پاکپتن کے محمد فیاض کو اپنا طیارہ واپس مل گیا

فیاض کا طیارہ تصویر کے کاپی رائٹ CIVIL AVIATION

پاکستان کی سول ایوی ایشن کے حکام کا کہنا ہے کہ صوبہ پنجاب کے علاقے پاکپتن سے تعلق رکھنے والے محمد فیاض نامی شخص کو اس کا طیارہ واپس کر دیا گیا ہے۔

سول ایوی ایش اتھارٹی کی جانب سے جاری کی گئی ایک پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ ادارے کے ڈی جی شاہ رخ نصرت کی ہدایت پر ڈپٹی ایئر پورٹ مینیجر لاہور نذیر احمد نے یہ طیارہ پاپکتن کے رنگ شاہ پولیس سٹیشن کے حکام سے لے کر محمد فیاض کو لوٹا دیا۔

یہ بھی پڑھیے

’آرمی چیف میرا جہاز واپس دلوائیں‘

اڑن گاڑیوں کا ڈرائیونگ سکول

شاہ رخ نصرت نے اس حوالے سے کہا ہے کہ حکام محمد فیاض کے شوق کی قدر کرتے ہیں اور انھیں اس سلسلے میں مزید رہنمائی فراہم کی جائے گی۔

یاد رہے کہ اس ماہ کے آغاز میں پاکستان کے صوبہ پنجاب کے جنوبی شہر پاک پتن کے علاقے عارف والہ کے رہائشی محمد فیاض کی جانب سے ان کے نجی طور پر تیار کردہ چھوٹے طیارے کی پرواز کی کوشش کے بعد اسے ضبط کر لیا گیا تھا۔

مقامی پولیس نے مبینہ طور پر حکام کی اجازت کے بغیر جہاز تیار کرنے اور اڑانے پر محمد فیاض کے خلاف مقدمہ درج کر کے طیارہ قبضے میں لیا تھا اور مقامی عدالت نے ملزم کو تین ہزار روپے کا جرمانہ بھی کیا تھا۔

تاہم محمد فیاض کا موقف ہے کہ انھوں نے اس سلسلے میں متعلقہ حکام سے اجازت لینے کی کوشش کی تھی۔

بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک سے گفتگو کرتے ہوئے محمد فیاض نے کہا تھا کہ انھوں نے جہاز کی تیاری کے سلسلے میں ڈپٹی کمشنر کے دفتر کے علاوہ انٹیلیجنس بیورو اور پولیس حکام کے دفاتر کے چکر بھی لگائے لیکن اُنھوں نے اس کا مذاق اڑایا۔

اُنھوں نے کہا کہ جب اُنھوں نے جہاز تیار کرلیا اور اس کی آزمائشی پرواز کی اجازت لینے کے لیے بھی متعقلہ حکام سے رابطہ کیا تھا تاہم اُنھیں اس ضمن میں کوئی کامیابی نہیں ملی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Ijaz tareen
Image caption محمد فیاض کے مطابق انھیں اس جہاز کو بنانے میں پانچ ماہ کا عرصہ لگا اور اس پر ان کے مجموعی طور پر اخراجات 90 ہزار کے قریب آئے

اُنھوں نے کہا کہ اپنے شوق کی تکمیل کے لیے اُنھوں نے نہ صرف اپنی زمین بیچی بلکہ بینک سے 50 ہزار روپے قرضہ بھی لیا ہے جس کا ریکارڈ ان کے پاس موجود ہے۔

محمد فیاض ایک ریڑھی بان ہیں۔ صبح کے وقت وہ ریڑھی چلاتے ہیں جبکہ گھر کے اخراجات چلانے کے لیے وہ رات کو ایک کمپنی میں سکیورٹی گارڈ کے فرائض سرانجام دیتے ہیں۔

محمد فیاض کے بقول وہ اپنے والد کی وفات کے بعد اپنی تعلیم جاری نہ رکھ سکے اور گھر کو چلانے کے لیے اُنھیں ریڑھی چلانا پڑی۔

محمد فیاض انڈر میٹرک ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ جہاز بنانے کا شوق اُنھیں بچپن سے تھا اور اُنھوں نے اس ضمن میں کسی سے کوئی تربیت حاصل نہیں کی۔

محمد فیاض نے بتایا کہ انھیں اس جہاز کو بنانے میں پانچ ماہ کا عرصہ لگا اور اس پر ان کے مجموعی طور پر اخراجات 90 ہزار کے قریب آئے ہیں۔

مقامی حکام کا کہنا تھا کہ محمد فیاض نے جہاز اڑا کر نہ صرف اپنی زندگی کو خطرے میں ڈالا جبکہ دیگر افراد کی زندگیوں کو بھی خطرے سے دوچار کیا۔

مگر اب شاہ رخ نصرت نے کہا ہے کہ سول ایوی ایشن کی ایک ٹیم طیارے کا معائنہ کرنے کے بعد اس بات کا تعین کرے گی کہ محمد فیاض کو یہ طیارہ اڑانے کی اجازت دی جائے گی یا نہیں۔

اسی بارے میں