پولیس کا کراچی کے لاپتہ صحافی کی ایف آئی آر درج کرنے سے انکار

لاپتہ صحافی تصویر کے کاپی رائٹ Matloob Musuvi

کراچی سے لاپتہ صحافی مطلوب موسوی کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ پولیس نے ان کی گمشدگی کا مقدمہ درج کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ مطلوب حسین کو سنیچر کی صبح گھر سے نامعلوم افراد اپنے ساتھ لے گئے تھے۔

مطلوب کے بھائی منہاج موسوی کا کہنا ہے کہ صبح چار بجے کے قریب ویگو اور دوسری گاڑیوں میں سوار اہلکار گھر میں داخل ہوئے اور مطلوب کو اپنے ساتھ لے گئے۔

جبکہ مطلوب کا موبائل فون اور لیپ ٹاپ بھی ان کی تحویل میں ہے۔ انھوں نے الفلاح تھانے میں ایف آئی آر درج کرانے کی کوشش کی تھی لیکن پولیس نے انکار کیا جس کے بعد ایک درخواست جمع کرا دی ہے۔

الفلاح تھانے کے ایس ایچ او نے تصدیق کی ہے کہ انھیں گمشدگی کی درخواست موصول ہوئی ہے تاہم ان کا کہنا تھا کہ ایف آئی آر درج کرنے کو نہیں کہا گیا اور ’خاندان کو علم ہے کہ وہ کہاں ہے۔‘

یہ بھی پڑھیے!

وہ کمسن لڑکی جس کے آنسوؤں سے بھائی کی بازیابی ممکن ہوئی

’سو میں سے پانچ کی مشکل سے شناخت ہوتی ہے‘

2018 میں پاکستان میں جبری گمشدگیوں میں اضافہ

مطلوب موسوی کون ہیں؟

مطلوب موسوی کا تعلق گلگت سے ہے۔ انھوں نے تعلیم کراچی یونیورسٹی سے حاصل کی اور وہ گزشتہ آٹھ سالوں سے صحافت سے وابستہ ہیں۔ ان کے بھائی منہاج موسوی کا کہنا ہے کہ مطلوب کا کسی بھی فرقہ وارانہ تنظیم سے کبھی بھی تعلق نہیں رہا ہے۔ وہ آزاد خیالات کے حامل ہیں ماضی میں ان کا تعلق نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن سے رہا ہے۔

منہاج موسوی نے کہا کہ ’ہم تک جو غیر مصدقہ اطلاعات آرہی ہیں ان کے مطابق مفتی تقی عثمانی پر حملے سے متعلق مطلوب موسوی سے پوچھ گچھ کی جارہی ہے کہ مطلوب کی اس حوالے سے کسی سے بات ہوئی ہے یا رابطہ ہوا اس شک کی بنیاد پر اسے اٹھایا گیا ہے۔ بعض حلقوں نے ہمیں کہا ہے کہ وہ محفوظ ہاتھوں میں ہے لیکن ہم یہ کہہ رہے ہیں جو بھی الزام ہے اس کو سامنے لائیں ہم اس کا دفاع کریں گے ہمیں خدشہ ہے کہ وہ کسی من گھڑت مقدمے میں اسے شامل نہ کردیں۔‘

صحافی برادری کا کیا کہنا ہے؟

دوسری جانب کراچی پریس کلب کے صدر امتیاز فاران اور سیکرٹری ارمان صابر کا کہنا ہے کہ صحافی مطلوب کی ’جبری گمشدگی‘ سے پوری صحافی برادری میں تشویش پائی جاتی ہے۔

’ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے اپنی شناخت چھپا کر گھروں میں بغیر اجازت داخل ہونا، چادر اور چاردیواری کو پامال کرنا درست عمل نہیں، اگر مطلوب حسین پر کوئی الزام نہیں تو انھیں فوری طور پر رہا کیا جائے۔‘

شیعہ مسنگ پرسنز موومنٹ کا موقف

دریں اثنا شیعہ مسنگ پرسنز موومنٹ کا کہنا ہے کہ مطلوب سمیت آٹھ شیعہ نوجوانوں کو لاپتہ کیا گیا ہے، تنظیم کی جانب سے حالیہ گمشدگیوں کے خلاف احتجاجی مظاہرہ بھی کیا گیا اس کے علاوہ کراچی کے تعلیمی اداروں میں پڑھنے والے گلگت کے طالب علموں نے بھی مطلوب کی گمشدگی کے خلاف مظاہرہ کیا اور اس کی فوری بازیابی کا مطالبہ کیا۔

اسی بارے میں