اورماڑہ: کوسٹل ہائی وے پر بسوں سے اتار کر بحریہ کے اہلکاروں سمیت 14 مسافر قتل

پولیس اہلکار تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کوسٹل ہائی وے پر کراچی اور گوادر کے درمیان چلنے والی گاڑیاں اورماڑہ کے علاقے سے گزرتی ہیں (فائل فوٹو)

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ضلع گوادر میں نامعلوم مسلح افراد نے 14 افراد کو گولیاں مار کر ہلاک کر دیا ہے۔

یہ واقعات اورماڑہ میں بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب پیش آئے اور ہلاک شدگان مختلف مسافر بسوں میں کراچی اور گوادر کے درمیان سفر کر رہے تھے۔

اورماڑہ میں انتظامیہ سے تعلق رکھنے والے ایک اہلکار نے اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بی بی سی اردو کے محمد کاظم کو بتایا کہ یہ واقعہ ہنگول کے قریب بزی پاس کے علاقے میں کوسٹل ہائی وے پر پیش آیا۔

اہلکار کا کہنا تھا کہ اس علاقے میں نامعلوم مسلح افراد نے چار، پانچ بسوں کو روکا۔

یہ بھی پڑھیے

گوادر میں سکیورٹی فورسز پر حملہ، ایک اہلکار ہلاک

بلوچستان: سکیورٹی فورسز پر حملہ، چار اہلکار ہلاک

لورالائی میں ڈی آئی جی کے دفتر پر حملہ، نو ہلاک

اہلکار کے مطابق مسلح افراد نے بسیں روکنے کے بعد مسافروں کے شناختی کارڈ چیک کرنے کے بعد ان میں سے 14 افراد کو اتارا جنھیں تھوڑی دور لے جا کر ہلاک کر دیا گیا۔

تاحال ہلاک شدگان کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی ہے تاہم پاکستانی بحریہ کے ترجمان نے ایک بیان میں تصدیق کی ہے کہ ان میں بحریہ کے اہلکار بھی شامل ہیں۔

اہلکار کے مطابق تمام لاشوں کو اورماڑہ کے مقامی ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

بعض اطلاعات کے مطابق حملہ آوروں نے بھیس بدلنے کے لیے سکیورٹی فورسز کی وردیاں پہن رکھی تھیں۔

اہلکار نے بتایا اس حملے کے بعد حملہ آور آواران کے پہاڑی علاقے کی جانب فرار ہو گئے جن کی تلاش کے لیے سکیورٹی فورسز نے علاقے میں بڑے پیمانے پر کارروائی شروع کی ہے۔

بلوچستان کی علیحدگی پسند تنظیموں کے اتحاد بلوچ راجی آجوئی سنگر (براس) نے اورماڑہ میں حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

بی بی سی کو بھیجے گئے پیغام میں اتحادی تنظیموں کے ترجمان بلوچ خان نے دعویٰ کیا ہے کہ بحریہ اور کوسٹ گارڈز کے اہلکاروں کے کارڈ دیکھنے کے بعد انھیں نشانہ بنایا گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption حملے کے بعد سکیورٹی فورسز نے علاقے میں بڑے پیمانے پر کارروائی شروع کی ہے(فائل فوٹو)

بلوچستان میں ضلع گوادر اور اس سے متصل ضلع کیچ سمیت بعض دیگر علاقوں میں پہلے بھی مسافروں کو بسوں اور دیگر گاڑیوں سے اتارکر ہلاک کرنے کے واقعات پیش آتے رہے ہیں۔

بلوچستان میں حالات کی خرابی کے بعد سے گوادر، کیچ اور ان سے متصل دیگر علاقوں میں بد امنی کے اس نوعیت کے واقعات پیش آتے رہے ہیں تاہم سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ سکیورٹی کے لیے کیے جانے والے اقدامات کے پیش نظر اس نوعیت کے واقعات میں کمی آئی ہے۔

گوادر اورکیچ میں ماضی میں جن لوگوں کو گاڑیوں سے اتار کر ہلاک کیا جاتا رہا ان میں سے زیادہ تر وہ لوگ تھے جو کہ غیر قانونی طور پر یورپی ممالک جانے کی کوشش کرتے رہے۔

اس کے علاوہ مستونگ اور بولان کے علاقے میں بھی اس نوعیت کے واقعات پیش آتے رہے ہیں۔

بلوچستان کے وزیر اعلیٰ جام کما ل نے اورماڑہ میں ہلاکتوں کی مذمت کی ہے۔ انھوں نے ایک بیان میں کہا کہ بعض عناصر بیرونی عناصر کو خوش رکھنے کے لیے اپنے لوگوں کا خون بہا رہے ہیں۔

وزیر اعلیٰ نے اسے بلوچستان میں ترقی کے عمل کو روکنے کی ایک گھناؤنی سازش قرار دیتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ ملزمان کو ان کے کیفرکردار تک پہنچایا جائے گا۔

حملے کی ذمہ داری قبول کرنے والا اتحاد ’براس کیا ہے‘

بلوچ راجی آجوئی سنگر بلوچستان لبریشن فرنٹ، بلوچستان لبریشن آرمی اور بلوچستان ریپبلکن گارڈز پر مشتمل مسلح اتحاد ہے، جس کا قیام گزشتہ سال عمل میں آیا تھا۔

اس حوالے سے 10 نومبر کو ایک مشترکہ اعلامیہ بھی جاری کیا گیا تھا۔ اس اتحاد کی کارروائیوں کا مرکز زیادہ تر چین پاکستان اقتصادری راہدری کے آس پاس کے علاقے ہیں۔

براس کے ترجمان کے مطابق ’بلوچستان لبریشن فرنٹ اور بلوچ لبریشن آرمی نے 30 اکتوبر 2017 کو اتحاد و اشتراک عمل کا اعلان کیا تھا جس کے بعد متعدد مشترکہ کارروائیاں کی گئیں اور دونوں تنظیموں کے اتحاد اور عملی کارروائیوں سے تحریک پا کر بلوچ ریپبلکن گارڈز (بی آر جی) کی قیادت بھی 20 اپریل 2018 کو بی ایل اے اور بی ایل ایف کے اتحاد میں شامل ہو گئی۔

براس کی جانب سے اب تک 14 دسمبر 2018 کو تمپ میں فورسز کے قافلے پر حملے اور مقابلے کے علاوہ رواں سال 17 فروری کو تربت اور پنجگور کے درمیان فورسز پر حملے کے دعوے سامنے آ چکے ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں