اسلام آباد: دو سالہ بچی کا ریپ، ملزم گرفتار

عائشہ کے کھلونے

اسلام آ باد پولیس نے ایک نوجوان کو گرفتار کیا ہے جس پر دوسالہ بچی کے ساتھ ریپ کرنے کا الزام ہے۔ یہ واقعہ اسلام آباد کے نواحی علاقے بارہ کہو میں پیش آیا ہے۔

مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ جنسی تشدد کا شکار ہونے والی کمسن بچی کے والد نے مقامی تھانے میں درخواست دی کہ اس کی دو سالہ بیٹی باہر گلی میں کھیلنے کے لیے گئی اور کافی دیر تک واپس نہ آئی۔ درخواست گزار کے مطابق اس کی اہلیہ اپنی بیٹی کو تلاش کرنے کے لیے باہر نکلی۔ جب وہ کہیں دکھائی نہ دی تو ان کی اہلیہ نے اہل محلہ کے گھروں میں جانا شروع کردیا۔

یہ بھی پڑھیے

بیٹی کا باپ پر ریپ کا الزام

معذور سے ریپ اور چبھتے سوال بھی اسی سے

مقامی پولیس کا کہنا تھا کہ اسی دوران متاثرہ لڑکی ہمسایوں کے گھر سے روتی ہوئی نکلی اور لڑکی کی شلوار خون آلودہ تھی۔

والدین اپنے تئیں بچی کو ہسپتال لیکر گئے جہاں ہسپتال کی انتظامیہ نے یہ کہہ کر علاج کرنے کے معذوری ظاہر کی کہ بظاہر یہ پولیس کیس لگتا ہے اور پہلے اس ضمن میں پولیس کو آگاہ کیا جائے۔

تصویر کے کاپی رائٹ ISB Police

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ اس واقعہ سے متعلق مقدمہ درج کیا گیا اور ڈاکٹروں کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق بچی کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ حتمی رپورٹ آنے میں کچھ وقت لگے گا۔

لڑکی کے والد کا کہنا تھا کہ اس واقعے کا ملزم گل اپنے والدین کے ساتھ چند روز قبل ہی سوات سے اسلام آباد منتقل ہوا تھا۔ مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم اپنے والدین کے ساتھ کرائے کے مکان میں رہتا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

ملتان : 12 سالہ لڑکی کے ریپ کا بدلہ، 17 سالہ لڑکی کا ریپ

’آج کے غم کے نام‘

پولیس نے متاثرہ بچی کے والدین کی نشاندہی پر ملزم گل کو گرفتار کرلیا ہے جو کہ اپنے ہی گھر کے غسلخانے میں چھپا ہوا تھا۔

پولیس حکام نے بتایا کہ ملزم کو مقامی عدالت میں پیش کرکے اس کا دو روزہ جسمانی ریمانڈ حاصل کر لیا گیا ہے۔

ادھر گلگت بلتسان کی انسداد دہشت گردی عدالت نے 14سالہ لڑکے دیدار حسین کے اغوا کی بعد اجتماعی زیادتی اور قتل کے مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے چار افراد کو پھانسی کی سزا سنائی ہے۔

گرفتار کیے گئے آٹھ افراد میں سے چار نے اپنے جرم کا اعتراف کیا تھا جن کا تعلق تحصیل اشکومن کے گاؤں تشناؤلٹ سے ہے۔

بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی این جی او ساحل سے منسلک سینئیر پروگرام آفیسر ممتاز گوہر نے بی بی سی کی نامہ نگار حمیرا کنول کو بتایا کہ رواں برس فروری میں پیش آنے والے اس واقعے کا فیصلہ ایک مثال ہے کیونکہ اس میں فوری تحقیقات کے ساتھ ساتھ عدالتی کارروائی بھی جلد نمٹائی گئی اور متاثرہ خاندان کو انصاف فراہم کیا گیا ہے۔

اسی بارے میں