سکیورٹی کی یقین دہانی، ہزارہ برادری کا دھرنا ختم

کوئٹہ تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption اس بم حملے میں میں کم از کم 20 افراد ہلاک اور 40 سے زیادہ زخمی ہوئے تھے

پاکستان کے وزیرِ مملکت برائے داخلہ شہر یار آفریدی کی کوئٹہ میں ہزارہ برادری کے رہنماؤں سے ملاقات میں متاثرین نے وزیراعظم کے نہ آنے پر مایوسی کا اظہار کیا ہے تاہم بات چیت کے بعد احتجاجی دھرنا ختم کر دیا گیا ہے۔

یہ دھرنا 12اپریل کو کوئٹہ سبزی منڈی میں ہونے والے خود کش حملے کے خلاف دیا جارہا تھا جس میں 20 افراد ہلاک اور 40 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔

ہلاک ہونے والوں میں سے دس افراد کا تعلق ہزارہ قبیلے سے تھا جو کہ پھل اور سبزی فروش تھے۔

اس واقعہ کے بعد ہزارہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے افراد نے مغربی بائی پاس کو بند کر کے وہاں احتجاجی دھرنا دیا تھا۔

دھرنے کے شرکا سے پہلے دن بلوچستان کے وزیرِ داخلہ میر ضیا اللہ لانگو نے ملاقات کی لیکن ان کی درخواست پر انہوں نے دھرنا ختم نہیں کیا۔

نامہ نگار محمد کاظم کے مطابق پیر کے روز وفاقی وزیر مملکت برائے داخلہ شہر یار آفریدی کوئٹہ آئے اور ہزارہ ٹاؤن میں واقع امام بارگاہ میں ہلاک ہونے والے افراد کے لواحقین سے تعزیت کا اظہار کیا۔

اسی بارے میں

ہزارہ احتجاج: ’حکومت سے مذاکرات کا کوئی فائدہ نہیں‘

اب پاکستانی کیا کریں؟

ہزار گنجی نیوزی لینڈ کا علاقہ نہیں!

ہزارہ بھائیو، ہماری جان بخش دو

رات کو وزیرِ اعلیٰ بلوچستان جام کمال خان، شہر یار آفریدی اور دیگر حکام بلوچستان اسمبلی کی خاتون رکن لیلیٰ ترین کی ہمراہ دھرنا کے شرکا کے پاس آئے۔

اس موقع پر خاتون رکن اسمبلی نے دھرنے کے شرکا سے احتجاج ختم کرنے کی درخواست کی جس پر دھرنے کے قائدین میں سے طاہر ہزارہ نے دھرنے کے خاتمے کا اعلان کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ہماری قبائلی روایات میں خواتین کو خاص مقام حاصل ہے جب وہ میڑھ لیکر آتی ہیں تو لوگ ان کے آگے سر تسلیمِ خم کرتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ وہ خاتون رکن کی درخواست پر دھرنے کے خاتمے کا اعلان کرتے ہیں لیکن ساتھ میں یہ توقع رکھتے ہیں کہ آئندہ ہمارے لوگوں کے ساتھ ایسے واقعات پیش نہیں آئیں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption وزیر مملکت برائے داخلہ امور شہر یار آفریدی نے کہا ہے کہ ہزارہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے افراد کے ساتھ ظلم عظیم ہوا ہے

اس موقع پر وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال خان اور شہر یار آفریدی نے بھی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہزارہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے افراد کے تحفظ کے لیے تمام وسائل کو بروئے کار لایا جائے گا۔

شہر یار آفریدی نے کہا کہ ہزارہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے افراد کے ساتھ ظلمِ عظیم ہوا ہے اور موجودہ حکومت ان کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔

تاہم ہزارہ برادری کے رہنماؤں کا کہنا تھا کہ انہیں امید تھی کہ وزیر اعظم عمران خان خود ان کے پاس آتے۔

وزیر مملکت شہر یار آفریدی کا کہنا تھا کہ ’بعض قوتیں پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنا چاہتی ہیں جس کے باعث انھوں نے عوام کو آپس میں لڑانے کے علاوہ ان کو ریاستی اداروں کے ساتھ لڑانے کی بھی کوشش کی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ان سازشوں کو ناکام بنانے کے لیے نہ صرف عوام بلکہ سکیورٹی فورسز نے بڑی قربانیاں دی ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’پاکستان کی فوج اور انٹیلیجنس اداروں کی کوششوں کی وجہ سے پاکستان آج محفوظ ہے ورنہ شام اور دوسرے ممالک کی صورتحال ہمارے سامنے ہے۔‘

انھوں نے یقین دہانی کرائی کہ ہزارہ کمیونٹی کے لوگوں کو ہر قسم کی سکیورٹی فراہم کی جائے گی۔

’امید تھی کہ عمران خان خود آتے‘

وفاقی وزیر مملکت کو اس موقع پر سخت تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا۔

فاتحہ خوانی کے بعد مجلس وحدت المسلمین کے رہنما علامہ ہاشم موسوی نے انہیں مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم آپ کو اس ماحول میں خوش آمدید تو نہیں کہہ سکتے تاہم ہم یہاں آنے پر آپ کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’ہماری توقع یہ تھی کہ عمران خان صاحب تشریف لاتے اور نیوزی لینڈ کے اس غیر مسلم وزیر اعظم کی طرح ہمارے لیے مثال بنتے۔‘

انھوں نے کہا وزیر اعظم عمران خان اور پی ٹی آئی سے توقع تھی اور اب بھی توقعات ہیں بشرطیکہ معاملات کو شفاف رکھا جاتا۔

انھوں نے کہا کہ دہشت گردی کے واقعات میں ان کے ڈھائی ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

علامہ ہاشم موسوی کا کہنا تھا کہ ماضی میں ہلاک ہونے والوں میں ان کا اپنا بھتیجا بھی شامل ہے لیکن آٹھ دس سال گزرنے کے باوجود انہیں یہ معلوم نہیں کہ ان کے بھتیجے کا قاتل کہاں ہے اوراس کو سزا ہوئی ہے یا نہیں۔

انھوں نے استفسار کیا کہ سزا اور جزا کے معاملات کو کیوں شفاف نہیں رکھا جاتا ہے۔

علامہ ہاشم موسوی نے کہا کہ ’اگر سزا اور جزا کا شفاف نظام نہیں ہو گا تو لوگوں کے ذہنوں میں وسوسہ پیدا ہو گا اور لوگ نوجوانوں کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال بھی کریں گے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’ہمیں یہ بتایا جائے کہ ہمارے قاتل کہاں بیٹھے ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ کہ ’ماضی میں جو سیاسی غلطیاں ہوئی تھیں ان کی وجہ سے پاکستان دہشت گردی کی آگ میں جل رہا ہے۔

’ماضی کی غلطیوں کا آپ لوگ کسی حد تک ازالہ کر رہے ہیں لیکن جزا اور سزا کے نظام میں شفافیت لانی ہو گی۔

علامہ ہاشم موسوی نے کہا کہ ’کوئٹہ میں ایک شخص تھا، ہم نے چیخ چیخ کر کہا کہ اس بندے کو پکڑو یہ نفرت پھیلا رہا ہے۔ وہ شخص کچھ وقت کے لیے بند تھا لیکن ان کو دوبارہ چھوڑ دیا گیا جس کے دو تین روز بعد یہ واقعہ پیش آیا۔‘

علامہ ہاشم موسوی نے کسی ملک کا نام لیے بغیر کہا کہ ’ایسے ممالک کے سربراہ جو پوری دنیا میں دہشت گردی کے فروغ میں ملوث ہیں جب وہ پاکستان کے دورے پر آتے ہیں اور ہمارے وزیر اعظم ان کا ڈرائیور بنتے ہیں تو پھر یہ حال ہو گا‘۔

یاد رہے کہ جمعے کو ہونے والے خود کش حملے کے بعد ہزارہ قبیلے کے افراد اور سول سوسائٹی کی تنظیموں کے کارکنوں نے شہر کے مختلف علاقوں میں احتجاج کیا اور مغربی بائی پاس پر ہزارہ ٹاؤن کے قریب دھرنا دیا جو اب بھی جاری ہے۔

بلوچستان کے وزیر داخلہ میر ضیا اللہ لانگو نے اس دھرنے کو ختم کروانے کے لیے مغربی بائی پاس جا کر شرکا سے ملاقات کی لیکن انھوں نے دھرنا ختم کرنے سے انکار کر دیا۔ اور اب وفاقی وزیرِ مملکت بھی کوئٹہ گئے ہیں۔

اسی بارے میں