بجلی کا بل: تحریک انصاف کے دورِ حکومت میں عام آدمی کے بل میں کتنا اضافہ ہوا؟

  • اعظم خان
  • بی بی سی اردو، اسلام آباد
فائل فوٹو

،تصویر کا ذریعہPA

محمد جمیل اسلام آباد کے ایک رہائشی سیکٹر میں نجی ملازمت کے علاوہ محنت مزدوری کر کے اپنے بچوں اور والدین کا پیٹ پالتے ہیں۔ 34 برس کے محمد جمیل کو گذشتہ ماہ اس وقت خاصی پریشانی کا سامنا کرنا پڑا جب انھوں نے اپنی جمع پونجی سے ڈھائی ہزار روپے صرف بجلی کے بل کے لیے علیحدہ کیے۔

ان کی پریشانی کی بڑی وجہ یہ بھی تھی کہ ان کے گھر پر نہ ایئر کنڈیشنر چل رہا ہے، نہ ایئر کولر نصب ہے اور نہ ہی بجلی کے ہیٹر یا واشنگ مشین جیسی سہولیات دستیاب ہیں۔ اب وہ بھی یہی سوچتے ہیں کہ آخر بل میں اس قدر اضافہ کیسے ہوا؟

محمد جمیل کے دو بچے ہیں اور والدین بھی ان کے ساتھ رہ رہے ہیں۔

محمد جمیل کو یاد ہے کہ سنہ 2018 تک ان کا بجلی کا بل ایک ہزار روپے یا اس سے بھی کم کا ہوتا تھا۔ مگر اب یہ دگنے سے بھی بڑھ چکا ہے۔ ان کے مطابق ان کا گرمیوں میں زیادہ سے زیادہ بل گیارہ سو روپے تک ہوتا تھا اور سردیوں میں یہ اس سے بھی کم ہوتا تھا کیونکہ وہ 200 یونٹ سے کم بجلی پر گزارا کر لیتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

محمد جمیل کا کہنا ہے کہ ’میں نے اب بڑھتے اخراجات سے نمٹنے کے لیے پرائیویٹ نوکری کے اوقات کے بعد اور بھی جگہوں پر محنت مزدوری شروع کر دی ہے تاکہ ہمارے کچن میں بالکل اندھیرا نہ ہو جائے اور پھر کہیں میں معمر والدین اور اپنی ذہنی معذوری کا شکار بچی کو دوائی اور کھانا بھی نہ دے سکوں۔‘

حکومت نے عام صارف پر بھی بجلی کا بوجھ ڈال دیا؟

بجلی کی قیمتوں میں اضافے کے بارے میں خبریں میڈیا کی زینت بنتی رہتی ہیں اور حزب اختلاف کی طرف سے سخت تنقید بھی کی جاتی ہے کہ حکومت غریب عوام کا جینا مشکل بنا رہی ہے۔

اس حقیقت کو جاننے سے پہلے کہ تحریک انصاف کے برسراقتدار آنے کے بعد سے لے کر فروری 2021 تک بجلی کے بل میں کتنا اور کتنی بار اضافہ ہوا ہے یہ بات ذہن نشین کرنی ضروری ہے کہ پاکستان میں بجلی استعمال کرنے والے زیادہ تعداد ایسے صارفین کی ہے جو ماہانہ 300 تک یونٹ استعمال کرتی ہے۔

پاکستان میں بجلی کے نگران ادارے، نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی، (نیپرا) کے اعدادوشمار کے مطابق تقریباً تین کروڑ (29،957،369) بجلی صارفین میں سے دو کروڑ سے زائد (25،803،759) صارفین کی تعداد ایسی ہے جو ہر ماہ 300 یونٹ تک یا اس سے کم بجلی استعمال کرتی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

ایسے صارفین جو 300 تک ماہانہ بجلی کے یونٹ استعمال کرتے ہیں وہ عام صارفین کہلاتے ہیں، جنھیں بجلی کے نرخوں میں خاص رعایت حاصل ہوتی ہے

عام صارف سے کیا مراد ہے؟

ایسے صارفین جو 300 تک ماہانہ بجلی کے یونٹ استعمال کرتے ہیں وہ عام صارفین کہلاتے ہیں، جنھیں بجلی کے نرخوں میں خاص رعایت حاصل ہوتی ہے۔

ایسے صارفین سنگل فیز میٹر استعمال کرتے ہیں، جس میں وہ گرمیوں میں گھر میں ایک ایئرکنڈیشنر چلانے کے بجائے زیادہ سے زیادہ ایئر کولر استعمال کرتے ہیں۔

ان صارفین کی تعداد تو 70 فیصد سے بھی زیادہ ہے مگر 86 فیصد بجلی میں سے یہ 31 فیصد بجلی استعمال کرتے ہیں۔ باقی 51 فیصد ان صارفین کی تعداد بنتی ہے جو ماہانہ 300 سے زائد بجلی استعمال کرتے ہیں۔

یوں کسی بھی حکومت کے لیے یہ ایک نسبتاً آسان کام ہوتا ہے کہ وہ اس کم آمدنی والے طبقے پر زیادہ بوجھ نہ ڈالے اور انھیں مختلف طرح کے سرچارجز سے بھی بچائے رکھے۔ مگر اب عام صارف کے لیے بھی صورتحال اتنی آسان نہیں ہے۔

تحریک انصاف کے دور میں عام صارف کے بل میں کتنا اضافہ ہوا؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

یہ کہا جا سکتا ہے کہ تحریک انصاف نے اقتدار میں آ کر عام صارف کے لیے ماہانہ بجلی 585 روپے مہنگی کی ہے۔ تاہم یہاں یہ بات اہم ہے کہ بجلی کے بل میں فیول ایڈجسٹمنٹ، سرچارجز اور دیگر اضافے اس کے علاوہ ہیں

جب تحریک انصاف اقتدار میں آئی تو اس وقت عام صارف کے لیے بجلی فی یونٹ 10اعشاریہ دو روپے میں دستیاب تھی۔ تحریک انصاف کے دور اقتدار میں یہ نرخ بڑھ کر 12اعشاریہ 15 روپے تک پہنچ گیا یعنی فی یونٹ ایک روپیہ 95 پیسے کا اضافہ ہوا ہے۔

نیپرا ترجمان ساجد اکرم کے مطابق عام صارف جو 300 یونٹ تک بجلی استعمال کرتا ہے اس کا 2018 میں (جب تحریک انصاف برسر اقتدار آئی تو) ماہانہ بجلی کا بل 3060 روپے بنتا تھا جو اب بڑھ کر 3645 روپے ہو گیا ہے۔

یہ کہا جا سکتا ہے کہ تحریک انصاف نے اقتدار میں آ کر عام صارف کے لیے ماہانہ بجلی 585 روپے مہنگی کی ہے۔ تاہم یہاں یہ بات اہم ہے کہ بجلی کے بل میں فیول ایڈجسٹمنٹ، سرچارجز اور دیگر اضافے اس کے علاوہ ہیں۔

خیال رہے کہ 300 سے زائد یونٹ استعمال کرنے والوں کے لیے حکومتی نرخوں کو یہاں زیر بحث نہیں لایا جا رہا ہے، جو عام صارف کے نرخوں سے کہیں زیادہ ہیں۔

ماہانہ 300 سے زائد یونٹ استعمال کرنے والے صارفین ایئرکنڈیشنر استعمال کرتے ہیں اور وہ تھری فیز میٹر والے صارفین کہلاتے ہیں۔ ایسے صارفین کے لیے پیک آورز کے نرخ بھی زیادہ ہوتے ہیں۔ پیک آور شام کے ان اوقات کو کہا جاتا ہے جب بجلی کا استعمال کہیں زیادہ بڑھ جاتا ہے۔

نئے آرڈیننس کی کیا کہانی ہے؟

وزیر اعظم عمران خان کی سربراہی میں وفاقی کابینہ نے حال ہی میں بجلی کے بل پر سرچارج لگانے سے متعلق آرڈیننس کی منظوری دی ہے، جس کے بعد یہ کہا جا سکتا ہے کہ عوام کو بجلی کا ایک جھٹکا زیادہ قیمت کی صورت میں برداشت کرنا پڑے گا۔

ترجمان وزارت توانائی کے مطابق جب تک اس حوالے سے کوئی نوٹیفکیشن نہیں آ جاتا وہ یہ نہیں کہہ سکتے کہ کن اوقات میں یہ اضافہ عوام کو برداشت کرنا ہو گا۔

بجلی کے نرخ میں اضافے کی ایک بڑی وجہ بین الاقوامی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف کو حکومت پاکستان کی جانب سے دی گئی وہ یقین دہانی بھی بتائی جاتی ہے جس کے تحت گردشی قرضوں کو متفقہ حد تک محدود رکھنا بھی شامل ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشن

واضح رہے کہ نیلم جہلم منصوبہ اب تکمیل کو پہنچ چکا ہے اور اس منصوبے کی تکمیل کے باوجود جو اضافی چارجز وصول کیے گئے ہیں وہ واپس کیے جائیں گے

’نئے آرڈیننس کی ضرورت نہیں تھی‘

وزارت توانائی کے حکام کے مطابق نئے آرڈیننس کی ضرورت نہیں تھی کیونکہ پارلیمان کی متعلقہ کمیٹی نے اس کی منظوری دے دی تھی اور اب صرف بل قومی اسمبلی میں پیش کرنا تھا مگر حکومت نے آرڈیننس کا رستہ اختیار کیا۔

وزارت توانائی کے سینیئر حکام کے مطابق اب حکومت نے دوبارہ بجلی کے بل پر سرچارجز عائد کرنے سے متعلق شق شامل کر لی ہے اور ممکنہ طور پر ہر صارف کو اب دیامر بھاشا ڈیم کے لیے طویل عرصے تک فنڈز دینے ہوں گے کیونکہ اس ڈیم کے ساتھ جڑے کچھ تنازعات کی وجہ سے عالمی طور پر بھی اس منصوبے کے لیے قرض ملنا تقریباً ناممکن ہے۔

اس منصوبے کے لیے بھی نیلم جہلم ڈیم کی طرح بجلی کے بل سے فنڈز اکھٹے کیے جائیں گے۔

واضح رہے کہ نیلم جہلم منصوبہ اب تکمیل کو پہنچ چکا ہے اور اس منصوبے کی تکمیل کے باوجود جو اضافی چارجز وصول کیے گئے ہیں وہ واپس کیے جائیں گے۔