کراچی: برسوں تعیناتی کے بعد رینجرز کی روانگی، عارضی یا مستقل؟

رینجرز تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان اور انڈیا میں کشیدگی کے بعد سندھ میں اندرونی سکیورٹی پر مامور رینجرز اہلکاروں کو ہٹاکر سرحد پر بھیج دیا گیا ہے اور ان کی جگہ پولیس کے کمانڈوز کی تعیناتی کر دی گئی ہے۔

محکمہ داخلہ سندھ کے سیکریٹری قاضی کبیر نے تصدیق کی ہے کہ پاکستان اور انڈیا کی سرحد پر کشیدگی کے بعد سندھ رینجرز کی جانب سے محکمہ داخلہ کو ایک خط لکھ کر آگاہ کیا گیا ہے کہ رینجرز کے آپریشنل فرائض ختم کیے جارہے ہیں جس کے بعد غیر ملکی سفارتخانوں، اہم ملکی تعنصیبات پر اب پولیس تعینات کردی گئی ہے۔

‎دوسری جانب سندھ رینجرز کے ایک اعلامیے میں دعوی کیا گیا ہے کہ پاکستان رینجرز (سندھ) کے دستے کراچی اور اندرون سندھ میں بدستور اہم تنصیبات ،غیر ملکی سفارتخانوں اور دیگر ذمہ داری کے علاقوں میں اپنے فرائض سر انجام دے رہے ہیں اور اس میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

کراچی میں رینجرز کے اختیارات میں توسیع پر خاموشی

’کراچی میں امن کے لیے ایم کیو ایم اور پی ایس پی سے ملاقاتیں کیں‘

کراچی اور حیدرآباد میں ایم کیو ایم لندن کے درجنوں کارکن گرفتار

تصویر کے کاپی رائٹ AFP/Getty Images

سندھ رینجرز کا تنظیمی ڈھانچہ اور تعداد

سندھ رینجرز سات ونگز پر مشتمل ہے، جن میں انڈس، تھر، شہباز، بھٹائی، قاسم، سچل اور عبداللہ شاہ غازی رینجرز ونگ شامل ہیں اور ہر ونگ 4 سیکٹرز پر مشتمل ہے۔ رینجرز کی ویب سائٹ پر دیے گئے اعداد و شمار کے مطابق ہر ونگ میں 730 اہلکار تعینات ہیں اس طرح کل 120 ونگز میں کل اہلکاروں کی تعداد 20 ہزار 440 بنتی ہے۔

ڈی جی رینجرز میجر جنرل محمد سیعد نے چند ماہ قبل اپنے ایک خطاب میں کہا تھا کہ کراچی میں رینجرز 12000 اہلکاروں پر مشتمل ہے، جن میں سے پانچ ہزار ہوائی اڈے، قومی تنصیبات، چوکیوں، ریڈ زون پر تعینات ہیں جنھیں وہاں سے نہیں ہٹایا جاسکتا جبکہ ایڈمن اسٹاف کے علاوہ چار ہزار اہلکار دستیاب ہیں جو شہر کو دہشت گردوں اور جرائم پیشہ عناصر سے محفوظ بنانے کے لیے کوشاں ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

سندھ میں رینجرز کی آمد

سندھ میں رینجرز کی آمد لسانی فسادات کے بعد وفاق کے احکامات پر ہوئی تھی۔

ان فسادات کی شدت کراچی اور حیدرآباد میں زیادہ تھی۔ رینجرز کی ویب سائٹ پر فراہم کی گئی تفصیلات کے مطابق کراچی اور حیدرآباد میں امن و امان کی بدترین صورتحال کی وجہ سے ستمبر 1988 میں مہران فورس کا قیام عمل میں لایا گیا اور جب 1994 میں پاکستان فوج کو اندرونی سکیورٹی تعیناتی سے ہٹایا گیا تو مہران فورس نے اپنی ڈیوٹی جاری رکھیں۔

یاد رہے کہ 1994 میں کراچی میں فوج کو آپریشن سے الگ کردیا گیا تھا یہ آپریشن ایم کیو ایم کے خلاف جاری تھا۔

1995 میں جب پاکستان رینجرز کو پنجاب اور سندھ رینجرز میں تقسیم کیا گیا تو مہران فورس اور دیگر گروپ اس میں ضم کردیے گئے۔ رینجرز 1959 کے رینجرز آرڈیننس کے تحت کام کرتے ہیں جبکہ حکومت سندھ کی سالانہ درخواست پر اندرونی ڈیوٹی سر انجام دیتی ہے۔

سرحدوں کی نگرانی

پاکستان کی مشرقی سرحد جو انڈیا کے ساتھ 912 کلومیٹر پر مشتمل ہے، اس کی نگرانی رینجرز کے بنیادی فرائض میں شامل ہے، اس کے علاوہ دوران جنگ فوج کی قیادت میں تعیناتی، سرحدی علاقوں میں لوگوں کی جان و مال کی حفاظت، سرحد سے غیر قانونی طور پر آنے جانے والوں کو حراست میں لینا، سرحدی علاقے میں خفیہ معلومات کا حصول اور سمگلنگ کی روک تھام، رینجرز کی ذمہ داریوں میں شامل ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

اندرونی سکیورٹی ٹاسک

رینجرز کی آمد ابتدائی طور پر کراچی اور حیدرآباد میں لسانی فسادات کے بعد ہوئی تھی لیکن اس وقت وہ ان دونوں شہروں کے علاوہ تمام سرکاری جامعات، سکھر اور کشمور میں مختلف ونگز کی صورت میں موجود تھے۔

رینجرز کی ویب سائٹ پر حکومت سندھ کے محکمہ داخلہ کا ایک نوٹیفیکیشن ہے جس کے تحت سنہ 2009 سے رینجرز مندرجہ ذیل فرائض سر انجام دیتی رہی ہے جن میں انڈس اور قومی شاہراہ پر سنگین صورتحال میں گشت، کسی بڑے آپریشن کی صورت میں پولیس کو مدد فراہم کرنا، دریائے سندھ کے بند اور کچے کے علاقے میں جہاں پولیس کی تعداد کم ہے وہاں بند کی حفاظت، عارضی تعیناتی اور چوکیوں کا قیام، وہ پہاڑی علاقے جہاں پولیس تعینات نہیں وہاں یہ کمی رینجرز نے پوری کرنا تھی۔

نشاندہی کے بعد ان علاقوں میں رینجرز چھتوں یا زمین پر چوکیاں قائم کرسکتی تھی، امن و امان کے قیام اور پولیس کی مدد کے لیے منتخب سڑکوں پر گشت، اہم تنصیبات، اہم ہسپتالوں، تعلیمی اداروں اور غیر ملکی سفارتخانوں کو سکیورٹی کی فراہمی کے علاوہ مذہبی تہواروں اور اجتماعات کے موقعے پر پولیس کو مدد فراہم کرنا اس کے فرائض میں شامل تھا۔

فورس کا اپنا انٹیلیجنس نیٹ ورک تھا جس کی بنیاد پر آزادنہ آپریشن کیا جاتا تھا، رینجرز کے مقامی کمانڈنٹ کو ضلعی انتظامیہ اور پولیس سے مسلسل رابطے میں رہنے کا کہا گیا تھا۔ فورسز اہم شخصیات کو کراچی اور سندھ کے دیگر علاقوں کے دوروں کے موقعے پر سکیورٹی فراہم کرتی تھیں، اس کے علاوہ محکمہ داخلہ کی ہدایت پر اہم شخصیات کو سکیورٹی فراہم کی جاتی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

کراچی رینجرز کے اختیارات اور اعتراضات

پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت نے سنہ 2010 میں رینجرز کو بغیر وارنٹ چھاپوں اور گرفتاریوں کے اختیارات دیے، اس سے قبل یہ اختیارات صرف پولیس کو حاصل تھے۔ اس کے علاوہ رینجرز کو انسداد دہشت گردی ایکٹ انیس سو ستانوے کے سیکشن پانچ کے اختیارات دیے گئے جس کے تحت وہ بغیر کسی وارنٹ کے گرفتاریاں اور چھاپے مار سکتی تھی۔

وفاق میں مسلم لیگ ن کی حکومت آنے کے بعد کراچی میں 2014 کو آپریشن کا اعلان کیا گیا، جس میں چھاپوں اور گرفتاریوں کے علاوہ رینجرز کو کسی بھی مشکوک شخص کو 90 روز حراست میں رکھنے کے بھی اختیارات حاصل ہوگئے۔

رینجرز کے اختیارات پر سب سے زیادہ احتجاج متحدہ قومی موومنٹ کا سامنے آیا تھا، جس کا ہمیشہ یہ شکوہ رہا ہے کہ کراچی آپریشن کے نام پر انھیں نشانہ بنایا جارہا ہے جبکہ انسانی حقوق کمیشن نے بھی رینجرز پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تشویش کا اظہار کیا۔

رینجرز نے جب سابق وفاقی وزیر ڈاکٹر عاصم حسین کو گرفتار کیا تو پہلی بار صوبائی حکومت اور رینجرز میں اختیارات کے معاملے پر کشیدگی سامنے آئی جس کے بعد رینجرز کے پولیس اور انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت حاصل اختیارات واپس لے لیے گئے ۔

حالیہ آپریشن سے قبل بھی ایم کیو ایم رینجرز کو 1992 اور 1996 کے آپریشن پر اپنے تحفظات اور خدشات کا اظہار کرتی رہی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

کراچی میں مستقل ٹھکانے

کراچی میں رینجرز کی آمد تین دہائی قبل امن و امان کی بحالی کے لیے عارضی بنیادوں پر ہوئی تھی اور ہر سال حکومت سندھ ان کی مدت میں اضافہ کرتی رہی ہے، تاہم رینجرز نے شہر میں اپنے قیام کے مستقل ٹھکانے بھی بنائے ہیں، جن میں قومی ورثہ قرار دیے گئے جناح کورٹس، میٹھا رام ہاسٹل، ریڈیو پاکستان کی قدیم عمارت، پیپلز سٹیڈیم اور غالب لائبریری بھی شامل ہے۔

رینجرز حکام کا موقف رہا ہے کہ جگہ کی عدم دستیابی کی وجہ سے ان جگہوں پر قیام کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ سپر ہائی وے پر بھی رینجرز کو حکومت سندھ کی جانب سے زمین فراہم کی گئی ہے جہاں رہائشی کالونی کے علاوہ سکول بھی قائم کیا گیا ہے۔

حکمراں جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کا یہ موقف رہا ہے کہ سندھ میں پولیس کی افرادی قوت اور قابلیت میں اضافہ کیا جائے تاکہ رینجرز کی مزید خدمات حاصل نہ کی جاسکیں۔ موجودہ وقت میں گذشتہ ایک ہفتے سے پولیس نے تمام معاملات سنبھالے ہوئے ہیں۔

بعض تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ پولیس سیاسی اثر کے طابع ہے جبکہ رینجرز آزاد ہیں اور ہر وفاقی حکومت کی کوشش ہوتی ہے کہ ملک کے سب سے بڑے شہر میں اس کا اثر و رسوخ رہے اس لیے رینجرز کی روانگی عارضی ثابت ہو گی۔

اسی بارے میں