بلوچستان: وراثتی جائیداد میں خواتین کے شرعی حصے کی ترمیم منظور

تصویر کے کاپی رائٹ BALOCHISTAN ASSEMBLY

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کی حکومت نے وراثتی جائیداد میں خواتین کے شرعی حصے کی 30 دن کے اندر منتقلی کو یقینی بنانے کے لیے لینڈ ریونیو ایکٹ میں ترمیم کی منظوری دے دی ہے۔

یہ فیصلہ بلوچستان کابینہ کے اجلاس میں کیا گیا جو وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال خان کی صدارت میں ہوا۔

بدھ کی شب کابینہ کے اجلاس کے متعلق جاری ہونے والے ایک اعلامیے کے مطابق کابینہ نے بلوچستان لینڈ ریونیو ترمیمی ایکٹ سنہ 2018 میں چار نئی ترامیم کی منظوری دی۔

نامہ نگار محمد کاظم کے مطابق ان ترامیم کا مقصد وراثتی جائیداد میں خواتین کے شرعی حصے کی 30 دن کے اندر منتقلی کو یقینی بنانا ہے۔ ان ترامیم کا اطلاق زیر التوا مقدمات پر بھی ہو گا۔

یہ بھی پڑھیے

جب بھائیوں نے ’حق مانگنے پر بہن کی ٹانگیں توڑ دیں‘

ان ترامیم کے تحت ریونیو آفیسر قانونی معاملات کو چھ ماہ کے اندر نمٹانے اور فیصلہ کرنے کا پابند ہو گا۔

اعلامیہ کے مطابق قانونی وراثت کے تصدیقی عمل کو نادرا کے ریکارڈ سے منسلک کیا جائے گا۔

کابینہ نے لینڈ ریکارڈ کی ڈیجیٹیل لایزیشن کے لیے لینڈ ریکارڈ مینیجمنٹ سسٹم کے قیام کی منظوری بھی دی۔

اعلامیے کے مطابق کابینہ نے محکمہ پبلک ہیلتھ انجنیئرنگ اور کمیونٹی کے تحت بجلی اور ڈیزل پر چلنے والی پینے کے پانی کی فراہمی کے سکیموں کو شمسی توانائی پر منتقل کرنے کی بھی منظوری دی۔

اس منصوبے کے لیے چار ارب روپے مختص کرتے ہوئے محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کو اسے حتمی شکل دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔

اس منصوبے کا مقصد واٹر سپلائی سکیموں پر بجلی اور ڈیزل کی مد میں ہونے والے اخراجات کی بچت کے ساتھ ساتھ واٹر سپلائی اکیموں کو مستقل طور فعال رکھنا ہے۔

اعلامیے کے مطابق کابینہ نے بلوچستان سیف سٹی اتھارٹی بل سنہ 2018 کی منظوری بھی دی جس کے تحت وزیر اعلیٰ بلوچستان اتھارٹی کے چیئر مین اور وزیر داخلہ وائس چیئر مین ہوں گے۔

اسی بارے میں