باڈی شیمنگ: ’آپ کا قد چھوٹا ہے، آپ کچھ نہیں کر سکتے‘

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
پست قامت والے افراد کو پاکستانی معاشرے میں اکثر و بیشتر 'باڈی شیمنگ' کا سامنا رہتا ہے

'لوگ چھیڑتے ہیں اور فقرے کستے ہیں کہ دیکھو بونا جا رہا ہے، مذاق اڑاتے ہیں لیکن میں ان کی باتوں پر توجہ نہیں دیتا کہ بول رہے ہیں تو بولنے دو کوئی بات نہیں۔'

35 سالہ فیصل پراچہ کے لیے یہ باتیں سننا روزانہ کا معمول ہے اور اس کی وجہ ان کا چار فٹ کا قد ہے۔

پست قامت والے افراد کو پاکستانی معاشرے میں اکثر و بیشتر ’باڈی شیمنگ‘ کا سامنا رہتا ہے یعنی ان کی جسمانی ساخت کی وجہ سے انھیں شرمندہ کیا جاتا ہے۔

یہ قد فیصل کے لیے جہاں لوگوں کے مذاق کا نشانہ بننے کا باعث بنتا ہے وہیں متعصبانہ عوامی رویے کی وجہ سے ان جیسے افراد نہ صرف حصولِ روزگار بلکہ روزمرہ کے کاموں میں بھی مشکلات کا سامنا کرتے ہیں۔

باڈی شیمنگ سیریز کی مزید کہانیاں پڑھیے

’چھوٹا قد ہو یا موٹا جسم ہر کمی آپ کی طاقت بن سکتی ہے‘

پلس سائز فیشن: ’پاکستان میں میرا ناپ نہیں ملتا‘

فیصل کا کہنا تھا کہ ’لوگ سیٹ پر بیٹھنے کی جگہ نہیں دیتے اور قد کی وجہ سے بس میں سفر کے دوران چھت پر لگے ہینڈل پکڑنے میں الگ دشواری ہوتی ہے‘۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ انھوں نے برقی اشیا کی مرمت کا کام سیکھا لیکن روزگار کی تلاش کے دوران ان کا قد آڑے آتا رہا۔

'چھوٹے قد کی وجہ سے مسائل ہوتے تھے۔ جہاں جاتا تھا تو لوگ کہتے تھے کہ آپ کا قد چھوٹا ہے اور آپ کچھ نہیں کر سکتے۔ کسی کمپنی میں جاؤ تو کہتے تھے کہ بھئی آپ کچھ نہیں کر سکتے۔'

حکومتِ سندھ کے محکمہ ڈفرینٹلی ایبل پرسنز اور محکمہ سوشل ویلفیئر کے پاس ان افراد سے متعلق کوئی ڈیٹا نہیں البتہ کراچی میں چند سال پہلے کامران احمد خان نے ایک غیر سرکاری ادارے 'لٹل پیپل آف پاکستان' کی بنیاد رکھی تھی اور ان کا اندازہ ہے کہ کراچی میں یہ تعداد دس ہزار جبکہ ملک بھرمیں کُل 50 سے 60 ہزار ہے۔

Image caption فیصل پراچہ نے برقی اشیا کی مرمت کا کام سیکھا لیکن روزگار کی تلاش کے دوران ان کا قد آڑے آتا رہا

کامران احمد خان خود ایک پست قد نوجوان ہیں۔ وہ تعلیم یافتہ ہیں لیکن اُنھیں بھی ناخوشگوار تجربات کا سامنا رہا: 'لوگ ہمیں تکلیف دہ ناموں سے پکارتے ہیں جیسے کہ چھوٹے ، کوڈو اور بونا۔'

یہ بھی پڑھیے!

جسم کی ساخت کا مذاق اڑانے والے اشتہار پر احتجاج

کیا آپ بھی اپنے بچے کا موٹاپا چھپاتے ہیں؟

علیحدہ جم سے زیادہ خواتین ورزش پر مائل ہو رہی ہیں

انھوں نے عوام سے گزارش کرتے ہوئے کہا کہ' اگر یہ افراد کسی بھی کام کے لیے ہمت کر کے گھروں سے نکل رہے ہیں تو برائے مہربانی ان کا مذاق نہ اڑائیں۔ ان کا مورال ڈاؤن ہو جائے تو یہ باہر ہی نہیں نکلتے۔'

انھوں نے شکوہ کیا کہ میڈیا میں بھی ان کے مسائل اجاگر نہیں کیے جاتے۔ ’بس تفریحی پروگراموں میں جوکر کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔'

Image caption پستہ قد افراد روزمرہ کے کاموں میں بھی مشکلات کا سامنا کرتے ہیں

پاکستانی آئین کے تحت چار فِٹ دس انچ سے چھوٹے تمام بالغ افراد کو معذور شمار کیا جاتا ہے۔ اس سلسلے میں باقاعدہ ایک سرٹیفیکٹ بھی جاری کیا جاتا ہے جبکہ ایسے افراد کے قومی شناختی کارڈ پر معذور افراد کے لیے مخصوص نشان بھی موجود ہوتا ہے۔

جامعۂ کراچی کے شعبۂ سماجیات کے طالب علم سلطان ناصرالدین نے 'کراچی کے پستہ قد افراد کے سماجی مسائل' پر اپنا تحقیقی مقالہ لکھا ہے۔

سلطان نے بتایا 'پست قامت والے افراد مذاق اڑائے جانے کے ڈر سے گھروں سے تعلیم اور نوکری کےلیے نکلنے سے ڈرتے ہیں۔ اگر مجبورا باہر آنا بھی پڑے تو اُنھیں عام ملازمتیں بھی نہیں ملتیں'۔

ذہنی دباؤ سے موٹاپا کیوں ہوتا ہے؟

موٹوں پر تنقید کی ویڈیو کے بعد 'یوٹیوب ہنگامہ'

کچن میں کہیں پیسے ملتے ہیں اور کہیں پیار

Image caption پاکستانی آئین کے تحت چار فِٹ دس انچ سے چھوٹے تمام بالغ افراد کو معذور شمار کیا جاتا ہے

ان کے مطابق تحقیق کے دوران معلوم ہوا کہ ’ایسے افراد اگر پڑھے لکھے بھی ہوں تو عام لوگوں کے مقابلے ان افراد کو اپنے قد کی وجہ سے کوئی بہتر ملازمت ملنا مشکل ہوتی ہے۔ یہی معاشی تنگی ان کی نجی زندگی کو بھی متاثر کرتی ہے اور وہ گھروں میں بوجھ بن کر رہ جاتے ہیں اور شادیاں نہیں کر پاتے۔'

سلطان کی تحقیق کے بعد محکمۂ سوشل ورک کی چیئرپرسن ڈاکٹر نسرین اسلم نے انتظامیہ کےساتھ مل کر پست قامت افراد کو یونیورسٹی کے اندر ٹک شاپس کھلوا کر دینے کا بیٹرا اٹھایا۔

فیصل پراچہ بھی اب ایسی ہی ٹک شاپ چلاتے ہیں۔ اب وہ شادی کے خواہش مند ہیں لیکن اپنی آمدنی کا سوچ کر اس خیال کو جھٹک دیتے ہیں۔

'عمر تو بڑھ ہی رہی ہے، گھٹ تو نہیں رہی آہستہ آہستہ لیکن ناشتہ پانی، آنا جانا، دُکھ بیماری سب لگا ہے۔ روزانہ 300 روپے کہاں پتا چلتے ہیں۔'

اسی بارے میں