بلوچستان: خودکش دھماکے، بم حملے میں 21 افراد ہلاک 51 زخمی

کوئٹہ دھماکہ

پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں ایک ہی روز میں پیش آئے دہشت گردی کے دو مختلف واقعات میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 21 تک پہنچ گئی ہے جبکہ 51 افراد ان واقعات میں زخمی ہوئے ہیں۔

پہلا واقعہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں پیش آیا جہاں ہونے والے خود کش حملے کے نتیجے میں 20 افراد ہلاک جبکہ 40 زخمی ہوئے۔

جبکہ جمعے کی شام پیش آئے دوسرے واقعے میں بلوچستان کے سرحدی شہر چمن میں ہونے والے بم دھماکے میں کم از کم ایک شخص ہلاک اور دو سکیورٹی اہلکاروں سمیت 11 افراد زخمی ہو گئے۔

کوئٹہ حملے کی ذمہ داری تحریک طالبان قاری سیف اللہ گروپ نے قبول کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ حملہ ان کی اور لشکرِ جھنگوی کی مشترکہ کارروائی تھی جس میں ہزارہ برادری کو نشانہ بنانا مقصود تھا۔ جبکہ چمن حملے کی ذمہ داری بھی تحریک طالبان نے قبول کی ہے۔

کوئٹہ خود کش حملہ

بلوچستان کے وزیرِ داخلہ ضیا اللہ لانگو کے مطابق خودکش دھماکہ جمعے کی صبح ہزار گنجی کے علاقے میں واقع مارکیٹ میں ہوا اور مرنے والوں میں ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والے آٹھ افراد کے علاوہ ایک سکیورٹی اہلکار اور ایک بچہ بھی شامل ہے۔

وزیر داخلہ نے جمعے کی دوپہر پریس کانفرنس میں بتایا کہ دھماکہ خودکش تھا جبکہ اس سے قبل ڈی آئی جی کوئٹہ پولیس عبد الرزاق چیمہ نے میڈیا کو بتایا تھا کہ دھماکہ آلو کے گودام میں ہوا ہے۔

مزید پڑھیے

کوئٹہ میں خواتین اور دودھ پیتے بچوں کا دھرنا

کوئٹہ: فائرنگ میں چار سکیورٹی اہلکار ہلاک

کوئٹہ: جے یو آئی کوئٹہ کے سرپرستِ اعلیٰ قتل

دھماکے کے بعد سکیورٹی اہلکاروں نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور ہلاک اور زخمی ہونے والے افراد کو سول ہسپتال، بولان میڈیکل کمپلیکس ہسپتال اور شیخ زید ہسپتال منتقل کیا گیا۔

سول ہسپتال کوئٹہ کے ترجمان وسیم بیگ نے بتایا کہ سول ہسپتال میں 11 لاشیں لائی گئی ہیں جن میں ایک بچہ بھی شامل ہے۔

Image caption ماضی میں ہونے والے حملوں کے پیش نظر ہزارہ برادری کے افراد کو مری آباد اور ہزارہ ٹاؤن کے علاقوں سے سکیورٹی میں لایا جاتا ہے

اس واقعے کے کچھ دیر بعد جائے وقوعہ پر میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے ڈی آئی جی کوئٹہ پولیس عبد الرزاق چیمہ نے بتایا کہ ہزارہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے پھل اور سبزی فروشوں کو سکیورٹی میں ہزار گنجی منڈی لایا گیا تھا۔

انھوں نے بتایا کہ جب ان لوگوں کو لایا جاتا ہے تو سکیورٹی اہلکار چار مرکزی دروازوں پر ڈیوٹی دینے کے علاوہ مارکیٹ میں بھی گشت کرتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ جب ہزارہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے افراد آلوؤں کے گودام پر آئے تو زوردار دھماکہ ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ زخمیوں میں ہزارہ قبیلے کے علاوہ دیگر برادریوں کے لوگ بھی شامل ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اس دھماکے میں ہزارہ قبیلے کے علاوہ دیگر لوگ بھی ہلاک ہوئے ہیں اس لیے اس بات کا تعین تحقیقات کے بعد کیا جاسکے گا کہ اس حملے کا ہدف کون لوگ تھے۔

انھوں نے کہا کہ دہشت گرد تو سب لوگوں کو نشانہ بناتے ہیں۔

اس علاقے میں پہلے بھی ہزارہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے سبزی اور پھل فروشوں کو نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔

ماضی میں ہونے والے حملوں کے پیش نظر انہیں مری آباد اور ہزارہ ٹاؤن کے علاقوں سے سکیورٹی میں لایا جاتا ہے اور سبزی اور پھلوں کی خریداری کے بعد واپس لے جایا جاتا ہے۔

Image caption اس واقعہ کے خلاف ہزارہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے افراد نے کوئٹہ شہر کے مختلف علاقوں میں احتجاج کیا ہے

ہزارہ قبیلے کے لوگوں کا تعلق شیعہ مسلک ہے۔ انہیں سابق صدر پرویز مشرف کے دور میں بلوچستان میں حالات کی خرابی کے بعد سے نشانہ بنایا جارہا ہے۔

ان حملوں کے پیش نظر ہزارہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے افراد کے علاقوں میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے جن کے پیش نظر حکام کا کہنا ہے کہ ماضی کے مقابلے ان پر حملوں میں کمی آئی ہے۔

اس واقعہ کے خلاف ہزارہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے افراد نے کوئٹہ شہر کے مختلف علاقوں میں احتجاج کیا ہے۔ شہر کے مغربی بائی پاس لوگوں کی ایک بڑی تعداد جمع ہوئی اور انہوں نے ٹائر جلا کر اسے آمد و رفت کے لیے بند کر دیا ہے۔

چمن حملہ

چمن میں بم دھماکے کا واقعہ مال روڈ پر پیش آیا۔

چمن میں پولیس کے ایک سینئیر اہلکار نے بتایا کہ نامعلوم افراد نے ایک موٹر سائیکل پر دھماکہ خیز مواد نصب کرکے اسے مال روڈ پر کھڑی کیا تھی۔ ان کے مطابق یہ دھماکہ اس وقت ہوا جب سیکورٹی فورسز کی ایک گاڑی وہاں سے گزر رہی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Noor Zaman
Image caption پولیس کے مطابق چمن دھماکے میں ایک شخص ہلاک اور 11 افراد زخمی ہوئے ہیں

اہلکار کا کہنا تھا کہ بظاہر یہ لگتا ہے کہ دھماکے کا ہدف سیکورٹی فورسز کی گاڑی تھی۔ پولیس کے مطابق اس دھماکے میں ایک شخص ہلاک اور 11 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

رابطہ کرنے پر سول ہسپتال کے ایک اہلکار نے بتایا کہ زخمیوں میں سے دو کی حالت نازک تھی جن کو علاج کے لیے کوئٹہ منتقل کر دیا گیا۔

چمن افغانستان سے متصل پاکستان کا سرحدی شہر ہے جو کہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے شمال میں اندازاً 130 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Noor Zaman
Image caption پولیس اہلکار کا کہنا ہے کے بظاہر دھماکے کا ہدف سیکورٹی فورسز کی گاڑی تھی

چمن پاکستان اور افغانستان کے درمیان ایک اہم گزرگاہ ہے جس کی آبادی مختلف پشتون قبائل پر مشتمل ہے۔

چمن میں پہلے بھی بم دھماکوں اور بد امنی کے دوسرے واقعات پیش آتے رہے ہیں تاہم سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ پہلے کے مقابلے میں صورتحال میں بہتری آئی ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں