عاصمہ شیرازی کا کالم: سب قصور ہزاروں کا ہے!

ہزارہ تصویر کے کاپی رائٹ AFP

جلیلہ حیدر کے یہ الفاظ میرے کانوں میں گونج رہے تھے کہ کوئٹہ میں اتنے بکرے ذبح نہیں ہوئے جتنے ہزارہ قتل ہوئے۔۔۔ اور کتنے؟ کب کب اور کس کس وقت؟ اب تو ہزارہ قبرستان میں جگہ بھی نہیں بچی۔

ریاست کے جسم میں دل نہیں ہے کہ وہ ان بے کسوں کا درد محسوس کر سکے، ریاست کی آنکھیں نہیں ہیں کہ وہ بند آنکھوں سے ہی سہی مگر نم ہو سکیں، ریاست کے کان کہاں ہیں جو ان کی چیخیں سُن سکیں۔

ریاست ماں کے جیسی ہے تو اُن کے درد پر انھیں آغوش میں کیوں نہیں لیتی، ان کی تکلیف پر دلاسہ کیوں نہیں دیتی، زخم پر مرہم کیوں نہیں رکھتی، ان کے بچوں کے ذبح ہونے پر سوگ کیوں نہیں مناتی اور کچھ نہیں کر سکتی تو شرمسار کیوں نہیں ہوتی۔

عاصمہ شیرازی کے مزید کالم پڑھیے

گول دائرے کی سیاست!

نئے پاکستان کی پرانی ہندو لڑکیاں

صدارتی نظام کی بحث اس وقت کیوں

ریاست احساس کے بگل بجائے، محبت کے گانے گائے اور شفقت کے نغمے سنائے۔۔۔ یہ کیونکر ممکن نہیں؟

سب قصور ہزاروں کا ہے۔

وہ یہاں ہوں یا افغانستان میں، یہ ہیں ہی اسی قابل۔

کسی کو حق حکمرانی کا احساس دلانا ہو، قومی اثاثوں کا پیغام پہنچانا ہو، کسی کونسل کی بنیاد پر نشانہ بنانا ہو۔

حکومت کی رٹ کا مذاق اڑانا ہو، انسانی حقوق کیا ہیں۔۔۔ چٹکی بھر میں کچھ نہیں کا اشارہ دینا ہو یا فرقے کی بنیاد پر تفریق دکھانا ہو تو ہزارہ حاضر۔۔۔

مار دیجیے۔۔۔ پیغام بھی پہنچ جائے گا اور کسی کا کچھ رائیگاں بھی نہیں۔۔۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

میں کیسے مان لوں کہ روہنگیا مسلمانوں کے غم میں آنسو بہانے والے، فلسطین کی مدد کرنے والے اور کشمیری مسلمانوں پر جاری ظلم اور ستم کے خلاف آواز اٹھانے والے۔۔۔ ہزاروں کے لیے کچھ بھی نہیں سوچتے؟ کوئی آواز، کوئی احتجاج، کوئی سوال نہیں اُٹھاتے۔

ابھی کل ہی نیوزی لینڈ کی مسجد میں شہید ہونے والوں کے لیے کتنا اہتمام کیا گیا، ہمارے وزیراعظم نے نیوزی لینڈ کی وزیراعظم کو فون کال کر کے پاکستانیوں کے جذبات پہنچائے، اُن کی اعلیٰ کاوشوں پر اظہار تشکر کیا، شہداء کے لواحقین کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

جنابِ وزیراعظم۔۔۔!

یہ کوئٹہ کے ایک علاقے میں محصور ہزارے تو آپ کے اپنے شہری ہیں، آپ اُن کے منتخب وزیراعظم ہیں۔

ان میں سے کتنوں نے ہی تبدیلی کو ووٹ دیتے ہوئے یہ ضرور سوچا ہو گا کہ اب ان کا قتل عام رُک جائے گا۔

ان کو چہرے چھپا کر کوئٹہ شہر میں نکلنے کا سلسلہ بند ہو جائے گا۔

ان کے بچے شہر کے ہر سکول میں داخلہ حاصل کر سکیں گے۔

ان کے مرد دن کے وقت بھی شہر میں نکلتے ہوئے منہ نہیں ڈھانپیں گے۔

ان کی کسی جلیلہ حیدر کو آرمی چیف سے یقین دہانیاں نہیں لینا پڑیں گی، ان کو دھرنے اور بھوک ہڑتالیں نہیں کرنا پڑیں گی۔

انھیں اپنے فرقے، روایت اور اقدار کے مطابق جینے کا حق ہو گا، انھیں کسی سٹریٹجک ہتھیار کے طور استعمال نہیں کیا جائے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter/@MJibranNasir

جنابِ وزیراعظم! کچھ اور نہ سہی، کچھ بھی نہ سہی۔۔۔ آپ دلاسہ تو دے سکتے ہیں نا؟

ان مظلوم لوگوں کو انصاف نہ سہی آنسو تو پونچھ سکتے ہیں۔۔۔ تحفظ نہیں تسلی تو دے سکتے ہیں یا اس کے لیے بھی کسی اجازت کی ضرورت ہے؟

اتنے سمجھ دار تو ہزارے ہیں کہ آپ کی مجبوریوں کو سمجھ لیں۔۔۔

اسی بارے میں