’نیب واحد ادارہ ہے جس کا احتساب کرنے والا کوئی نہیں‘

نیب تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

گذشتہ ہفتے قومی احتساب بیورو یعنی نیب نے پنجاب اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف حمزہ شہباز شریف کی گرفتاری کے لیے ان کے گھر پر چوبیس گھنٹوں میں دو مرتبہ چھاپے مارے۔ گرفتاری تو عمل میں نہ آ سکی مگر نیب کے حوالے سے تنقید ایک مرتبہ پھر زیرِ بحث آنے لگی ہے۔

ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتوں کے مرکزی رہنماؤں نے نہ صرف نیب کے قوانین کو ’کالا قانون‘ قرار دیا بلکہ یہ الزامات بھی تواتر کے ساتھ عائد کیے جاتے ہیں کہ بعض خفیہ طاقتیں نیب کو سیاستدانوں کے خلاف انتقامی کارروائیوں، سیاسی جوڑ توڑ اور منوورنگ کے لیے استعمال کر رہی ہیں۔

حقائق یہ ہیں کہ ملک میں اس وقت نو بقیدِ حیات شخصیات ایسی ہیں جو مختلف اوقات میں وزیراعظم پاکستان کے عہدے پر فائز رہی ہیں۔ ماسوائے دو سابقہ وزرائےاعظم کے باقی تمام نیب میں مختلف مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں یا کر چکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

’ہماری کمزوری تھی کہ نیب کا کالا قانون ختم نہ کر سکے‘

آئی ایس آئی کے سابق افسر کی خودکشی

’جب نیب کا نوٹس ملا میں پیش ہوا۔ آج کیا قیامت ٹوٹ پڑی‘

گمنام درخواستوں پر ایکشن، ناکافی شواہد کی بنیاد پر گرفتاریاں، الزامات ثابت ہونے سے پہلے میڈیا میں تشہیر، تفشیش کاروں کا نامناسب رویہ، زیر حراست ملزمان سے ناروا سلوک، اور نیب آرڈینینس کے تحت اس ادارے اور اس کے چئیرمین کو حاصل لامحدود صوابدیدی اختیارات وہ الزامات ہیں جن کا نیب کو بحیثیت ایک ادارہ سامنا کر پڑ رہا ہے۔

نیب قوانین اور صوابدیدی اختیارات

نیب کے سابقہ سپیشل پراسیکیوٹر عمران شفیق نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ نیب آرڈینینس کا سیکشن 9 کرپشن کی تعریف واضح کرتا ہے۔

ان کے مطابق سیکشن نو کی سب سے اہم ذیلی شقیں اے پانچ (ذرائع آمدن اور اثاثہ جات) اور اے چھ (اختیارات کا غلط استعمال) ہیں۔

’سیاست دانوں اور سرکاری افسران کے خلاف بننے والے 95 فیصد مقدمات ان دو سب سیکشن کے تحت کیے جاتے ہیں۔‘

انھوں نے بتایا کہ نیب کسی معاملے کی انکوائری حکومتی اداروں کی درخواست، دوسرے ذرائع سے ملنے والی شکایات، یا نیب افسران کے اپنے فیصلے کی بنیاد پر شروع کرتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

سیکشن 24 کے تحت نیب چئیرمین کے پاس یہ اختیارات بھی ہیں کہ وہ کسی ملزم کو انکوائری یا تفشیش کی غرض سے مقدمے کے کسی بھی مرحلے پر گرفتار کرنے کے احکامات جاری کر سکتے ہیں۔

جبکہ نیب کے دائرہ اختیار میں آنے والے تمام جرائم ناقابلِ ضمانت ہیں۔ احتساب عدالتیں ملزم کی ضمانت کی درخواست لینے یا سننے کی مجاز نہیں ہیں۔

عمران شفیق کا کہنا ہے کہ نیب کے قواعد و ضوابط اور سپریم کورٹ کی چند فیصلوں کے مطابق نیب صرف بڑے کرپشن کیسیز کو دیکھ سکتی ہے تاہم ’عمومی طور پر ان قواعد کی پاسداری نہیں کی جاتی۔‘

عمران شفیق سابقہ وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے خلاف بننے والے ریفرینس میں نیب کی استغاثہ ٹیم کے سربراہ تھے جبکہ نواز شریف کے خلاف پانامہ پیپرز میں استغاثہ ٹیم کے ممبر بھی۔

یاد رہے کہ چیئرمین نیب کو حاصل لامحدود اختیارات اور نیب کے دوسرے قوانین کو محدود کرنے کی کوششیں ماضی میں مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی کے ادوار میں جاری رہی ہیں تاہم یہ کبھی کامیابی سے ہمکنار نہ ہو پائیں۔

گزشتہ دنوں پیپلز پارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ یہ ان کی حکومت کی کمزوری تھی کہ نیب کے قانون کو ختم نہیں کر سکی۔

انکوئری، تفتیش اور زیر حراست افراد سے برتاؤ

’میں مضبوط اعصاب کا مالک ہوں مگر نیب کے زیر حراست گزارے گئے سات دن اور اس دوران میرے ساتھ روا رکھا گیا سلوک میرے لیے کسی ڈراونے خواب سے کم نہیں۔ احتساب کے نام پر گرفتار کرنے والے شاید اس بات سے ناواقف ہیں کہ عزت بھی کوئی چیز ہوتی ہے۔‘

یہ کہنا ہے حال ہی میں ریٹائر ہونے والے وفاقی حکومت کے گریڈ بائیس کے ایک افسر کا جو گزشتہ دو برسوں سے نیب کے ’زیرِ عتاب‘ ہیں اور ان پر الزام یہ ہے کہ انھوں نے ایک تعمیراتی منصوبہ روک کر ’اختیارات کا ناجائز استعمال‘ کیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’دو سال ہو چکے ہیں۔ میں سات روز نیب کے سیل اور 15 روز اڈیالہ جیل میں رہ چکا ہوں۔ ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ نے میری ضمانت منظور کرتے ہوئے 28 صفحے کے فیصلے میں میرے کیس کے حوالے سے نیب کی کارکردگی پر سنگین سوالات اٹھائے ہیں۔ دوسری طرف صورتحال یہ ہے کہ نیب اب تک احتساب عدالت میں میرے خلاف ایک بھی چارج فریم نہیں کر پائی ہے۔‘

اپنی طویل داستان انھوں نے یہ کہتے ہوئے ختم کی کہ ’نیب شاید وہ واحد ادارہ ہے جس کا احتساب کرنے والا کوئی نہیں۔‘

گذشتہ ماہ فوج کے سابق افسر اسد منیر نے مبینہ طور پر نیب کے ہاتھوں ’ذلت‘ سے بچنے کے لیے اپنی جان لے لی جبکہ سرگودھا یونیورسٹی کے سابق چیف ایگزیکٹو میاں جاوید اقبال کی لاش کو لگی ہتھکڑیوں والی تصاویر ابھی ہمارے ذہنوں میں تازہ ہیں۔

عمران شفیق کا کہنا ہے کہ نیب کے قواعد و ضوابط کے تحت گمنام درخواست یا شکایت پر ایکشن نہیں لیا جا سکتا تاہم اگر نیب یہ سمجھتا ہے کہ گمنام درخواست میں کافی مواد موجود ہے تو ایسی درخواست کو صوابدیدی اختیارت میں تبدیل کر کے ایکشن لیا جا سکتا ہے تاہم ایسے ایکشن کو صوابدیدی اختیار کے تحت گنا جائے گا نہ کہ گمنام درخواست کی بنیاد پر۔

عمران شفیق کا کہنا ہے کہ ’نیب میں کیس کے چار مراحل ہیں: شکایت کی تصدیق پہلا مرحلہ ہے جس میں مبینہ ملزم کے علم میں لائے بغیر اس کے خلاف آنے والی شکایت کی تصدیق کی جاتی ہے ۔ شواہد ملنے پر باقاعدہ انکوائری، مزید شواہد پر تیسرا مرحلہ تفشیش اور چوتھا احتساب عدالت میں ریفرینس فائل کرنا ہے۔‘

جولائی 2018 میں ہونے والے عام انتخابات سے قبل ’گمنام‘ درخواستیں موصول ہوتی تھیں جنھیں صوابدیدی اختیارت استعمال کرتے ہوئے فی الفور انکوائری میں تبدیل کیا جاتا۔ عمران شفیق کہتے ہیں کہ ’آپ یوں سمجھیے کہ اس دوران شکایت کی تصدیق کا پورا مرحلہ احتساب کے عمل سے سرے سے نکال ہی دیا گیا۔‘

یہی وہ وجہ تھی جس کے باعث نیب کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا تھا کہ ادارہ گمنام درخواستوں پر نہ صرف ایکشن لے رہا ہے بلکہ پریس ریلیز جاری کر کے ’پگڑیاں اچھالنے‘ اور ’الیکشن پر اثر انداز‘ ہونے میں ملوث ہے۔

ضمانت کیوں نہیں؟

قومی احتساب آرڈینینس کے تحت تمام جرائم ناقابل ضمانت ہیں۔

ابتدا میں نہ صرف احتساب عدالت بلکہ ہائی کورٹس کو بھی یہ اختیار نہ تھا کہ وہ ان جرائم کی ضمانت کی درخواست سن سکیں۔

تاہم سنہ 2001 میں اسفند یار ولی کیس میں سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ ضمانت کا حق نہ دینا انصاف کے بنیادی حقوق کے خلاف ہے۔ اس کے بعد نیب آرڈینینس میں ترمیم ہوئی اور ہائی کورٹ کا لفظ آرڈینینس سے نکالا گیا۔ اب ہائی کورٹ اپنی رٹ کا دائرہ اختیار استعمال کرتے ہوئے ضمانت کی درخواست سن سکتی ہے۔'

عمران شفیق کہتے ہیں کہ قتل، دہشت گردی اور منشیات سے متعلقہ جرائم ناقابل ضمانت ہیں مگر عدالتوں کو ضمانت کی درخواست سننے اور قبول کرنے کا اختیار ہوتا ہے مگر احتساب عدالت کے پاس قانوناً ایسا کوئی اختیار سرے سے موجود ہی نہیں۔

نومبر 2018 میں اپنے ایک تحریری فیصلے میں جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں قائم سپریم کورٹ کے بینچ نے پارلیمان کو تجویز دی تھی کہ قومی احتساب آرڈینینس میں ترمیم کر کے احتساب عدالت کو ضمانت کی درخواست سننے کا مجاز قرار دیا جائے۔

گرفتاری میں جلد بازی؟

عمومی طور پر دنیا بھر میں کسی ملزم کی گرفتاری اس وقت عمل میں آتی ہے جب شواہد کا انبار اکٹھا ہو جاتا ہے اور جب تفشیش کاروں کو اس بات کا اندیشہ نہ رہے کہ ملزم عدالت سے باعزت بری ہو جائے گا اور ادارے کی نیک نامی پر حرف نہیں آئے گا۔

عمران شفیق کہتے ہیں کہ ’جلد بازی ہمارا بڑا مسئلہ ہے۔ بد قسمتی سے نیب میں میں نے ایسے کیس کم ہی دیکھے ہیں جن میں گرفتاری شواہد کا انبار لگا کر کی گئی ہو اور نتیجہ ہم سب سے سامنے ہے اکثر کیس یا تو بے نتیجہ ختم ہوتے ہیں یا طوالت کا شکار۔ یہ عمل احتساب کو بدنام کرنے کے مترادف ہے۔‘

ایون فیلڈ ریفرنس میں نواز شریف، مریم نواز اور محمد صفدر کی اسلام آباد ہائی کورٹ سے سزا معطلی اور ضمانت پر رہائی اس بات کی واضح دلیل ہے۔

تاہم رواں ماہ سپریم کورٹ نے اپنے ایک فیصلے میں قرار دیا ہے کہ نیب کافی شواہد کی موجودگی میں کسی ملزم کو بغیر اطلاع دیے گرفتار کرنے کا اختیار رکھتی ہے۔

اس حوالے سے بی بی سی نے نیب کا موقف جاننے کی کوشش کی تاہم نیب ترجمان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے کیس پہلے ہی سپریم کورٹ میں زیرِ سماعت ہے جس کے باعث وہ اس معاملے پر بات چیت نہیں کر سکتے۔

اسی بارے میں