ہزارہ قبیلے کا ہزار گنجی حملے پر احتجاج: ’صوبائی حکومت کے پاس اختیارات نہیں ان سے مذاکرات کا کوئی فائدہ نہیں‘

ہزارہ

ماہ جبین کی آنکھوں سے آنسو تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے۔

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کی ہزار گنجی سبزی منڈی میں تین روز قبل ہونے والے خودکش حملے سے کچھ خاندانوں کی دنیا ہی اجڑ گئی۔

ہزارہ ٹاؤن کی ساتویں جماعت کی طالبہ ماہ جبین کا خاندان بھی انہی میں شامل ہے۔

اپریل کی 12 تاریخ کو سبزی منڈی میں ہونے والے خود کش حملے میں ان کے والد ہلاک ہو گئے۔ 35 سالہ علی آغا پھل فروش تھے جو کہ اپنے چھ بھائیوں میں پانچویں نمبر پر تھے۔

ایران میں محنت مزدوری کرنے والے علی آغا چھ ماہ قبل وہاں کی کرنسی کی قدر میں کمی کے باعث کوئٹہ لوٹ آئے۔ایران سے واپسی پر انھوں نے ایک ریڑھی پر ہزارہ ٹاؤن میں پھل فروخت کرنے کا کام شروع کیا تھا۔

علی آغا کے پسماندگان میں ایک بیوہ اور دو بیٹیاں شامل ہیں۔

اس واقعے کے حوالے سے مزید پڑھیے

ہزارہ بھائیو، ہماری جان بخش دو

ہزار گنجی نیوزی لینڈ کا علاقہ نہیں!

بلوچستان: ہزار گنجی دھماکے کے خلاف دھرنا جاری

ماہ جبین نے بتایا کہ ان کے والد روزی روٹی کمانے کے لیے علی الصبح نکلتے تھے، لیکن ’جمعے کے روز چائے پیئے بغیر ایسے گئے کہ واپس نہیں آئے‘ اور وہ اپنے والد کا ہاتھ بھی نہ چوم سکیں۔

ماہ جبین نے بتایا کہ علی آغا اپنی دونوں بیٹیوں سے بہت زیادہ پیار کرتے تھے اور ان کی خواہش تھی کہ وہ ڈاکٹر یا جج بنیں۔

’سبزی لینے میں جاتا تھا، جمعے کو بھائی چلا گیا‘

ہلاک ہونے والوں میں ایک اور سبزی فروش 38 سالہ محمد عیسٰی بھی تھے، جن کے پسماندگان میں بیوہ اور دو چھوٹے بچے شامل ہیں ۔

ان کے بڑے بھائی محمد حسین نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ اور محمد عیسیٰ ہزارہ ٹاؤن میں سبزی فروخت کرتے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ دس سال سے جبکہ ان کے بھائی گزشتہ چھ سال سے یہاں کام کر رہے تھے۔

انھوں نے کہا کہ وہ بھی سبزی لینے ہزار گنجی جاتے رہتے تھے، لیکن جمعے کو روز چھوٹا بھائی چلا گیا۔

’مہنگائی کے باعث کسی کے لیے اپنے بچے پالنا مشکل ہے لیکن اب تو میرے بھائی کے بچے بھی والد سے محروم ہوگئے۔‘ محمد حسین نے کہا کہ وہ صرف یہ چاہتے ہیں حکومت ان کو تحفظ فراہم کرے۔

اس خود کش حملے میں حکام کے مطابق 20 افراد ہلاک اور40 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔

ہلاک ہونے والوں میں سے دس کا تعلق ہزارہ برادری سے تھا اور وہ سب کے سب پھل اور سبزی فروش تھے۔

’صبح مزدوری کرتا، شام کو کلاسیں پڑھتا‘

جہاں اس واقعے میں بچے اپنے والدین کے سائے سے محروم ہوگئے وہاں ایک سات سالہ بچہ علی مراد بھی ہلاک ہوا۔

علی مراد ہزار گنجی کے قریب واقع نیو کاہان کے رہائشی نیاز محمد مری کے بیٹے تھے۔

نیازمحمد نے بتایا ان کے چھ بچے اور دو بچیاں ہیں اور غربت کے باعث وہ اور ان کے بچے ہر روز منڈی جاکر محنت مزدوری کرتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ وہ اور ان کے بچے کام کے غرض سے منڈی گئے تھے، لیکن بدقسمتی سے علی مراد اس جگہ پر تھا جہاں دھماکہ ہوا۔

نیاز محمد نے بتایا کہ علی نے کچھ ہی دن پہلے اس علاقے میں ایک غیر سرکاری تنظیم کی جانب سے کھولے جانے والے اسکول میں داخلہ لیا تھا۔

انھوں نے بتایا کہ اسکول میں شام کو کلاسیں ہوتی ہیں، اس لیے بچے صبح منڈی میں محنت مزودری کے لیے جاتے تھے۔

اس واقعے میں ہلاک ہونے والے زیادہ تر دیگر افراد غریب اور منڈی میں محنت مزدوری کرنے والے لوگ تھے۔

اگرچہ سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ وہ تحقیقات کے بعد یہ بتائیں گے اس خود کش حملے کا ہدف کون تھا، کیونکہ ہلاک ہونے والے دس دیگر افراد اور زخمیوں کی ایک بڑی تعداد کا تعلق دیگر قبائل اور برادریوں سے ہے۔

لیکن ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والے افراد کا کہنا ہے اس خود کش حملے کا ہدف ان کے قبیلے سے تعلق رکھنے والے لوگ تھے۔

ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والے افراد کوئٹہ کے دو مختلف علاقوں، مری آباد اور بروری کے علاقے میں ہزارہ ٹاؤن میں آباد ہیں۔

ہزارہ برادری نشانے پر

شیعہ مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے اس قبیلے کے لوگوں کو ہدف بنانے کا سلسلہ سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے دور میں شروع ہوا۔

ان پر حملوں کے باعث اب تک قبیلے سے تعلق رکھنے والے افراد کی ایک بڑی تعداد گذشتہ چند سالوں میں متعدد بار متاثر ہوئی ہے۔

غیر محفوظ ہونے کی وجہ سے ہزارہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے افراد کی ایک بہت بڑی تعداد کو کوئٹہ سے دیگر صوبوں کے علاوہ بیرون ملک بھی نقل مکانی کرنی پڑی ۔

کوئٹہ شہر میں ہزارہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے افراد کو زیادہ تر نقل و حمل کے دوران نشانہ بنایا جاتا رہا جن میں وہ سبزی فروش بھی تھے جو کہ ہزارہ ٹاؤن اور مری آباد سے سبزی منڈی جاتے اور وہاں سے واپس آتے ۔

خطرے کے پیش نظر ان کو سکیورٹی میں منڈی تک کانوائے کی شکل میں لے جانے کے علاوہ واپس لایا جاتا تھا۔

12 اپریل کو ہزارہ ٹاؤن سے جن پھل اور سبزی فروشوں کو لے جایا گیا ان کی تعداد 55 تھی لیکن ان میں سے بعض لوگ منڈی کے اندر اُس وقت نشانہ بنے جب وہ ایک گودام سے آلو خرید رہے تھے۔

اس دھماکے میں ایک سیکورٹی اہلکار بھی ہلاک اور چار زخمی ہوگئے۔

’جنرل باجوہ کے آنے کے بعد تقریباً ایک سال سکون سے گزرا‘

گذشتہ ایک سال کے دوران ہزارہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے افراد پر یہ پہلا بڑا حملہ تھا۔ اس سے قبل آخری حملہ کوئٹہ شہر کے اندر دکانوں میں ہزارہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے تاجروں پر ہوا تھا جس کے بعد نہ صرف شہر کے مختلف علاقوں میں دھرنے دیئے گئے تھے بلکہ حقوق انسانی کی معروف کارکن جلیلہ حیدر ایڈووکیٹ نے تادم مرگ بھوک ہڑتال شروع کی تھی۔

ان دھرنوں کے باعث فوج کے سربراہ جنرل قمر باجوہ نے کوئٹہ کا دورہ کیا تھا اور ان سے ملاقات کے بعد دھرنے ختم کیے گئے تھے۔

جلیلہ حیدر کہتی ہیں کہ فوج کے سربراہ کے آنے کے بعد ہزارہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے افراد نے کسی حد تک سکون کی زندگی گزاری تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ فوج کے سربراہ گذشتہ سال یکم مئی کو آئے تھے اور ارادہ تھا کہ ایک سال سکون سے گزارنے پر فوج کے سربراہ کو قبیلے کی جانب سے شکریہ کا ایک کھلا خط تحریر کیا جائے گا لیکن امن کی سالگرہ سے چند روز قبل دھماکہ کر کے پیغام دیا گیا کہ برادری کو نشانہ بنانے والے زیادہ طاقتور ہیں۔

اس واقعے کے بعد ہزارہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے افراد نے ایک مرتبہ پھر ہزارہ ٹاؤن کے قریب مغربی بائی پاس پھر احتجاجی دھرنا شروع کیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

اس دھرنے کے شرکا سے مذاکرات کے لیے بلوچستان کے وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو اور دیگر وزرا گئے تھے لیکن انھوں نے ان کی درخواست پردھرنا ختم نہیں کیا۔

جلیلہ حیدر اور ہزارہ سیاسی کارکن کے نام سے قائم فورم کے رہنما طاہر ہزارہ کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت کے لوگوں کے پاس اختیارات نہیں اس لیے ان کے ساتھ مذاکرات کا کوئی فائدہ نہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ان پالیسیوں میں تبدیلی لائی جائے جس کی وجہ سے ان کے قبیلے کے علاوہ دیگر لوگ شدت پسندی کے واقعات کا ایندھن بن رہے ہیں جبکہ ان کو ایسی گارنٹی دی جائے تاکہ آئندہ ان پر ایسے حملے نہ ہوں۔

طاہر ہزارہ نے زور دیا کہ دھرنے کے خاتمے کے لیے وہ اُن لوگوں سے بات کرنا چاہتے ہیں جن کے ہاتھوں میں اصل اختیار ہے۔

اسی بارے میں