محمد حنیف کا کالم: اُستاد ولایت کی یاد میں

اُستاد ولایت تصویر کے کاپی رائٹ Youtube

جو لوگ برصغیر کے کلاسیکل میوزک کے بارے میں نہیں جانتے انھوں نے بھی روی شنکر کا نام سن رکھا ہے۔ وہی روی شنکر جو ستار بجاتے بجاتے ہندوستانی کلاسیکل میوزک کو دنیا کی سٹیج پر لے گیا اور اس فیوزن میوزک کی روایت ڈالی جو آج ہمیں کوک سٹوڈیو جیسی جگہوں پر سننے کو ملتی ہے۔

لیکن وہ لوگ جو کلاسیکل موسیقی کا علم اور شوق رکھتے ہیں وہ آپ کو بتائیں گے کہ ستار سننا ہے تو اُستاد ولایت کا سُنیں، روی شنکر نے تو جو بجایا وہ گوروں کی سماعت کے لیے بجایا، انھوں نے تو اپنا نام بھی بدل لیا تاکہ گورے دیسوں میں آسانی سے بولا جاسکے۔

ستار کی اور ہندوستانی کلاسیکی موسیقی کی اصل رُوح ولایت خان کے پاس ملے گی۔ ہوسکتا ہے روی شنکر بڑا سٹار ہو لیکن اس میدان میں کوئی سچا اور آخری فنکار تھا تو وہ ولایت خان تھا۔

ہندوستان اور پاکستان اور کچھ پیدا کریں نہ کریں لیکن ہر نسل میں کچھ عظیم موسیقار پیدا کرتے رہتے ہیں اور یہ عظیم موسیقار اگر ایک کامیاب زندگی بھی گزار لیں تو ہمیشہ ناقدری کی شکایت کرتے پائے جاتے ہیں۔ اپنے باپ دادا کے وقتوں کو یاد کرتے ہیں جب راجہ مہاراجے ان کے فین ہوتے تھے اور کوئی تان پسند آنے پر ان کا منہ موتیوں سے بھروا دیتے تھے۔

محمد حنیف کے دیگر کالم پڑھیے

جنازے پر سیاست

آخری جیالا

بزدار صاحب، بچہ سو رہا ہے!

عمران خان کا ’خان‘ کہاں ہے؟

ان کی شکایت اس حد تک درست ہے کہ ہند و پاک میں درجنوں بڑے کلاسیکل موسیقار گزرے ہیں لیکن اگر ان کے بارے میں کوئی کتاب ڈھونڈنے نکلیں تو شاید ہی کچھ ملے۔ یہ لوگ کہاں سے آئے، کیسے سیکھا، کس سے سیکھا، کیسے جئے، پیچھے کیا چھوڑ کر گئے، اس کے بارے میں آپ کو موسیقاروں کے حلقوں میں قصے، افواہیں اور قصیدے تو سننے کو ملیں گے لیکن سوانح حیات بہت کم لوگوں کی ملے گی۔

اس پسِ منظر میں نمیتا دیوی دیال کی اُستاد ولایت خان کی سوانح ’دی سکستھ سٹرنگ آف ولایت خان‘ ایک تازہ ہوا کا جھونکا ہے جو اُستاد ولایت کی موسیقی کی طرح اونچے سُروں، میٹھی تالوں اور حیران کر دینے والی مُرکیوں سے بھری ہوئی ہے۔

نمیتا اس سے پہلے ’میوزک روم‘ کے نام سے ایک کتاب لکھ چکی ہیں جو ان کی اپنی اُستاد اور موسیقی سیکھنے کے بارے میں جدوجہد کی کہانی ہے اور برصغیر میں موسیقی پر لکھی گئی کتابوں میں ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔

ولایت خان اُستاد عنایت خان کے بیٹے تھے اور عنایت خان کلاسیکی موسیقی میں ایک بہت بڑا نام تھا۔ جب ولایت خان صرف دس سال کے تھے تو والد کا انتقال ہو گیا۔ تربیت بچپن سے ہی شروع ہو چکی تھی لیکن والد کے انتقال کے بعد غربت نے گھر میں ڈیرے ڈال دیے۔

کلاسیکل موسیقی کی دنیا ایک انتہائی مردانہ دنیا ہے جس میں کسی عورت کا نام شاذ و نادر ہی آتا ہے لیکن نمیتا کا کمال یہ ہے کہ اُنھوں نے ولایت خان کی والدہ بشیراں بیگم کو اس کہانی میں مرکزی کردار دیا ہے۔

بشیراں بیگم نے اپنی زندگی اپنے بیٹے کی موسیقی کی تعلیم کے لیے وقف کی۔ وہ پردے میں رہنے والی خاتون تھیں لیکن شوہر کے انتقال کے بعد حجاب ترک کردیا بلکہ اپنے ایک رشتے دار سے جا کر کئی راگوں کی تعلیم حاصل کی تاکہ اپنے بیٹے کو سکھا سکیں۔

Image caption جب ولایت خان اپنے پہلے غیر ملکی دورے کے لیے ولایت پہنچتے ہیں اور ائیر پورٹ پر ان کا ستار دیکھ کر ایک افسر کہتا ہے کہ یہ وہ ہی جو روی شنکر بجاتا ہے تو ولایت خان کہتے ہیں تمہیں پتا نہیں کہ روی شنکر مر گیا

بچپن میں ولایت خان گائیگی کی طرف مائل تھے لیکن بشیراں بیگم نے ان سے عہد لیا کہ وہ گائیکی کو بھلا کر اپنی پوری توجہ ستار سیکھنے پر دیں گے۔

ولایت خان میں بھی سیکھنے کی طلب ایسی تھی کہ چودہ سال کی عمر میں گھر سے بھاگ کر آل انڈیا ریڈیو دلی پہنچ گئے جو اُس وقت ہندوستان کے کلاسیکل موسیقاروں کا اڈہ تھا۔ زیڈ اے بخاری صاحب نے ریڈیو سٹیشن کے گیراج میں رہنے کو جگہ دی اور ولایت خان نے ہر استاد سے سیکھا، کسی کے پاؤں میں بیٹھ کر اور ایک دفعہ ایک بخیل مزاج اُستاد کے سر پر پستول بھی رکھ دیا۔

آل انڈیا ریڈیو کے گیراج میں رہنے والے لڑکے کو جو عزت، شہرت اور دولت ملی تو وہ ایک نواب کی طرح رہنے لگے، زندگی میں مرسڈیز گاڑیاں، ہیروں کے لاکٹ اور بال روم ڈانسنگ جیسے شوق اپنائے۔

نمیتا ایک ایسی کہانی کار ہیں جو اُستاد ولایت کو کسی فرشتے کے روپ میں پیش نہیں کرتیں۔ ان کی موسیقی کا بیان کرتے ہوئے کبھی کبھار شاعرانہ مبالغہ آرائی سے کام لیتی ہیں لیکن ذاتی زندگی میں ان کی بے وفائی اور کبھی عود کر آنے والی منتقم مزاجی کا بیان کرنے سے نہیں شرماتیں۔

جب ولایت خان اپنے پہلے غیر ملکی دورے کے لیے ولایت پہنچتے ہیں اور ائیر پورٹ پر ان کا ستار دیکھ کر ایک افسر کہتا ہے کہ یہ وہ ہی جو روی شنکر بجاتا ہے تو ولایت خان کہتے ہیں تمہیں پتا نہیں کہ روی شنکر مر گیا۔

اگر ایک پکے راگ جیسی بھرپور اور پیچیدہ زندگی کا لطف اُٹھانا ہے تو کتاب کھولیے اور مزہ دوبالا کرنے کے لیے ساتھ اُستاد ولایت خان کی موسیقی لگا لیجئے، کچھ دیر کے لیے زندگی گلزار ہو جائے گی۔

اسی بارے میں