حمزہ شہبازکے گھر چھاپہ: ’نیب نے شرمناک حرکت کی‘

حمزہ شہباز تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption نیب حکام کا کہنا ہے کہ حمزہ شہباز کے خلاف آمدن سے زائد اثاثہ جات کے معاملے میں تفتیش کی جا رہی ہے

قومی احتساب بیورو نے پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور مسلم لیگ کے رہنما حمزہ شہباز کی گرفتاری کے لیے لاہور میں ان کی رہائش گاہ پر چھاپہ مارا تاہم کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے۔

نیب کی ٹیم کے ان کے گھر سے رخصت ہونے کے کچھ ہی دیر بعد حمزہ شہباز نے لاہور میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے نیب کے اس اقدام کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ آج چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کیا گیا ہے۔

’مجھے جب بھی نیب کی جانب سے نوٹس ملا میں تحفظات کے باوجود پیش ہوا۔ آج کیا قیامت ٹوٹ پڑی کہ اس انداز میں میرے گھر کا گھیراؤ کیا گیا اور دیواریں پھلانگ کر داخل ہونے کی کوشش کی گئی۔‘

یہ بھی پڑھیے

’ہماری کمزوری تھی کہ نیب کا کالا قانون ختم نہ کر سکے‘

’مائی لارڈ رجسٹری نہیں کیش جمع کراؤں گا‘

پیراگون سکینڈل: خواجہ سعد رفیق بھائی سمیت گرفتار

نیب کے ایک سابق پراسیکیوٹر کی رائے

قومی احتساب بیوور کے سابق ایڈیشنل پراسیکوٹر ذوالفقار بھٹہ نے بی بی سی کو بتایا کہ نیب کے قانون کے سیکشن 24 سی کے تحت صرف غیر معمولی حالات میں ملزم کو گرفتار کیا جاسکتا ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ گرفتاری صرف اسی وقت عمل میں لائی جاسکتی ہے جب ملزم کے بیرون ملک فرار ہونے کا اندیشہ ہو یا تفتیش پر اثر انداز ہورہا ہو اور اس کے علاوہ وہ اس مقدمے میں سرکاری گواہ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرے۔

اُنھوں نے کہا کہ نیب کے حکام نے یہ طریقہ طے کیا ہوا ہے کہ جو شخص انکوائری میں باقاعدگی سے پیش ہور ہا ہو تو اس کو گرفتار نہیں کیا جاتا۔

دوسری طرف میاں شہباز شریف کے خاندانی ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ نیب کے اہلکاروں کے اس اقدام کو لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کریں گے کیونکہ ان کے بقول عدالت عدلیہ نے یہ واضح ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ میاں شہباز شریف یا حمزہ شہباز کی گرفتاری سے پہلے عدالت کو آگاہ کریں گے۔

حمزہ شہبار شریف کے گھر چھاپہ

نیب کی ٹیم جمعے کو لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں واقع حمزہ شہباز کے مکان پر پہنچی اور نیب کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق ٹیم کے ارکان کو وہاں مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔

شہباز شریف کا کہنا تھا کہ نیب کے ان کی رہائش گاہ پر ایکشن سے انھیں ایسا محسوس ہوا جیسے کسی دہشت گرد کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہو۔

’لاہور ہائی کورٹ کا واضح آرڈر ہے کہ نیب کو گرفتاری سے 10 روز قبل ملزم کو اطلاع دینا ضروری ہے مگر آج اس فیصلے کی دھجیاں اڑائی گئیں ہیں۔ نیب ٹیم سپر مین بن کر آئی تھی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ نیب نے شرمناک حرکت کی ہے اور اب کسی کی عزت محفوظ نہیں ہے۔

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کا ملزمان کو بغیر اجازت گرفتار کرنے کے حالیہ فیصلے میں ان کے بارے میں پہلے سے موجود لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار نہیں دیا گیا اور یہ ابھی بھی نافذ عمل ہے۔

انھوں نے اس موقع پر حکومت کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان کو اگر چور تلاش کرنے ہیں تو اپنے ارد گرد اور کابینہ میں بیٹھے اشخاص کو دیکھیں۔

’آج کی کارروائی سے عمران نیازی کا حسد اور بغض سے بھرا چہرہ بے نقاب ہو گیا ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ NAB

بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق نیب حکام کا کہنا ہے کہ حمزہ شہباز کے خلاف آمدن سے زائد اثاثہ جات کے معاملے میں تفتیش کی جا رہی ہے جبکہ رمضان شوگر ملز کیس میں بھی وہ زیر تفتیش ہیں۔

نیب کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ادارے کے ٹیم آمدن سے زیادہ اثاثہ جات اور مبینہ منی لانڈرنگ کے معاملات میں ٹھوس شواہد کی بنیاد پر گرفتاری کے لیے گئی تھی تاہم حمزہ شہباز کے محافظوں نے ٹیم کے ارکان کو زروکوب کیا اور انھیں جان سے مارنے کی دھمکیاں بھی دی گئیں۔

نیب نے مسلم لیگ ن کے رہنماؤں کی جانب سے ان الزامات کو بھی مسترد کیا ہے کہ ان کے پاس اس چھاپے کے وقت وارنٹ نہیں تھے اور کہا ہے کہ ٹیم اپنے ساتھ حمزہ شہباز کی گرفتاری کے وارنٹ لے کر گئی تھی۔

قومی احتساب بیورو کا یہ بھی کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کی جانب سے احکامات کے بعد اب کسی بھی شخص کو گرفتاری سے قبل پیشگی آگاہ کرنا ضروری نہیں ہے۔

واضح رہے کہ چند روز قبل عدالتِ عظمی قرار دے چکی ہے کہ کافی شواہد کی موجودگی میں نیب اپنے آرڈینینس کے تحت کسی ملزم کو بغیر اجازت گرفتار کرنے کی مجاز ہے۔ تاہم عدالت نے یہ بھی کہا تھا کہ امید ہے کہ نیب اس اختیار کا غلط استعمال نہیں کرے گا۔

نیب کے مطابق حمزہ شہباز اور شواہد اور عدالتِ عظمیٰ کے احکامات کی روشنی میں گرفتار کیا جائے گا۔

نیب حکام کے مطابق حمزہ شہباز کو ماضی میں متعدد مرتبہ آمدن سے زائد اثاثہ جات بنانے کے کیس میں طلب کیا گیا۔ وہ اس کیس میں نیب کے سامنے پیش بھی ہوئے تاہم تفتیش کاروں کو مطمئن نہ کر سکے۔

پیپلز پارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر نیب کے اس اقدام کی مذمت کی۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر شہباز شریف کے گھر چھاپہ ورانٹ گرفتاری کے بغیر مارا گیا ہے تو یہ انتہائی قابل مذمت ہے۔

’پیپلز پارٹی احتساب کے خلاف نہیں ہے مگر ہم احتساب کے نام پر سیاسی انتقام کے خلاف ہیں۔ حکومت کی جانب سے ایک اور غیر جمہوری اور آمریت پسندانہ عمل۔‘

اسی بارے میں