لاہور ہائی کورٹ نے مسلم لیگی رہنما حنیف عباسی کی ضمانت منطور کر لی

لاہور ہائی کورٹ تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

لاہور ہائی کورٹ نے سابق حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز کے رہنما حنیف عباسی کے ایفڈرین کیس میں متعلقہ عدالت کی طرف سے دیے گیے فیصلے کو معطل کرتے ہوئے ان کی ضمانت کی درخواست منظور کرلی ہے۔

جسٹس عالیہ نیلم کی سربراہی میں لاہور ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ نے جمعرات کو مجرم حنیف عباسی کی طرف سے اس سزا کی معطلی کے خلاف درخواست کی سماعت کی۔

درخواست گزار کے وکیل کا کہنا تھا کہ متعقلہ عدالت نے اس مقدمے میں دیے جانے والے فیصلے میں قانونی نکات کو مدنظر نہیں رکھا۔

انھوں نے کہا کہ اس مقدمے میں دیگر سات ملزمان تھے جنہیں بری کردیا گیا ہے۔ مجرم حنیف عباسی کے وکیل کا کہنا تھا کہ ان کے موکل کے خلاف یہ مقدمہ سیاسی نوعیت کا ہے جس کا حقائق سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

ایفڈرین کے مقدمے میں حنیف عباسی کے علاوہ عضنفر، احمد بلال، عبدالباسط، ناصر خان، سراج عباسی، محسن رشید اور نزاکت شامل ہیں اور متعقلہ عدالت نے ان افراد کو اس مقدمے سے بری کردیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے!

ایفیڈرین کیس: مخدوم شہاب کے وارنٹ جاری

حنیف عباسی اڈیالہ جیل منتقل، حلقے میں الیکشن ملتوی

'انسداد منشیات ڈویژن کے سربراہ کو نوٹس'

لاہور ہائی کورٹ نے اپنے حکم میں کہا ہے کہ متعقلہ عدالت نے اس مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے حقائق اور قانونی نکات کو سامنے نہیں رکھا۔ جسٹس عالیہ نیلم کا کہنا تھا کہ متعقلہ عدالت کے اس فیصلے میں بہت سے قانونی نقائص ہیں اس لیے حنیف عباسی ضمانت کے حقدار ہیں۔

Image caption حنیف عباسی کے خلاف پانچ سو کلو گرام ایفڈرین کا مقدمہ سنہ2012 میں درج کیا گیا تھا

واضح رہے کہ اس سے قبل لاہور ہائی کورٹ کے راولپنڈی بینچ نے حنیف عباسی کی ضمانت کی درخواست کی سماعت کرنے سے معذوری ظاہر کی تھی۔

اس سے قبل لاہور ہائی کورٹ کے راولپنڈی بینچ نے متعلقہ عدالت کو حکم دیا تھا کہ وہ روزانہ کی بنیاد پر اس مقدمے کی سماعت کرے جس پر راولپنڈی کی انسداد منشیات کی عدالت نے گزشتہ برس جولائی میں اس مقدمے میں حنیف عباسی کو عمر قید اور جرمانے کی سزا سنائی تھی اس کے علاوہ انھیں عمر بھر کے لیے انتحابات میں حصہ لینے کے لیے نااہل قرار دیا تھا۔

اس عدالتی فیصلے کے بعد حنیف عباسی گزشتہ برس ہونے والے عام انتخابات میں حصہ نہیں لے سکے تھے۔

پاکستان مسلم لیگ نواز کے رہنما حنیف عباسی کے خلاف پانچ سو کلو گرام ایفڈرین کا مقدمہ سنہ2012 میں درج کیا گیا تھا اور اس مقدمے میں سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے صاحبزادے اور پاکستان پیپلز پارٹی کے سابق وزیر مخدوم شہاب الدین بھی زیر تفتیش رہے ہیں۔

اس مقدمے کی سماعت کرنے والے پانچ جج صاحبان تبدیل ہوچکے ہیں جبکہ اس مقدمے میں 30 سے زائد گواہان کے بیانات قلمبند کیے گئے تھے۔

حکومت نے حنیف عباسی کو اٹک جیل سے لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں منتقل کیا تھا اور ابھی تک وہ اسی جیل میں قید ہیں۔

اسی بارے میں