اسد عمر کا کابینہ چھوڑنے کا فیصلہ، ٹوئٹر پر مداح نالاں

اسد عمر تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

پاکستان کے وزیر خزانہ اسد عمر نے ایک ٹوئٹ کے ذریعے کابینہ سے الگ ہونے کا اعلان کیا جس کے بعد سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر لوگوں نے مختلف جذبات اور آراء کا اظہار شروع کر دیا لیکن اسد عمر کے مداح اور حکمران جماعت کے حامی اس فیصلے سے نالاں ہی نظر آ رہے ہیں۔

اسد عمر نے اپنی ٹویٹ میں یہ بھی کہا کہ 'وزیرِ اعظم کابینہ میں ردوبدل کے نتیجے میں چاہتے ہیں کہ میں وزارت خزانہ کی جگہ توانائی کا قلمدان سنبھال لوں۔ لیکن میں نے ان کی مرضی سے فیصلہ کیا ہے کہ میں کابینہ میں کوئی بھی عہدہ نہیں لوں گا۔'

یہ بھی پڑھیے۔

اسد عمر: نئے وزیرِ خزانہ سے کسی معجزے کی امید نہ رکھیں

اسد عمر:پاکستان کی سیاسی تاریخ اور بھتیجے

جب پچ اور موسم دونوں ناسازگار ہوں۔۔۔

اسد عمر کے جواب میں سوشل میڈیا پر تحریک انصاف کے متحرک کارکن ڈاکٹر فرحان ورک نے ان کے اس فیصلے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’سمجھ ہی نہیں آ رہی آپ لوگ کرنا کیا چاہ رہے ہو!‘۔

انھوں نے اس بات پر بھی برہمی کا اظہار کیا کہ چند دن پہلے جب اسد عمر کے استعفیٰ کی خبریں گردش کر رہیں تھی تو حکومت کی طرف سے اس خبر کی تردید کر دی گئی تھی جس کے بعد سوشل میڈیا پر پی ٹی آئی کے کارکنوں نے صحافیوں کو آڑے ہاتھ لیا تھا۔

زید رحیم لکھتے ہیں کہ بہت سارے عقل مند لوگ جو خامیوں کے باوجود تحریک انصاف کی حمایت کرتے تھے ان کی حمایت کی وجہ پارٹی میں اسد عمر صاحب جیسے لوگوں کی موجودگی تھی۔ ایک مثالی شخص جو وقتی سیاسی نقصان کو نظر انداز کر کے مسائل کو حل کرنے کی کوشش کرتے۔

انھوں نے کہا ’یہ شکست محسوس ہوتی ہے۔‘

ڈاکٹر علی عنایت نے بھی اس صورتحال پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے سوال کیا کہ اسد عمر سے بہتر کون ہے اور کیا عمران خان بھی فوری تبدیلی کی توقع رکھتے ہیں؟

انھوں نے کہا کہ اس فیصلے کی وجہ سے ان کے نزدیک عمران خان کی عزت کم ہو گئی ہے۔

غزالہ نے اپنی ٹوئٹ میں لکھا کہ وہ اس فیصلے سے بہت مایوس ہیں اور اسد عمر کو مخاتب ہو کر انھوں نے کہا کہ وہ کچھ مہینوں کے بعد کیسے اپنا عہدہ چھوڑ سکتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’میں نے خود آپ کے لیے ووٹ کیا تھا خان صاحب کے لیے نہیں۔‘

نیلم نیازی نے چند لفظوں میں اپنی مایوسی کو بیان کرتے ہوئے لکھا کہ ’ایسا نہیں ہونا چاھیے تھا۔‘

اسی بارے میں