جبری مذہب کی تبدیلی: صائمہ اقبال کے شوہر جوڈیشل انکوائری کے فیصلے سے غیر مطمئن

نوید اقبال تصویر کے کاپی رائٹ Naveed Iqbal
Image caption نوید اقبال اپنی اہلیہ ضائمہ اقبال کے ہمراہ

اسلام آباد سے جبری اغوا کی جانے والی مسیحی خاتون صائمہ اقبال کے شوہر نوید اقبال مسیح نے کہا ہے کہ جوڈیشل انکوائری کمیشن کے فیصلے کی روشنی میں نکاح خواں اور اس کیس میں ملوث پولیس اہلکاروں کے خلاف بھی قانونی کارروائی ہونی چاہیے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے نوید اقبال نے بتایا کہ ’مجھے بتایا گیا ہے کہ میری بیوی کی تحویل کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی جا رہی ہے۔ ادھر مجھے مبارکباد کے پیغامات آرہے ہیں۔ میں کیسے خوشی مناؤں یہ جانتے ہوئے کہ میں اور میرے بچے اب تک محفوظ نہیں ہیں؟

انھوں نے کہا کہ جوڈیشل انکوائری کی رپورٹ آنے کے باوجود مجرم میری بیوی کو اپنی بیوی ظاہر کرکے مجھ پر الزام لگا رہے ہیں کہ میں نے ان کو ملنے نہیں دے رہا۔

صائمہ اقبال مسیح کے اغوا کے بعد بننے والے جوڈیشل انکوائری کمیشن نے کہا تھا کہ صائمہ اقبال کو اغوا کر کے زبردستی مذہب تبدیل کروایا گیا تھا۔

صائمہ اقبال نے اپنے شوہر نوید اقبال کے ہمراہ ایک ویڈیو بیان میں کہا ہے کہ انہیں ملزم خالد ستی نے اغوا کیا اور اس کے بعد انہیں زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔

انہوں نے کہا کہ ان پر جسمانی تشدد بھی کیا گیا اور دھمکی دی گئی کہ اگر اسلام قبول نہ کیا اور نکاح نہ کیا تو وہ میرے بچوں اور شوہر کو قتل کر دے گا۔

اس انکوائری کے تحت تمام ملزمان اور درخواست گزاروں کے بیانات ریکارڈ کرائے گئے جس کے بعد کمیشن نے اپنے فیصلے میں کہا کہ صائمہ مسیح سے ان کی مرضی کے خلاف اسلام قبول کروایا گیا۔

نوید اقبال نے کہا کہ پولیس اہلکار کو ’صرف نوکری سے برطرف کرنا کافی نہیں ہے، ہمیں اب بھی علاقے کے پولیس افسران سے خطرہ ہے۔‘

واضح رہے کہ حال ہی میں اسلام آباد کے سب ڈویژنل مجسٹریٹ اسسٹنٹ کمشنر وسیم احمد خان نے پولیس اور اعلیٰ افسران کی طرف سے صائمہ مسیح کے جبری طور پر مذہب تبدیل کروانے اور جنسی زیادتی کے کیس کا نوٹس لیتے ہوئے جوڈیشل انکوائری کروائی تھی۔

یہ بھی پڑھیے

’اسلام میں جبر نہیں، ذمہ داروں کے خلاف کارروائی ہوگی`

’بچیوں کی پیدائش کا ریکارڈ سِرے سے موجود ہی نہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ Naveed Iqbal
Image caption ابتدائی اطلاعی رپورٹ

نکاح خواں کا لائسنس منسوخ

نکاح خواں محمد علی کے بارے میں کمیشن نے کہا کہ انھوں نے قانونی ضابطوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے راولپنڈی میں طاہر ایڈووکیٹ کے دفتر میں نکاح پڑھایا جس کے باعث ان کا بطور نکاح خواں لائسنس منسوخ کردیا گیا۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے صائمہ مسیح کے خاوند نوید مسیح نے کہا کہ ’ہمارا کیس تفتیشی افسر کی لاپرواہی کی وجہ سے خراب ہوا جن کو انکوائری کمیشن نے صحیح فیصلہ کرتے ہوئے نوکری سے برطرف کیا لیکن ان کے خلاف مقدمہ بھی چلانا چاہیے۔‘

صائمہ مسیح کا کیس اس وقت سامنے آیا جب ان کے خاوند نوید اقبال نے 26 فروری کو تھانہ کھنّہ پُل، اقبال ٹاؤن میں صائمہ کے اغوا کی ایف آئی آر درج کرانے کی درخواست دی، لیکن پولیس انکوائری رپورٹ کے مطابق ایف آئی آر یکم مارچ کو درج کی گئی۔‘

ایف آئی آر کے متن کے مطابق، صائمہ کو اغوا اور جبری طور پر مذہب تبدیل کروانے میں خالد سّتی نامی شخص ملوث ہے۔

’رویتا کا زبردستی مذہب تبدیل کرنے کے بعد نکاح کیا گیا‘

مذہب کی جبراً تبدیلی پر بل اسمبلی میں دوبارہ لانے کا فیصلہ

’اس معاملے کو رہنے دو‘

اس کیس کے منظرِ عام پر آنے کے بعد انسانی حقوق پر کام کرنے والے اداروں کی طرف سے اسلام آباد میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے اور واقعے میں پولیس کے کردار پر بھی تنقید کی گئی۔

اس دوران صائمہ اقبال کے خاوند کی طرف سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری ہونے والا ایک ویڈیو بیان بھی سامنے آیا جس میں انھوں نے اغوا کاروں کی طرف سے دھمکیاں ملنے کے بعد ریاست سے اپنے بچوں کے لیے حفاظت کی اپیل کی۔

اس وقت بھی نوید اور ان کے بچے اقبال ٹاؤن چھوڑ کر مختلف لوگوں کے گھر پناہ لے رہے ہیں کیونکہ نوید کے مطابق ان کو اغوا کاروں کی طرف سے کیس واپس لینے کی دھمکی دی گئی تھی، اور واپس نہ لینے کی صورت میں وہ اب بھی خطرے سے دوچار ہیں۔

’مجھ سے تفتیشی افسر آصف شاہ نے حرف بہ حرف ایف آئی آر کا متن لکھوایا اور بعد میں تفتیش کے غرض سے گھر آ کر کہا کہ وہ آپ کو دھوکہ دے کر کسی اور کے ساتھ اپنی مرضی سے چلی گئی ہے، جوان آدمی ہو اپنے تین بچوں کی دیکھ بھال کرو اور اس معاملے کو رہنے دو۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Naveed Iqbal

نکاح اسلامی تعلیمات کے مطابق نہیں

انکوائری رپورٹ میں اسلامی آیات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ ’اسلام میں جبر نہیں ہے اور اس آیت کی روشنی میں یہ نکاح باطل قرار دیا جاتا ہے۔‘

رپورٹ کے مطابق، صائمہ اقبال کی طرف سے جمع کرائے گئے حلف نامے پر کسی مجسٹریٹ اور اوتھ کمشنر کے دستخط موجود نہیں ہیں اور نہ ہی اسلامی تعلیمات کے مطابق نکاح پڑھایا گیا ہے، جس میں عدت کی مدت پوری ہوئے بغیر نکاح کروایا گیا۔

ساتھ ہی خالد سّتی کے خلاف جنسی زیادتی اور جبری طور پر مذہب تبدیل کروانے کے خلاف شِق ایف آئی آر میں شامل کرنے کا بھی حکم دیا گیا۔

نوید اقبال نے کہا کہ ’ہم اب بھی خوف میں ہیں کیونکہ جہاں اعلیٰ پولیس افسران مجھ سے تعاون کر رہے ہیں وہیں علاقے کے تھانے سے مجھے اب بھی خطرہ ہے۔ اس لیے انکوائری کمیشن سے اپیل ہے کہ جو پولیس افسران اس معاملے میں ملوث ہیں ان کے خلاف مقدمہ چلایا جائے تاکہ وہ میری طرح کسی اور کے ساتھ ایسا کرنے سے پہلے سوچیں۔‘

اسی بارے میں