم کی روک تھام کا باعث نہیں بنتی خاص طور پر دہشت گردی کا تو بالکل بھی نہیں۔

ریما عمر کہتی ہیں کہ یہ بات بھی غلط ہے کہ جب بتایا جاتا ہے کہ کچھ لوگ آزاد تھے، دہشت گردانہ حملوں کو پلان کر رہے تھے یا ایسے حملوں میں ملوث تھے اور فوجی عدالتوں نے ان کو سٹرک سے گرفتار کر کے سزائیں سنا دی ہیں۔

’ماضی قریب میں دیکھا گیا کہ پشاور ہائی کورٹ نے 70 کے لگ بھگ فوجی عدالتوں سے دی گئی سزائیں کالعدم قرار دے دیں اور سزا یافتہ افراد کو آزاد کرنے کے آرڈرز بھی دیے۔‘

واضح رہے کہ پاکستان میں فوجی عدالتیں پشاور کے آرمی پبلک سکول پر حملے کے بعد نیشنل ایکشن پلان کے تحت سنہ 2015 میں قائم کی گئیں تھیں۔

یہ عدالتیں ابتدائی طور پر دو سال کی مدت کے لیے قائم ہوئیں تاہم مارچ سنہ 2017 میں مسلم لیگ نواز کی حکومت نے 23 ویں آئینی ترمیم کے ذریعے ان کی مدت میں دو سال کی تو سیع کی تھی۔

پاکستان کی موجودہ حکومت نے بھی ان فوجی عدالتوں کی مدت میں مزید دو سال توسیع کا فیصلہ کیا ہے۔

حکومت نے اس معاملے پر مشاورت کے لیے حزب اختلاف کی جماعتوں کا اجلاس 28 مارچ کو طلب کیا تھا لیکن حزب اختلاف کے بائیکاٹ کے بعد یہ اجلاس منسوخ کرنا پڑا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

پاکستان پیپلز پارٹی کا کہنا ہے کہ اس معاملے پر حکومت کی جانب سے تاحال رابطہ نہیں کیا گیا ہے۔ پیپلز پارٹی کی سینیئر رہنما نفیسہ شاہ نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کی جماعت کا اس معاملے پر موقف بالکل واضح ہے کہ ان کی جماعت ان عدالتوں کی حمایت نہیں کرتی۔

'ہم ایک متوازی نظام عدل اور کسی بھی ایسے اقدام کی حمایت نہیں کرتے جو آئین کے دیے گئے بنیادی حقوق کی نفی کرتا ہو۔ پیپلز پارٹی سمجھتی ہے کہ فوجی عدالتیں بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کرتی ہیں، اس لیے ہم ان عدالتوں کی اُصولی مخالفت کرتے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت اس معاملے پر بات کرنا چاہتی ہے تو ان کی جماعت ' فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع کی وجوہات کے بارے میں حکومتی دلیل سننے کے بعد اس معاملے پر دوبارہ بھی سوچ سکتی ہے۔‘

واضح رہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے سنہ 2017 میں بھی اس توسیع کی مخالفت تو کی تھی تاہم بعد میں متعلقہ شق کی حمایت کی تھی۔

انسانی حقوق کے کارکن، سیاستدان اور وکلا شروع سے ہی عدالتوں کو اضافی اختیارات دینے کی مخالفت کرتے رہے ہیں۔ پاکستان تحریکِ انصاف بھی ماضی میں ان عدالتوں کو ایک عارضی بندوبست قرار دیتی رہی ہے۔

دوسری جانب سابق حکمراں جماعت مسلم لیگ نواز کے متعدد رہنماؤں نے اس معاملے پر بات کرنے سے انکار کیا ہے۔

سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے گذشتہ ہفتے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ سنہ 2015 اور 2017 میں حالات کے پیش نظر فوجی عدالتیں قائم کی گئیں اور اب 'حکومت کا کام ہے کہ وہ پارلیمان کو مطمئن کرے کہ آج ان عدالتوں میں توسیع کی ضرورت کیوں ہے؟‘

قومی اسمبلی میں جمع کرائے گئے اعداد و شمار کے مطابق وزارت داخلہ نے فوجی عدالتوں کو دہشت گردی کے 700 سے زیادہ مقدمات ارسال کیے تھے جن میں سے 478 مقدمات کے فیصلے کیے جا چکے ہیں اور 284 مجرمان کو سزائے موت سنائی گئی ہے۔

اسی بارے میں