کیا ڈالر کی اونچی اڑان کا سبب آئی ایم ایف ہے؟

ڈالر تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان میں حکومتی یقین دہانیوں کے باوجود رواں ہفتے پاکستان کی اوپن مارکیٹ میں امریکی ڈالر کی قدر 148 روپے کی بلند ترین سطح تک پہنچ گئی جس کے بعد حکومت نے ڈالر کی ذخیرہ اندوزی کے خلاف ’بھرپور‘ کریک ڈاؤن کا فیصلہ کیا ہے۔

بی بی سی نے اس رپورٹ میں چند بنیادی نکات جیسا کہ پاکستان میں ڈالر کی قدر متعین کرنے کا طریقہِ کار، موجودہ صورتحال کے پیچھے کارفرما عوامل اور اس کے معیشت اور عام آدمی پر اثرات، ڈالر کی ذخیرہ اندوزی، اور اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے حکومتی ردِعمل کا جائزہ لیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

'جب نوٹ چھاپیں گے تو افراطِ زر تو بڑھے گا'

ڈالر مزید مہنگا:’2019 پاکستانی عوام کے لیے بہت برا گزرے گا‘

اسد عمر: پاکستان اور آئی ایم ایف معاہدے کے قریب

ڈالر کی قدر کیسے متعین ہوتی ہے؟

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے مالیاتی امور پر لکھنے والے صحافی خرم حسین کا کہنا تھا کہ دنیا بھر کے ترقی یافتہ ممالک میں ڈالر کی قیمت اوپن مارکیٹ متعین کرتی ہے اور یہ اس بنیاد پر ہوتا ہے کہ کسی بھی ملک کی معیشت میں کتنے ڈالرز دستیاب ہیں اور ملک میں ان کی مانگ کتنی ہے۔

انھوں نے بتایا کہ ڈالر کی قدر اس وقت بڑھ جاتی ہے جب کسی معیشت میں اس کی مانگ بڑھتی ہے مگر دوسری جانب رسد گھٹ جاتی ہے۔

پاکستان میں معاملہ تھوڑا مختلف ہے اور یہاں ڈالر کی قدر کا تعین دو طرح ہوتا ہے۔

اول انٹر بینک مارکیٹ جہاں بینک آپس میں ڈالر کی بڑے پیمانے پر خرید و فروخت کرتے ہیں اور یہاں کی قیمت کو ڈالر کا انٹر بینک ریٹ کہا جاتا ہے جبکہ دوسری اوپن مارکیٹ ہے جہاں سے عام لوگوں کی ڈالر کی ضروریات پوری ہوتی ہیں۔

’حکومت اور سٹیٹ بینک ڈالر کی قدر متعین کرنے کے معاملے میں اوپن مارکیٹ میں دخل اندازی کرتے ہیں یہ فیصلہ کرنے کیے لیے کہ اس کی قیمت کو ایک وقت میں کتنا ہونا چاہیے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

اوپن مارکیٹ میں جب ڈالر کی مانگ میں اضافہ ہوتا ہے اور رسد کم تو سٹیٹ بینک اپنے ڈالر کے ذخائر سے ڈالرز مارکیٹ میں بیچتا ہے تاکہ سپلائی کو بہتر کیا جا سکے۔

ان کے مطابق دوسرا طریقہ یہ ہے کہ سٹیٹ بینک چپ چاپ تمام کمرشل بینکوں کو زبانی ہدایات جاری کر دیتا ہے کہ ایک مخصوص قیمت سے زائد پر وہ ڈالر کی خریداری مت کریں۔

اس سے فائدہ یہ ہوتا ہے کہ ایک مخصوص قیمت پر پہنچ کر بینک خریداری بند کر دیتے ہیں اور اس سے قیمت بڑھنے سے رک جاتی ہے مگر اس کا نقصان بھی ہوتا ہے اور حکومت کے پاس ڈالر کے ذخائر کم ہو جاتے ہیں۔

خرم حسین کا کہنا تھا کہ انٹر بینک میں فی الحال ڈالر کا ریٹ مستحکم ہے اور یہاں ذخیرہ اندوزی کی شکایت نہیں ہے جبکہ اصل مسئلہ اوپن مارکیٹ میں ہے جہاں ڈیلر حضرات یہ بتا رہے ہیں کہ ڈالر کی طلب بڑھی ہے مگر رسد نہیں ہے کیوں کے گاہک خریدنے آ رہے بیچ کوئی نہیں رہا۔

انھوں نے کہا کہ اوپن مارکیٹ میں بتایا جا رہا ہے کہ اس سلسلے میں کافی افراتفری ہے اور لوگ ڈالر خرید کر گھر میں رکھ رہے ہیں یہ سوچتے ہوئے کہ آگے چل کر روپے کی قدر میں مزید کمی ہو گی۔

سٹیٹ بینک مداخلت کیوں کرتا ہے؟

ماہر معاشیات اور اکنامک ایڈوائزی کمیٹی کے رکن ڈاکٹر اشفاق حسن کہتے ہیں کہ ترقی پذیر ممالک جیسا کے پاکستان جہاں مارکیٹ چھوٹی ہے اور روزانہ ڈالر کی ٹریڈ صرف چھ سے سات ملین ڈالر ہے وہاں حکومتوں کو اوپن مارکیٹ کے معاملات میں دخل اندازی کرنا پڑتی ہے۔

’چھوٹے حجم کی مارکیٹ میں اگر ڈالر کی قدر کا تعین اوپن مارکیٹ پر چھوڑ دیا جائے تو لوگ ڈالر کے ساتھ کھلواڑ شروع کر دیتے ہیں اور مصنوعی صورتحال تخلیق کر کے ڈالر کی قدر کر اثر انداز ہونا شروع کر دیتے ہیں اور اس موقع پر سٹیٹ بینک کو مداخلت کرنی پڑتی ہے تاکہ کسی بھی ابنارمل صورتحال کا بندوبست کیا جائے تاکہ ایکسچینج ریٹ پر کسی قسم کا دباؤ نہ پڑے۔‘

کیا اس کی وجہ آئی ایم ایف ہے؟

ڈاکٹر اشفاق حسن کا ماننا ہے کہ صورتحال کے اس نہج پر پہنچنے کی سب سے بڑی وجہ آئی ایم ایف ہے۔

حکومت یہ فیصلہ کر چکی ہے کہ آئی ایم ایف کے پاس قرض کے حصول کے لیے جانا ہے اور آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ پاکستان کا ایکسچینج ریٹ کافی خراب ہے اور قرضے کے حصول سے قبل اس کو درست کیا جانا ضروری ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

’میرے خیال میں یقیناً آئی ایم ایف کی طرف سے کوئی نہ کوئی ٹارگٹ دیا گیا ہو گا کہ روپے کی قدر کیا ہونی چاہیے۔‘

انھوں نے بتایا کہ جس تیزی سے سٹیٹ بینک نے گذشتہ مہینوں میں ریٹ ایڈجسٹ کیا ہے اس سے لگ رہا ہے کہ ’گاڑی چھوٹ رہی ہے اور آپ نے جلد از جلد اس میں سوار ہونا ہے اور ایسا کرتے ہوئے آپ افراتفری کا شکار ہو جاتے ہیں‘ جبکہ عام حالات میں ایسا نہیں ہوتا۔

جب حکومت ہر چند روز بعد ڈالر کی قیمت اس کی قدر میں اضافہ کر کے ایڈجسٹ کر رہی ہے اور لوگ دیکھ رہے ہیں تو یقیناً لوگوں میں ایک توقع اور امید پیدا ہوتی ہے کہ موقع سے فائدہ اٹھایا جائے۔

’میرے خیال میں آئی ایم ایف کے علاوہ اور کوئی خاص وجہ نہیں ہے۔‘

ڈالر کی ذخیرہ اندوزی کیا ہے؟

خرم حسین کا کہنا ہے کہ لگاتار مہنگائی بڑھنے اور روپے کی قدر کم ہونا لوگوں کو یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ طویل ہوتا یہ سلسلہ آئندہ جاری رہ سکتا ہے اور محفوظ طریقہ کار ڈالر کو بچا رکھنے میں ہی ہے۔

’جب بھی ملک میں مہنگائی بڑھتی ہے تو ایسا ہوتا ہے کیوں کے لوگوں کا خیال ہوتا ہے کہ بینک میں ان کے پیسے پڑے پڑے کم ہو رہے ہیں اور ڈالر ہونے کی صورت میں وہ روپے کی قدر میں کمی سے محفوظ رہ پائیں گے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

ڈاکٹر اشفاق حسن کہتے ہیں کہ برآمدات کے شعبے سے وابستہ افراد جب دیکھتے ہیں کہ آج ڈالر کا یہ ریٹ ہے اور اگر آج میں اپنے ایکسپورٹ پروسیڈز کو مارکیٹ میں نہ لاؤں تو مجھے چند پیسے زیادہ مل جائیں گے اور اس سوچ کے تحت وہ اپنی ایکسپورٹ پروسیڈز کو روک لیتے ہیں۔ جبکہ درآمدات کے شعبے سے وابستہ افراد بھی انھیں خطوط پر سوچتے اور فیصلہ کرتے ہیں جس سے طلب اور رسد میں بگاڑ پیدا ہو جاتا ہے اور مارکیٹ میں افراتفری کی سی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے۔

اس کے نقصانات کیا ہیں؟

ڈاکٹر اشفاق حسن کہتے ہیں کہ روپے کی قدر بے تحاشہ کم کرنے کا سب سے بڑا نقصان قرضوں اور سود کی شرح میں اضافے کی صورت میں نکلتا ہے۔ یاد رہے کہ گذشتہ ایک سال میں شرح سود 5.75 فیصد سے بڑھ کر 10.75 فیصد ہو چکی ہے۔

’اب ملک کا زیادہ پیسہ سود کی ادائیگی میں جائے گا اور ترقی صحت اور عوام پر لگانے کے لیے کچھ نہیں بچے گا اور آپ مزید قرضے کی طرف جائیں گے اور اس صورتحال کو قرض کی دلدل میں مزید پھنسنا کہتے ہیں۔

اس صورتحال کو دیکھ کر انوسٹر کا اعتماد بھی اٹھ جاتا ہے اور وہ انوئسٹمنٹ لانے سے گریزاں ہو جاتے ہیں۔

ڈاکٹر اشفاق کا کہنا ہے کہ وہ گذشتہ ساڑھے تین دہائیوں سے معاشیات کو دیکھ رہے ہیں مگر اتنی تیزی سے ایکسچینج ریٹ کو انھوں نے کبھی بڑھتے نہیں دیکھا۔

کیا حکومتی رد عمل درست ہے؟

حکومت کے کریک ڈاؤن کرنے کے فیصلے کو خرم حسین درست اقدام نہیں سمجھتے۔

ماضی میں جب بھی اس طرح کی کارروائی کی گئی اس کے نتائج خاطر خواہ نہیں نکلے۔

انھوں نے بتایا کہ ’سنہ 2008 میں ایسا ہوا اور چند بڑے ایکسچینج ڈیلرز کے خلاف کیسز بنائے گئے مگر وہ دو سے تین سال میں سب کے سب بری ہو گئے اور کوئی فائدہ نہیں ہوا۔‘

’ایسے اعلانات سے البتہ مارکیٹ میں پیغام یہ جاتا ہے کہ حکومت اس صورتحال سے خود بھی ناامید ہو گئی ہے اور بے یقینی کا شکار ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ کریک ڈاؤن عمومی طور پر کسی حکومت کا صورتحال پر قابو پانے کا آخری حربہ ہوتا ہے اور یہ اس وقت کیا جاتا ہے جب حکومت کے پاس کوئی اور حکمت علملی باقی نہ رہ جائے۔

2008 میں صورتحال اس سے بھی گھمبیر تھی یہاں تک کہ لوگ انٹر بینک سے ڈالر خرید کر باہر کے ممالک بھیج رہے تھے اور پاکستان میں رکھ ہی نہیں رہے تھے۔ یہ اس خدشے کی بنیاد پر کہ بینکس ان کی فارن کرنسی اکاؤنٹس کو منجمد کر دیں گے جیسا کہ سنہ 1998 میں ایٹمی دھماکوں کے بعد ہوا تھا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں