فیض آباد دھرنا کیس: وزارتِ دفاع کی نظر ثانی کی اپیل میں کیا ہے؟

فیض آباد دھرنا تصویر کے کاپی رائٹ AFP/Getty Images

وزارت دفاع نے فیض آباد دھرنے سے متعلق سپریم کورٹ کے چھ فروری کے فیصلے کے خلاف نظرثانی کی اپیل دائر کی ہے جس میں عدالتِ عظمیٰ سے فوج اور اس کے خفیہ اداروں سے متعلق فیصلے میں لکھی جانے والی سطروں کو واپس لینے کی درخواست کی گئی ہے۔

نظرثانی کی اس اپیل میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کے اس فیصلے سے پاکستانی فوج کے حوصلے (morale) پر منفی اثرات پڑے ہیں۔

اپیل میں کہا گیا ہے کہ اگر اس عدالتی فیصلے پر نظر ثانی نہ کی گئی تو انڈیا سمیت ملک دشمن عناصر کو فوج کے خلاف جھوٹا پروپگینڈا کرنے کا موقع ملے گا۔

اٹارنی جنرل کے توسط سے وزارتِ دفاع کی جانب سے دائر کی جانے والی نظرثانی کی اپیل میں کہا گیا ہے کہ عدالتی فیصلے سے یہ تاثر ابھر رہا ہے کہ افواج پاکستان اپنے حلف کی خلاف ورزی کر رہی ہیں۔

نظرثانی کی اپیل میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں افواج پاکستان کے سربراہان کو جو ہدایات دی ہیں وہ مبہم اور غیر واضح ہیں۔

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں وزارت دفاع کے توسط سے آرمی چیف سمیت افواج پاکستان کے سربراہان کو حکم دیا تھا کہ وہ اپنے ان ماتحت اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی کریں جنھوں نے اپنے حلف کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سیاسی امور میں مداخلت کی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

تحریک لبیک، اکیسویں صدی کا ’فرینکنسٹائن‘

’فیصلے پر عمل نہ بھی ہوا تو تاریخ بن جائے گا‘

فیض آباد دھرنا: ’آئی ایس آئی اور آئی بی سنجیدگی دکھائیں‘

سپریم کورٹ: ’اس سے بڑا اور کون سا مقدمہ کہ ایک جماعت پورے ملک کو بند کر دے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP/Getty Images

وزارت دفاع کی نظرثانی کی اپیل میں کہا گیا ہے کہ فیض آباد دھرنے سے متعلق اس از خود نوٹس کی سماعت کے دوران مسلح افواج کے کسی اہلکار کے ملوث ہونے یا اس کی نشاندہی کے بارے میں کچھ نہیں کہا گیا۔

اس اپیل میں کہا گیا ہے کہ پاکستانی افواج میں حلف کی خلاف ورزی پر زیرو ٹالرینس کا مظاہرہ کیا جاتا ہے۔ حلف کی خلاف ورزی ایک سنگین الزام ہے جسے سنجیدگی سے لیا جاتا ہے۔

نظرثانی کی اس اپیل میں کہا گیا ہے کہ ٹھوس شواہد کے بغیر نامعلوم افراد کے خلاف حلف کی خلاف ورزی ممکن نہیں ہے۔

واضح رہے کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے سینیٹ کے اجلاس کے دوران کہا تھا کہ اگر یہ ثابت ہو جائے کہ فوج فیض آباد دھرنے میں ملوث ہے تو وہ اپنے عہدے سے مستعفی ہو جائیں گے۔

اس نظرثانی کی اپیل میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کے اس فیصلے سے یہ تاثر ملتا ہے کہ جیسے فوج اور اس کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی فیض آباد دھرنے میں ملوث تھی۔ اس اپیل میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ فوج اور آئی ایس آئی کے بارے میں دی گئی آبزرویشن کی بنیاد اخباری خبریں اور مفروضے ہیں۔

نظرثانی کی اس اپیل میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ فیصلے میں فوج اور آئی ایس آئی کے بارے میں جو جج صاحبان کی طرف سے آبزرویشن دی گئی ہیں ان کو حذف کیا جائے۔

نظرثانی کی اپیل میں اس بات کا بھی ذکر بھی کیا گیا ہے کہ فیض آباد دھرنے سے متعلق سپریم کورٹ میں از خود نوٹس کی سماعت کے دوران انٹیلیجنس بیورو کے علاوہ انٹرسروسز انٹیلیجنس اور پولیس کی جانب سے جو جوابات داخل کروائے گئے اس میں فوج کے بالواسطہ یا بلاواسطہ ملوث ہونے کے بارے میں کچھ نہیں کہا گیا۔

Image caption ویڈیو میں جنرل حیات ایک باریش شخص سے کہتے ہیں: 'یہ ہماری طرف سے تمھارے لیے ہے۔ کیا ہم آپ کے ساتھ نہیں ہیں؟'

ویڈیو کا ذکر

نظرثانی کی اس اپیل میں سوشل میڈیا پر چلنے والی ایک ویڈیو کا بھی ذکر کیا گیا ہے جس میں پنجاب رینجرز کے ایک افسر دھرنے کے شرکا میں لفافے تقسیم کرتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔

وزارت دفاع کا موقف ہے کہ وزارت داخلہ نے رینجرز کو دھرنے کے شرکا کو ہٹانے کے لیے تعینات کیا تھا۔ جب حکومت اور مظاہرین کے درمیان معاہدہ طے پا گیا تو کچھ لوگوں نے کہا کہ ان کے پاس واپس جانے کا کرایہ نہیں ہے۔

نظرثانی کی اس اپیل میں کہا گیا ہے کہ وزارت داخلہ کے حکم پر مظاہرین کو سفری خرچ مہیا کیا گیا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ نے یہ ویڈیو منظر عام پر آنے پر سخت ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ فوج ایک ریاستی ادارہ ہے اور اسے حکومت کے ساتھ ہونا چاہیے اور اس دھرنے کو ختم کرنے کے لیے فوج کیسے ثالثی کا کردار ادا کر سکتی ہے۔

حکومت اور مظاہرین کے درمیان طے پانے والے معاہدے میں چند روز قبل لیفٹنینٹ جنرل کے عہدے پر ترقی پانے والے فوجی افسر فیض حمید کے دستخط بھی موجود ہیں۔

ویڈیو میں جنرل حیات ایک باریش شخص سے کہتے ہیں: 'یہ ہماری طرف سے تمھارے لیے ہے۔ کیا ہم آپ کے ساتھ نہیں ہیں؟'

اظہار رائے کی آزادی پر پابندی

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

نظرثانی کی اس اپیل میں اس بات کا بھی ذکر کیا گیا ہے کہ اس عدالتی فیصلے سے یہ تاثر ملتا ہے کہ فوج اور اس کے خفیہ ادارے اظہار رائے کی آزادی پر قدغن لگانے کے ساتھ ساتھ گذشتہ برس ہونے والے عام انتخابات میں مبینہ دھاندلی میں بھی ملوث ہیں۔

اس اپیل میں یہ کہا گیا ہے کہ فوج کو انتخابات کے دوران امن وامان قائم رکھنے کے لیے تعینات کیا گیا تھا۔

نظرثانی کی اپیل میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ دو نجی ٹی وی چینلز 'جیو' اور 'ڈان' کی نشریات کو ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی اور کنٹونمنٹ کے علاقوں میں بند کرنے سے متعلق ثبوت فراہم نہیں کیے گئے۔

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ پیمرا ان علاقوں میں ان دونوں ٹی وی چینلز کی نشریات کو دکھانے میں ناکام رہا اور بادی النظر میں ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان چینلز کی نشریات پر بندش بااثر اداروں کے کہنے پر لگائی گئی۔

نظرثانی کی اس اپیل میں فوج کی شدت پسندوں کے خلاف کی جانے والی کارروائی اور اس میں حاصل ہونے والی کامیابیوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔

نظرثانی کی اس اپیل میں ایئرمارشل ریٹائرڈ اصغر خان کیس کا بھی ذکر کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ فیض آباد دھرنا کیس اور اصغر خان کیس میں بہت فرق ہے۔

اصغر خان کیس میں بھی سپریم کورٹ نے حکم دیا تھا کہ فوج کے ان اعلیٰ افسران کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے جنھوں نے سنہ 90 کی دہائی میں اسلامی جمہوری اتحاد کی تشکیل کے لیے سیاست دانوں میں رقوم تقسیم کی تھیں۔

نظرثانی کی اس اپیل میں کہا گیا ہے کہ فیصلہ جاری کرنے سے پہلے ان الزامات کے جواب دینے کے بارے میں وزارت دفاع یا فوج کے کسی اہلکار کو کوئی نوٹس جاری نہیں کیا گیا۔

پاکستان تحریک انصاف بھی نظرثانی کی اپیل میں

حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف نے عدالت عظمیٰ میں ترمیم شدہ نظر ثانی کی اپیل دائر کی ہے۔ پہلے دائر کی جانے والی پٹیشن میں سپریم کورٹ کے جج اور فیض آباد دھرنے کا فیصلہ لکھنے والے جج جسٹس قاضی فائز عیسی پر جانبداری کا الزام لگاتے ہوئے اس فیصلے کو کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی تھی۔

نظر ثانی کی اس اپیل میں یہ موقف اختیار کیا گیا ہے کہ عدالت نے اپنے فیصلے میں سنہ 2014 میں پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک کی جانب سے دیے گئے دھرنے کا ذکر کیا ہے لیکن اس بارے میں پاکستان تحریک انصاف کے رہنماوں کا موقف نہیں سنا گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP/Getty Images

ایم کیو ایم کی بھی نظرثانی کی اپیل

حکمراں اتحاد میں شامل ایم کیو ایم نے فیض آباد دھرنے سے متعلق عدالتی فیصلے کے خلاف نظرثانی کی اپیل دائر کرتے ہوئے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ عدالتی فیصلہ آئین کے ارٹیکل 10 اے کی خلاف ورزی ہے۔ آئین کا یہ آرٹیکل منصفانہ عدالتی کارروائی سے متعلق ہے۔

نظرثانی کی اس اپیل میں یہ موقف اختیار کیا گیا ہے کہ فیض آباد دھرنے سے متعلق عدالتی فیصلے کے پیراگراف نمبر 23 اور 24 مفروضوں کی بنیاد ہر ہیں۔

سپریم کورٹ نے فیض آباد دھرنے کے بارے میں سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے دور میں کراچی میں 12 مئی سنہ2007 میں ہونے والے واقعے کا بھی ذکر کیا گیا ہے جس میں درجن سے زائد وکلا کو ہلاک کر دیا گیا تھا۔

ایم کیو ایم کی جانب سے دائر کی جانے والی نظرثانی کی اپیل کی پیروی عرفان قادر کریں گے جو سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے دور میں اٹارنی جنرل بھی رہے ہیں۔

الیکشن کمیشن کی جانب سے نظرثانی کی اپیل

فیض آباد دھرنے سے متعلق الیکشن کمیشن نے بھی سپریم کورٹ کے فیصلے پر نظر ثانی کی اپیل دائر کر دی ہے۔ نظرثانی کی اپیل میں کہا گیا ہے کہ ریکارڈ ثابت کرتا ہے کہ تحریک لبیک کو سیاسی جماعت قرار دینے سے متعلق الیکشن کمیشن نے آ ئین اور قانون کے مطابق عمل درآمد کیا۔

نظرثانی کی اپیل میں کہا گیا ہے کہ 16 اگست سنہ2017 کو تحریک لبیک کو اپنے بینک اکاؤنٹس تفصیلات فراہم کرنے کا نوٹس دیا گیا اور تفصیلات فراہم نہ کرنے پر تحریک لبیک کو رجسٹریشن منسوخ کرنے کی وارننگ بھی دی گئی۔

نظرثانی کی اپیل میں کہا گیا ہے کہ فیض آباد دھرنے سے متعلق سپریم کورٹ فیصلے میں دی گئی آبزرویشنز الیکشن کمیشن کارکردگی پر منفی اثرات ڈالیں گی اور اگر عدالتی آبزرویشنز برقرار رہیں تو الیکشن کمیشن پر دوررس اثرات ہوں گے۔ نظرثانی کی اپیل میں استدعا کی گئی ہے کہ عدالت عظمی الیکشن کمیشن سے متعلق اپنی آبزرویشنز حذف کرے۔

نظرثانی کی ان درخواستوں کی سماعت وہی دو رکنی بینچ کرے گا جس نے فیض آباد دھرنے سے متعلق از خود نوٹس پر فیصلہ دیا تھا۔ قانونی ماہرین کے مطابق نظرثانی کی اپیلوں میں اس بات کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہوتے ہیں کہ سپریم کورٹ اپنا فیصلہ تبدیل کرے۔

اسی بارے میں