پیٹرول کی قیمت میں اضافہ: ’یہ تو عام آدمی کا تیل نکال رہے ہیں‘

پیٹرول

پاکستان تحریکِ انصاف کی حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک مرتبہ پھر اضافے کے اعلان کے بعد حکومت کے ناقدین، مبصرین اور عوام کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔

اس اضافے کو پی ٹی آئی کے تبدیلی کے نعرے اور عام آدمی کو آسانی مہیا کرنے کے دعووں سے روگردانی قرار دیا جا رہا ہے۔ وجہ پاکستان کے موجودہ وزیراعظم عمران خان اور وزیر خزانہ اسد عمر کی جانب سے سابقہ حکومت کے دور میں ایسے اقدامات پر سخت ردعمل اور حکومت میں آنے کے بعد ایسا نہ کرنے کے وعدے بنے ہیں۔

حکومت کی جانب سے یکم اپریل سے پیٹرول اور ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت میں چھ روپے فی لیٹر اضافہ جبکہ لائٹ اسپیڈ ڈیزل اور مٹی کی تیل میں فی لیٹر تین روپے اضافہ کیا گیا ہے۔

اس اضافے کے بعد پیٹرول کی فی لیٹر قیمت 98 روپے 89 پیسے پر پہنچ گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیے!

پیٹرول کی قیمتوں میں پھر اضافہ کیوں؟

پیٹرول کی قلت برقرار

پیٹرول پمپوں پر قطاریں، لوگ پریشان

این اے 120: کہیں پیٹرول تو کہیں لنگر

تیل کی قیمتوں میں اس اضافے پر صارفین نے احتجاج ریکارڈ کروانے کے لیے سوشل میڈیا کا سہارا لیا جہاں #Petrolbomb کا ہیش ٹیگ ٹاپ ٹرینڈ ہے۔

ایک صارف علی نواز کا کہنا تھا کہ یہ بہت برا ہوا ہے۔ انھوں نے لکھا ’میں تو سمجھا تھا کہ یہ سمندروں سے تیل نکال رہے ہیں لیکن یہ تو عام آدمی کا تیل نکال رہے ہیں۔‘

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’میں یقین نہیں کر سکتا کہ اسد عمر ہمارے وزیرِ خزانہ ہیں جنھوں نے ہمیں عام آدمی کی دوست معیشت کے خواب دن میں دکھائے تھے۔‘

صحافی اور شاعر عاطف توقیر نے اسد عمر کی ہی ایک برس پرانی ٹویٹ کا حوالہ دیتے ہوئے ان سے سوال کیا کہ ’حضور آپ برس قبل سچ بول رہے تھے یا آج؟ قوم آپ کی ایک برس پرانی بات پر یقین کرے یا آج پر؟

ٹوئٹر پر ہی کئی صارفین نے لکھا کہ وہ پی ٹی آئی کے حامی اور ووٹر تو ہیں لیکن یہ وہ تبدیلی نہیں جس کا ان سے وعدہ کیا گیا تھا۔

حکومت نے تیل کی قیمت کب کب بڑھائی؟

اگر آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کی جانب سے جاری کردہ قیمتوں کے نوٹسز کا جائزہ لیا جائے تو اگست 2018 سے اپریل 2019 تک وفاقی حکومت نے چار مرتبہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ جبکہ تین مرتبہ کمی کی ہے جبکہ ایک ماہ قیمتوں کو برقرار رکھا گیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

حکومت کی جانب سے قیمتوں میں سب سے زیادہ اضافہ رواں ماہ کے لیے چھ روپے فی لیٹر کیا گیا ہے جبکہ سب سے زیادہ کمی جنوری میں پانچ روپے کی گئی تھی۔

فروری 2019 سے اب تک حکومت نے پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں تقریباً آٹھ روپے کا اضافہ کیا ہے۔

جب تحریک انصاف کی حکومت نے اگست 2018 میں اقتدار سنبھالا تھا اس وقت پیٹرول کی فی لیٹر قیمت 95 روپے 24 پیسے تھی جبکہ آج اس کی قیمت 98 روپے 89 پیسے ہے یعنی اتار چڑھاؤ کے بعد اگست کے مقابلے میں یہ اضافہ ساڑھے تین روپے فی لیٹر کے لگ بھگ ہے۔

اسی عرصے میں اگر عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت کا جائزہ لیا جائے تو اگست 2018 میں عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 74.21 ڈالر فی بیرل تھی جبکہ آج یہ چھ ڈالر کی کمی کے بعد 67.82 ڈالر فی بیرل ہے۔

تاہم اگست میں امریکی ڈالر کے مقابلے پاکستانی روپے کی قدر 123 روپے تھی جبکہ آج امریکی ڈالر 141 روپے کا ہو چکا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ OGRA, PAKISTAN
Image caption پیٹرول کی قیمت کا بریک ڈاؤن

تیل کی قیمت میں کیا کیا شامل ہے؟

صارفین کو آج تقریباً 99 روپے فی لیٹر ملنے والا تیل حکومت کو عالمی منڈی سے تقریباً 58 روپے میں ملتا ہے تو پھر باقی 41 روپے کہاں جاتے ہیں؟ یہ وہ 41 روپے ہیں جو حکومت مختلف ٹیکسوں اور ڈیوٹی کی مد میں صارفین سے حاصل کرتی ہے۔

عالمی منڈی سے فراہم ہونے والے تیل کی صفائی کے بعد پی ایس او کو ملنے والی فی لیٹر تیل کی بنیادی قیمت، ان لینڈ فریٹ مارجن یعنی ملک میں تیل سپلائی کرنے کی قیمت، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا کمیشن، آئل ڈیلرز یا پیٹرول پمپ مالکان کا کمیشن، سیلز ٹیکس، کسٹمز ڈیوٹی، پیٹرولیم لیوی ٹیکس شامل ہیں۔

اگر ہم اوگرا کی ویب سائٹ پر موجود نوٹیفکیشن کے مطابق اس کا بریک ڈاؤن دیں تو وہ کچھ یوں ہو گا

پی ایس او کی ملنی والی فی لیٹر بنیادی قیمت: 65.73

ان لینڈ فریٹ مارجن فی لیٹر: 3.73

آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا کمیشن فی لیٹر: 2.64

آئل ڈیلرز یا پیٹرول پمپ مالکان کا کمیشن فی لیٹر: 3.47

پیٹرولیم لیوی ٹیکس فی لیٹر : 8.95

اور سیلز ٹیکس فی لیٹر: 14.37

تیل کی قیمت کا تعین کیسے کیا جاتا ہے؟

اوگرا کے سینیئر اہلکار کے مطابق پاکستان سٹیٹ آئل (پی ایس او)، اوگرا حکام، وزارت خزانہ اور پیٹرولیم کے حکام ہر مہینے عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت، پاکستان کو ملنے والے تیل کی قیمت، ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں رد و بدل، ملک میں منگوائے گئے تیل کی تعداد، کھپت اور لاگت کا جائزہ لیکر ایک سمری تیار کرتے ہیں۔

اس سمری کو پیٹرولیم اینڈ فنانس ڈویژن بھیجا جاتا ہے۔ جس کے بعد وزارت خزانہ ان سفارشات کی روشنی میں ملکی خزانے میں خسارے یا اخراجات کا تعین، ٹیکسوں کی مد میں مختص رقم کا تعین کر کے اس سمری پر فی لیٹر قیمت طے کر کے وزیر اعظم کو بھیجتی ہے۔

وزیر اعظم فی لیٹر پیٹرول کی قیمت کا حتمی فیصلہ کرنے کے بعد وزارت خزانہ کو نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری کرنے کا حکم دیتےہیں۔

ملک میں پیٹرول کی ماہانہ کھپت کتنی ہے؟

اوگرا کے ڈائریکٹر عمران غزنوی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اوگرا کے مطابق ملک میں پیٹرول اور ڈیزل کی ماہانہ کھپت سات لاکھ سے ساڑھے سات لاکھ میٹرک ٹن ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

قیمت بڑھنے میں کن عوامل کا عمل دخل ہے؟

اوگرا کے ڈائریکٹر عمران غزنوی کا کہنا ہے کہ پیٹرول کی موجودہ قیمت میں اضافے کی بنیادی وجہ عالمی منڈی میں فی لیٹر کی قیمت میں گزشتہ ماہ کے دوران 14.26 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ یکم مارچ کو عالمی منڈی میں فی لیٹر تیل کی قیمت 54.86 روپے تھی جو یکم اپریل کو 7.82 روپے بڑھ کر 62.68 روپے ہو گئی۔

انھوں نے کہا اس کے علاوہ ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے میں بھی ایک ماہ کے دوران 1.47 روپے گراوٹ نے بھی اس پر اثر ڈالا ہے۔ ان کا کہنا تھا دیگر عوامل میں حکومتی ٹیکسز کے لاگو ہونے سے بھی صارفین کے لیے پیٹرول کی قیمت میں اضافہ ہوا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ عالمی منڈی میں تیل کی خریداری کے لیے روزانہ کی بنیاد پر قیمت نہیں بلکہ ایک ہفتہ کے دوران رہنے والی قیمت کی اوسط قیمت کے مطابق خریدا جاتا ہے جبکہ خام تیل کی خریداری بھی ایک مہینے کی قیمت کی اوسط کے مطابق کی جاتی ہے۔

ان کے مطابق پاکستان میں تیار تیل منگوایا جاتا ہے یہ خام تیل نہیں ہوتا۔ پی ایس او عالمی منڈی سے تیار تیل خریدتا ہے خام تیل نہیں۔ البتہ عالمی منڈی میں ریفرنس پرائس خام تیل کی قیمت کو رکھا جاتا ہے۔

اسی بارے میں