مردان میں خواتین کےلیے مخصوص بس سروس

پنک بس

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے دوسرے بڑے شہر مردان میں پہلی مرتبہ خواتین کےلیے مخصوص بس سروس کا آغاز کردیا گیا ہے۔

’پنک یا سکورہ بس‘ کے نام سے یہ مخصوص سروس صرف مردان شہر میں چلائی جائے گی اور جس میں صرف عورتیں اور 12 سال سے کم عمر بچے سفر کرسکیں گی۔ مردان کے بعد اس بس سروس کا آغاز ایبٹ آباد شہر میں بھی کیا جائے گا جس کےلیے تمام تر تیاریاں مکمل کرلی گئی ہے۔ توقع ہے کہ اگلے مہینے اس کا افتتاح ہو جائے گا۔

نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی کے مطابق جاپان کے تعاون سے شروع کیے جانے والے اس منصوبے پر کل ایک اعشاریہ چھ ملین امریکی ڈالر کی لاگت آئی ہے جبکہ اس کےلیے انفراسٹرکچر بنانے کا کام اقوام متحدہ کے ایک ادارے یو این او پی ایس کی طرف سے کیا گیا ہے۔

جاپان کی حکومت کی طرف سے اس پراجیکٹ کو 'سکورہ بس' کا نام دیا گیا ہے لیکن بسوں کا رنگ گلابی ہونے کی وجہ سے اس کا نام اب 'پنک بس' پڑگیا ہے۔ سکورہ جاپانی زبان کا لفظ ہے جس کی معنی پھول کے ہے۔

اس پراجیکٹ کےلیے کل چودہ بسیں فراہم کی گئی ہیں جن میں سات بسیں مردان اور سات ایبٹ آباد شہر کو دی گئی ہے۔

منصوبے کے پراجیکٹ منیجر واجد اللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ پنک بس سروس پاکستان بھر میں اپنی نوعیت کا پہلا ایسا منصوبہ ہے جو خصوصی طور پر عورتوں کے لیے شروع کیا گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس سے پہلے پنجاب میں خواتین کے لیے مخصوص ٹرانسپورٹ سروس شروع کرنے کا تجربہ کیا گیا تھا لیکن وہ ناکامی سے دوچار ہوا۔

انھوں نے کہا کہ مردان کے بعد یہ بس سروس بہت جلد ایبٹ آباد میں بھی شروع کی جارہی ہے جس کےلیے تمام تر تیاریاں مکمل کرلی گئی ہے اور توقع ہے کہ اس مہینے کے آخر یا مئی کے پہلے ہفتے میں اس کا افتتاح ہو جائے گا۔

سکورہ یا پنک بس جدید سہولیات سے آراستہ ہے جس میں عورتوں کی حفاظت کا خصوصی طورپر انتظام کیا گیا ہے۔ بس سروس کو ایک خصوصی سیفٹی ایپ سے بھی منسلک کیا گیا ہے جس کا مقصد عورتوں کی سکیورٹی کو یقینی بنانا اور انہیں زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کرنا ہے۔

سیفٹی ایپ کے ذریعے سے عورتوں کو بسوں کے مقام اور ان کے سٹاپس پر پہنچنے کی معلومات بروقت میسر ہوں گی جس سے انہیں سٹاپس پر زیادہ انتظار کی زحمت نہیں کرنی پڑگی۔ سیفٹی ایپ قانونی نافذ کرنے والے اداروں اور مقامی تھانوں سے بھی منسلک کیا گیا ہے۔

پراجیکٹ منیجر کے مطابق پنک بس میں چالیس افراد کے بیٹھنے کی گنجائش ہے جبکہ ایئر کنڈیشن کے ساتھ ساتھ اس میں دیگر جدید سہولیات بھی فراہم کی گئی ہے۔

انھوں نے کہا کہ مردان میں اس بس کا روٹ ایک طرف سے تقریباً 13 کلومیٹر پر مشتمل ہے جو عبدالوالی خان یونیورسٹی سے شروع ہوکر بغدادہ چوک پر ختم ہوتا ہے۔

ان کے مطابق ایک اندازے کے مطابق مردان میں تقریباً ساٹھ فیصد تک خواتین روزانہ پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کرتی ہے لیکن بدقسمتی سے پبلک مقامات پر اکثر اوقات خواتین انتہائی غیر محفوظ ہوتی ہیں۔

تاہم انھوں نے کہا کہ اس سروس کے شروع ہوجانے سے عورتوں کو کسی قسم کا کوئی خطرہ نہیں ہوگا اور اس سے باالخصوص یونیورسٹی اور کالجوں میں پڑھنے والی طالبات کو بہت فائدہ ہوگا۔

ایک سوال کے جواب میں پراجیکٹ منیجر نے کہا کہ یہ پائلٹ منصوبہ ہے لیکن اگر مزید بسوں کی ضرورت محسوس کی گئی تو اس میں مزید اضافہ کیا جاسکتا ہے۔

بسوں کی دیکھ بھال اور مرمت کی ذمہ داری خیبر پختونخوا حکومت کے ادارے ٹرانس پشاور کو دی گئی ہے۔

خیال رہے کہ پنک یا سکورہ بس منصوبے پر دستخط گذشتہ سال مئی کے مہینے میں کئے گئے تھے تاہم بی آر ٹی پر تعمیراتی کام کا آغاز ہوجانے کی وجہ سے یہ منصوبہ تعطل کا شکار ہوگیا تھا۔ ماضی میں پشاور میں بھی پبلک ٹرانسپورٹ میں خواتین کے لیے ایک مخصوص حصہ مختص کرنے کا تجربہ کیا گیا تھا لیکن وہ ناکام ہوگیا تھا۔

اسی بارے میں