’بچی کی زندگی خطرے میں ڈالنے پر‘ کراچی کے نجی ہسپتال کے خلاف غفلت کا مقدمہ

بچہ تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ہسپتال انتظامیہ نے غلط انجیکشن لگانے کے تاثر کو مسترد کیا اور کہا ہے کہ واقعے میں مبینہ غفلت کے سلسلے میں تحقیقات کی جارہی ہیں

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں نجی ہسپتال دارالصحت کی انتطامیہ کے خلاف مبینہ طور پر غفلت برتنے اور 9 ماہ کی بچی کی زندگی کو خطرے میں ڈالنے کے الزام میں مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔

شاہراہ فیصل تھانے میں نشوہ اور عائشہ کے والد قیصر علی کی درخواست پر مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ڈائریا کی وجہ سے وہ اپنی دو جڑواں بیٹیوں نشوہ اور عائشہ کو لے کر دارالصحت ہپستال گئے جہاں دونوں کو بچگانہ وارڈ میں منتقل کر کے ڈرپ لگائی گئی اور رات دس بجے تک بیٹیاں بیڈ پر کھیلنے لگیں جس کی ان کے پاس تصاویر بھی موجود ہیں۔

ایف آئی آر کے مطابق ’7 اپریل 2019 کی صبح چھ بجے مارننگ سٹاف نے دوائی لگائی ہے جس کو انتظامیہ کی جانب سے بھیجا جاتا ہے، ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق کے سی ایل دو سی سی پر چیمبر یعنی سو سی سی کی ڈرپ میں لگانا ہے، ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق چوبیس گھنٹے میں چار سو سی سی ڈوز لگنی ہے، مطلب یہ ہے کہ چوبیس گھنٹے میں سو سی سی میں دس کے سی ایل کا انجیکشن بنایا جاتا ہے، جبکہ یہ بھی قانون کے خلاف ہے، ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق ہر سو سی سی میں ٹوٹل دو سی سی ڈالنا ہوتا ہے جتنی بار سو سی سی کی ڈرپ لگے گی دو سی سی انجیکٹ کیا جائے گا۔‘

مزید پڑھیے

جوس کا انجیکشن لگا کر موت کو دعوت دے دی!

ڈاکٹر نے انسولین کی زیادہ مقدار سے بیوی کو مار ڈالا

نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ ’ڈاکٹر کی دوسری ہدایت کہ فلیجل دس سی سی نس میں ڈائریکٹ لگنا ہے اس حساب سے صبح ساڑھے چھ بجے جو شخص انجیکشن لگانے آیا اس کو پتہ نہیں تھا کہ فلیجل کونسا ہے اور کے سی ایل کونسا ہے اور اس نے کے سی ایل، دس سی سی نس میں لگا دیا، جبکہ یہ ڈرپ میں لگتا ہے۔ اسی وقت ایک منٹ کے اندر میری بیٹی نشوہ کے ہونٹ نیلے ہونا شروع ہوئے، آدھے گھنٹے کے اندر سانس اکھڑنا شروع ہوگئی فوری میری بیوی نے سٹاف کو بلایا اور بیٹی کو آئی سی یو لے جایا گیا، قریب 45 منٹ سی پی آر یعنی دل کی دھڑکن واپس لانے کی کوشش کی گئی اور پینتالیس منٹ بعد دل کی دھڑکن واپس آئی اس کے بعد نشوہ وینٹی لیٹر پر چلی گئی۔‘

مدعی کے مطابق اس صورتحال کو دیکھ کر انھوں نے ہسپتال انتظامیہ کو شکایت کی کہ وہ بات دبانے کی کوشش کر رہے ہیں اور انھوں نے جب اصرار کیا تو ہسپتال کے ایگزیکیٹو ڈائریکٹر کی موجودگی میں ہیڈ آف ڈپارٹمنٹ بیٹھے تھے ’جنھوں نے اپنی غلطی کا اعتراف کیا اور کہا کہ ہم نے سٹاف کو معطل کر دیا ہے اور اس واقعے میں جو خرچہ ہو رہا ہے وہ ہم برداشت کریں گے۔ اس اعتراف کے بعد ہسپتال کی دستاویزات میں ڈائیگنوسز میں کے سی ایل اوور ڈوز لکھانا شروع کر دیا۔

’جب 12 اپریل کو وینٹی لیٹر سے ہٹایا گیا تو ڈاکٹر نے بتایا کہ جو 45 منٹ سی پی آر ہوا ہے اس کی وجہ سے دماغ کی انجری ہوسکتی ہے، اس کے لیے سی ٹی سکین کرایا گیا جس کی رپورٹ کے مطابق دماغ کو بروقت آکسیجن نہ ملنے کی وجہ سے میری بیٹی کے ہاتھ پاؤں آنکھیں منہ حتیٰ کے ہر طرح سے مفلوج ہوگئی جو اس وقت دارالصحت کے آئی سی یو میں مفلوج پڑی ہے اور اس صورتحال کو دیکھ کر میں نے انتظامیہ سے بات کرنے کی کوشش کی اور مختلف طریقوں سے تعاون کی درخواست کی مگر انتظامیہ نے کسی بھی قسم کی مدد کرنے اور مجھے خاموش رہنے کے لیے دبانے کی کوشش کی۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Science Photo Library
Image caption ہسپتال عملے پر غلط انجیکشن لگانے الزام ہے

دوسری جانب دارالصحت ہسپتال کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ان کے پاس پاکستان کے مختلف علاقوں سے مریض لائے جاتے ہیں اور تمام مریضوں کو بروقت طبی سہولیات مہیا کی جاتی ہیں اور وہ گذشتہ 26 برسوں سے عوام کی طبی داد رسی کررہے ہیں۔

انتظامیہ کے مطابق ’6 اپریل کو بوقت ساڑھے بارہ بجے دو بچیاں داخل کی گئیں ایک بچی کو مکمل طبی امداد دینے کے بعد سات اپریل کو گھر منتقل کردیا گیا جبکہ نو ماہ کی نشوہ کو مکمل طبی امداد دینے کا سلسلہ گذشتہ (اتوار کی) رات تک جاری رہا۔ بچی کی صحت کو مد نظر رکھتے ہوئے اسے ڈاکٹر نے کے سی ایل کا انجیکشن تجویز کیا جس کے بعد بچی کے حالت کو دیکھتے ہوئے اسے والدین کی رضا مندی کے ساتھ سی پی آر کر کے آئی سی یو میں منتقل کیا گیا۔‘

ہسپتال انتظامیہ نے اعلامیے میں مزید کہا ہے کہ سات اپریل کو نشوہ کو آئی سی یو میں وینٹی لیٹر پر منتقل کردیا گیا اور دس اپریل کو بچی کو ونٹی لیٹر سے ہٹا کر مانیٹرنگ پر رکھا گیا، اس کے بعد 13 اپریل کو والدین نے بچی کو دوسرے ہسپتال منتقل کرنے کی خواہش کا اظہار کیا، جسے ہسپتال انتظامیہ نے پورا کرتے ہوئے ہسپتال کے ماہرین سے رابطہ کیا اور بچی کو منتقل کرنے کے انتظامات کیے۔

ہسپتال انتظامیہ نے غلط انجیکشن لگانے کے تاثر کو مسترد کیا اور کہا ہے کہ واقعے میں مبینہ غفلت کے سلسلے میں تحقیقات کی جارہی ہیں اور ہسپتال انتظامیہ وزیر اعلیٰ سندھ کی جانب سے بنائی گئی تحقیقاتی کمیٹی سے مکمل تعاون بھی کرے گی اس کے علاوہ نشوہ کے تمام تر طبی اخراجات ہسپتال انتظامیہ اٹھائے گی۔

ہسپتال انتظامیہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اتوار کی رات نامعلوم افراد نے ہسپتال کی ایمرجینسی اور وارڈ میں گھسنے کی کوشش بھی کی جس کی سی سی ٹی وی ویڈیو بھی موجود ہے۔

اسی بارے میں