پاکستان میں سیاحت کے فروغ کے لیے صرف غیر ملکیوں کا سہارا کیوں؟

ولاگر تصویر کے کاپی رائٹ lostwpurpose@
Image caption امریکی ولاگر ایلیکس رینلڈز

رواں ماہ سیاحت کو فروغ دینے کے لیے اسلام آباد میں حکومت کی جانب سے منعقد کیے گئے دو روزہ پاکستان ٹورزم سمٹ میں جب ایک بھی پاکستانی ولاگر دیکھنے میں نہ آیا تو صارفین نے سوشل میڈیا پر شکوہ کیا۔

حکومتِ وقت سے ایک اور شکوہ یہ کیا گیا کہ اجلاس میں صرف غیر ملکی ولاگرز کو کیوں بلایا گیا؟ ایوا زوبیک، ٹریور جیمز، ایلیکس رینلڈز، روزی گبریئل، مارک وینز اور امل لملوم نامی غیر ملکی ولاگر اجلاس کا حصہ بنے۔

اس اجلاس پر کچھ حلقوں کی جانب سے پہلے ہی تنقید کی جا رہی تھی تاہم اس میں اضافہ اس وقت ہوا جب مدعو کی گئی ایک امریکی خاتون ولاگر کو گفتگو کی اجازت نہ دی گئی۔

یہ بھی پڑھیے

پاکستان آنے کی خواہشمند سمینتھا کون ہیں؟

پاکستان کے نئے ’سفید فام مداح‘

دہلی بس ریپ کیس سے جڑی دوسری عورت کون ہیں؟

پاکستان میں موجود lostwithpurpose @ کے نام سے انسٹا گرام اکاؤنٹ چلانے والی امریکی ولاگر ایلیکس رینلڈز نے حال ہی میں فیس بُک پر ایک ویڈیو شیئر کی ہے جس میں انھوں نے سمٹ کی انتظامیہ پر الزام عائد کیا کہ تمام غیر ملکی ولاگروں میں سے صرف انھیں سمٹ میں گفتگو کرنے سے اس لیے روکا گیا کیونکہ ان کی باتیں تنقید پر مبنی اور ایجنڈے سے ہٹ کر تھیں۔

ویڈیو میں ان کا کہنا تھا کہ ’اگر لوگ سیاحتی اجلاس میں آئیں گے تو اُنھیں پہلے سے ہی پتا ہو گا کہ پاکستان کافی زبردست جگہ ہے تو سورج کو چراغ دکھانے کا کیا فائدہ؟ اس کے برعکس میں نے تنقیدی رویہ اپنانے کا فیصلہ کیا اور آج کل سوشل میڈیا پر پاکستان کی جس طرح کوریج ہو رہی ہے اس کے مستقبل میں ملک کی سیاحت کے لیے خطرناک (ثابت) ہونے (کے موضوع) پر تقریر تیار کی اور اس میں یہ بھی بات کی کہ ہم اس بارے میں کیا کر سکتے ہیں۔‘

ایلیکس رینلڈز نے تقریباً 15 منٹ دورانیے کی اپنی اس ویڈیو میں ان تمام مشکلات کا تفصیل سے تذکرہ کیا جو غیر ملکی سیاحوں کو پاکستان میں پیش آ سکتی ہیں جس میں پولیس کے رویے سے لے کر ملک کے مختلف علاقوں کی سیاحت کے لیے درکار سرکاری اجازت ناموں کا تذکرہ بھی ہے۔

انھوں نے کہا کہ وہ اجلاس میں اپنی گفتگو میں یہ سب باتیں بتانا چاہتی تھیں تاکہ ان مشکلات کے حل کے لیے حکومت اقدامات کرے تاہم ان کی تقریر کے مسودے کو دیکھ کر انتظامیہ نے ان کو بولنے کی اجازت ہی نہ دی۔

ویڈیو پر حکومتی ردِ عمل

ایلیکس کو پاکستان ٹورزم سمٹ میں گفتگو کا موقع فراہم نہ کرنے کے بارے میں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے صوبائی وزیرِ سیاحت عاطف خان کا کہنا تھا کہ اس کانفرنس کی منتظم حکومت نہیں بلکہ ایک نجی کمپنی تھی۔ انتظامات بھی اُن کی طرف سے کیے گئے اور تقریب کا ایجنڈا بھی ان ہی کا تھا۔

ایلیکس کی طرف سے تنقید کی گئی تھی کہ پاکستان کے کچھ علاقوں میں سیاحت کے لیے اجازت نامے کی شرط ختم کرنے کے اعلان کے باوجود عمل درآمد ابھی تک نہیں ہو سکا۔

اس کے جواب میں عاطف خان کا کہنا تھا کہ 'ایک چیز جب طے ہوتی ہے تو یہ نہیں ہے کہ اُسی دن پورے پاکستان میں اس پر عمل درآمد ہو جائے۔ اس میں وقت ضرور لگتا ہے نیچے لیول تک جانے میں، چیزیں ٹھیک ہونے میں، حکومتی اہلکاروں کو اُس کے مطابق ایڈجسٹ کرنے میں، لیکن سمت ٹھیک ہے۔'

ان کا مزید کہنا تھا کہ 'کچھ دور دراز علاقے ہیں اور ہو سکتا ہے کہ ان جگہوں پر قائم چیک پوسٹ پر واضع پیغام نہ پہنچا ہو۔ اس سلسلے میں میری آئی جی اور سیکرٹری داخلہ سے بات ہوئی کہ ہر ایک لیول تک واضع پیغام پہنچنا چاہیے۔'

ملک کے مختلف علاقوں تک رسائی فراہم کرنے میں برتے جانے والے امتیازی سلوک کے بارے میں عاطف خان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی کسی کو مدعو کرتا ہے تو پہلے سے ان کے انتظامات بھی کرتا ہے۔ کوئی کسی کے لیے پلان کرتا ہے تو ظاہری بات ہے ان کو زیادہ سہولیات ملیں گی۔

اس سوال کے جواب میں کہ سمٹ میں پاکستانی ولاگرز کو نہ بلانے کا فیصلہ ارادی تھا یا غیر ارادی، عاطف خان نے جواب دیا 'جن کے زیادہ فالور ہیں ان کو مدعو کیا گیا۔ لیکن (تیمور صلاح الدین) مورو نے کہا کہ میں تو ٹریول ولاگ بناتا ہی نہیں ہوں اور عمر خان نے کہا تھا کہ میری کوئی ذاتی ذمہ داریاں ہیں جن کی وجہ سے میں شامل نہیں ہو سکتا۔‘

'اب یہ تو نہیں ہے کہ ہم کہیں کہ سب کچھ ٹھیک ہو جائے تو پھر ہم سیاحت کو فروغ دیں گے۔'

ملک میں غیرملکی سیاحوں کو پیش آنے والے مسائل کے بارے میں وہ کہتے ہیں کہ چھوٹے موٹے مسائل تو ترقی یافتہ ممالک میں بھی ہوتے ہیں مگر مسائل آتے ہیں اور حل ہو جاتے ہیں اور اسی طرح یہ سلسلہ چلتا رہتا ہے۔

غیر ملکیوں کا سہارا لینے کے بارے میں عاطف خان کا کہنا تھا کہ اگر آپ بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے بارے میں خیالات ٹھیک کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو بین الاقوامی میڈیا اور بین الاقوامی میڈیم چاہیے ہوتا ہے۔

ویڈیو پر سوشل میڈیا صارفین کا ردِعمل

ٹوئٹر پر سنتھیا ڈی رچی کہتی ہیں کہ 'ایلیکس نے بہت اچھے نکات پیش کیے جن میں سے کچھ میں کئی برسوں سے کہتی آئی ہوں۔ سن کر مایوسی ہوئی کہ کچھ شکایات ایسی ہیں جو مجھے سنہ 2009 سے ہیں۔'

ٹوئٹر صارف زرلشت فیصل کہتی ہیں کہ ایلیکس نے ویڈیو میں کچھ ضروری باتیں کیں لیکن سمجھ میں نہیں آتا کہ اگر سمٹ میں انھیں بولنے نہیں دیا گیا تو انھوں نے وزیراعظم سے ملاقات کے دوران اس بارے میں کچھ کہا کیوں نہیں؟

مصنف بینا شاہ نے اپنی ٹویٹ میں لکھا 'جب ہم نے آپ کو بتایا کہ پاکستانی خواتین کو آزادی سے اور بحفاظت طریقے سے گھومنے کی اجازت نہیں تو آپ نے ہماری بات نہیں سنی۔ جب گوری بلاگر آپ کو بتائے گی تو کیا آپ سنیں گے؟'

آسٹریلوی ولاگر ڈینا وینگ نے انسٹا گرام پر پوسٹ کی گئی تصویر سے متعلق لکھا کہ وہ جب بھی (پاکستان کے بارے میں) منفی تجربات بیان کرتی ہیں تو انھیں نفرت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

اسی بارے میں