عاصمہ شیرازی کا کالم: گول دائرے کی سیاست!

عمران خان تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption تحریکِ انصاف کی حکومت کو اقتدار میں آئے آٹھ ماہ ہو چکے ہیں

گول دائرے میں جو بھی سیاست کو لایا وہی اصل فنکار ہے۔ دائرے کی بڑائی یا چھوٹائی کا فیصلہ کرنے والی پُرکار اپنی مرضی سے دائرے کا حجم بڑھا رہی ہے البتہ سیاست دائرے سے باہر نہیں نکلنے دے گی۔ دائرے کے اندر ہی نکتے طے کر دیے گئے ہیں، حدود بنا دی گئی ہیں۔۔ بس سبھی انہی نکتوں اور حدوں میں پُرکار کے نیچے اپنا کردار نبھائیں گے۔

نواز شریف باہر ہیں لیکن محدود مدت کے لیے۔ اس دوران ان کی اپیل پر فیصلہ ان کے حق میں ہوا تو بہتر نہ ہوا تو واپس اندر۔ یہ فیصلہ نواز شریف کو کرنا ہے کہ وہ دائرے سے نکلنے کی کوشش نہ کریں اور یہی تا حال ایک مسئلہ بھی ہے۔

عاصمہ شیرازی کے دیگر کالم پڑھیے

کیا سکرپٹ بدل رہا ہے؟

باجوہ ڈاکٹرائن یا عمرانی نظریہ، فیصلہ ہو چکا

کوٹ لکھپت کا قیدی نمبر 4470

بریگیڈیئر ریٹائرڈ اسد منیر بنام ریاست

نواز شریف کی جیل اور سزا سے ایک سبق تو مل ہی گیا کہ کسی رہنما کو اندر رکھنا مناسب نہیں بس اُس پر تلوار لٹکتی رہے اور میڈیا اربوں کھربوں گنتا رہے۔ عدالتوں سے بہتر روزانہ لگنے والی آٹھ سے بارہ عدالتیں ہیں جو سزا بھی دیتی ہیں اور نہیں بھی دیتیں سو انھی سے کام چلایا جائے۔ بہرحال پُرکار کے اندر کے سیاسی پیچوں کو دھیرے دھیرے تیل دیا جائے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption نواز شریف کو ملنے والا ریلیف پیپلزپارٹی کے نزدیک 'خاموش مفاہمت' ہے

دائرے کے اندر ہی بند سیاسی کرداروں کو اب باہر کیسے آنا ہے؟ دیکھا جائے تو محض ایک ہی کردار آزاد ہے اور وہ ہے بلاول۔ مریم نہ چاہتے ہوئے بھی والد کی رہائی سے لگی بیٹھی ہیں۔ انھیں کب اور کہاں باہر آنا ہے یہ فیصلہ نوازشریف کے خلاف اپیل کے فیصلے کے بعد ہو گا۔ زرداری اپنے مقدمات نمٹاتے رہیں گے۔ گو بلاول کے ہاتھ کمان تو آ چکی ہے لیکن تیر کب چلنا ہے یہ بھی ابھی طے نہیں ہوا۔

پُرکار کے دو کردار بلاول اور مریم بالواسطہ آپسی رابطوں اور نواز شریف کے بلاواسطہ رابطے میں تھے، ہیں اور رہیں گے۔ البتہ نواز شریف کو ملنے والا ریلیف پیپلزپارٹی کے نزدیک ’خاموش مفاہمت‘ ہے۔ کیا بلاول جیل والی گفت گو اور نواز شریف کی شاباش کو بھلا دیں گے یا کوٹ لکھپت کی ’خاموش مفاہمت‘ پر قائم رہیں گے۔ پیپلزپارٹی اعتبار کرنے یا نہ کرنے کے مرحلے میں ہے۔

بلاول دائرے کی بیرونی حد کے ہلکا سا قریب ہیں۔ حالیہ ٹرین مارچ کے دوران سندھ کے عوام کا والہانہ استقبال دیکھنے والوں کو متاثر کر گیا۔ بااختیار بھی سوچنے پر مجبور ہو رہے ہیں کہ تھوڑی دیر کو سہی مگر دائرہ سندھ کی حد تک ذرا وسیع رہنے دیا جائے۔ البتہ لاڑکانہ کے بعد جنوبی پنجاب تک ٹرین مارچ کا مرحلہ طے کرے گا کہ پنجاب میں پیپلز پارٹی کتنا آگے جا سکے گی اور کیا بلاول وسطی پنجاب تک مارچ لے آئیں گے اور کیا ’ن لیگ نظریاتی‘ یہاں ان کا ساتھ دے گی؟

تصویر کے کاپی رائٹ Pakistan Peoples Party
Image caption بلاول بھٹو کے کراچی سے لاڑکانہ تک ٹرین کے سفر کو عوام کی جانب سے پذیرائی ملی

دائرے کا ایک اور متحرک کردار رائیونڈ اور پنڈی کے درمیان محدود ہو گیا ہے۔ رائیونڈ سے بالا ہی بالا بعض معاملات طے ہوئے مگر اُن پر مہر ثبت نہ ہو سکی۔ اُن کا کردار سینیٹ انتخابات کے بعد نظر آرہا ہے جب سیٹ اپ کو ان ہاؤس ٹیون کرنے کا امکان ہو گا۔

پُرکار کے سیاسی پیچ پرزے البتہ کام نہیں کر رہے، توقع یہی تھی کہ ان کی کارکردگی اصل بااختیاروں کو مضبوط کرے گی لیکن اس محاذ پر اصل اہداف تاحال حاصل نہیں ہوئے۔ معیشت پر اندرونی اور بیرونی دباؤ نظام کا بیک اپ تیار کرنے کا مشورہ دے رہا ہے اور دائرے کے اندر ہی پُرکار کے پرزوں کے اختیار کو بھی محدود کر رہا ہے۔

مئی جون کا بظاہر پہلا اور حقیقتاً تیسرا بجٹ کیا رنگ لائے گا۔ عوامی حمایت میں کمی اور ایف اے ٹی ایف جیسے بیرونی دباؤ بین الاقوامی دائرے کو بھی تنگ کر سکتے ہیں جس سے اندرونی دائرے کی حدود ٹوٹ سکتی ہے، کردار آزاد ہو سکتے ہیں، اور فنکار۔۔۔ دیکھیے اور انتظار کیجیے!

اسی بارے میں