’عمران کا مشکل فیصلہ‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption اسد عمر نے سات سال قبل تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی تھی

سالانہ بجٹ سے صرف ایک ماہ قبل اور عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف سے مذاکرات کے بیچوں بیچ پاکستان کے وزیر خزانہ اسد عمر کی تبدیلی کے فیصلے کو 'سرپرائز' تو نہیں لیکن ایک غیر روائتی سیاست دان کا اہم اور مشکل فیصلہ ضرور قرار دیا جا رہا ہے۔

اس کے ساتھ ہی یہ سوالات بھی پوچھے جانے لگے کہ وزیر اعظم عمران خان کی طرف سے اپنی کابینہ کے ایک ایسے رکن کو تبدیل کرنا جسے ان کی ٹیم کا 'اوپنگ بیٹس مین' کہا جاتا ہو، کیا جماعت کے اندر جاری کھینچا تانی کا نتیجہ ہے یا یہ فیصلہ صرف اور صرف کارکردگی کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔ یہ سوال بھی ذہنوں میں اٹھنے لگے کہ کیا یہ تحریک انصاف کی حکومت کے لیے بڑا سیاسی دھچکا نہیں ہے اور اپنی ناکامی کا اعتراف نہیں۔

تحریک انصاف کے مختلف دھڑوں میں کشمکش کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے۔ جہاں تک اسد عمر کی کارکردگی کا تعلق ہے تو سب کو علم تھا کہ تحریک انصاف کی حکومت کو جو معیشت ورثے میں ملی تھی اس کو نو ماہ کے قلیل عرصے میں بحران سے نکالنا ممکن نہیں تھا۔

اسد عمر کی کابینہ سے جانے کی کیا وجہ بنی

صحافی محمد مالک

پاکستان میں نجی ٹی وی چینل 'ہم نیوز' کے سربراہ اور سیاسی امور کے تجزیہ نگار محمد مالک نے عمران خان کے اس فیصلے کو 'سیاسی مصلحت' قرار دیتے ہوئے بی بی سی اردو کو بتایا کہ تبدیلی کا یہ سلسلہ صرف وفاق تک محدود نہیں رہے گا بلکہ اس کا دائر پنجاب تک وسیع ہو گا جہاں عثمان بزدار کی اہلیت اور صلاحیت پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Muhammad Malik

انھوں نے کہا کہ اسد عمر کے علاوہ اگلے 24 گھنٹوں میں وفاقی کابینہ میں تین سے چار تبدیلیاں متوقع ہیں اور پنجاب جہاں بیروکریسی میں تبدیلیاں کی گئی ہیں سیاسی سطح پر بھی تبدیلیاں ہونے کا قوی امکان ہے۔

محمد مالک کے خیال میں اسد عمر کی اب تک کی کارکردگی میں کوئی بنیادی جھول یا خرابی نہیں تھی بلکہ آبادی کے لحاظ سے ملک کے سب سے بڑے صوبے میں ابتر انتظامی اور سیاسی صورت حال حکومت کی مجموعی کارکردگی معیشت پر اثر انداز ہو رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

عمران خان کا سفر

کریڈٹ ریٹنگ میں کمی ’معاشی عدم استحکام کی نشانی‘

منی لانڈرنگ کا جن بوتل میں کیسے بند کیا جائے؟

اس فیصلے کا تناظر پیش کرتے ہوئے محمد مالک نے کہا کہ 'یہ مشکل وقت تھا حکومت کے لیے، اپوزیشن کا دباؤ تھا، مہنگائی بڑھ رہی تھی، آئی ایم ایف سے امداد ملنے میں تاخیر ہو رہی تھی۔'

'ملک کی پچاس فیصد سے زیادہ آبادی والے صوبے کی معیشت کام نہ کرے تو اس کا اثر وفاق پر ضرور پڑتا ہے۔'

انھوں نے کہا کہ اسد عمر تحریک انصاف میں ایک انتہائی قدر آور شخصیت تھے اور جہانگیر ترین کے قانونی وجوہات کی بنا پرالگ ہوجانے کے بعد اسد عمر کا کابینہ سے علیحدہ ہو جانا حکمران جماعت کے لیے ایک بڑا نفسیاتی دھچکا ہے۔

صحافی خاور گھمن

ایک اور نجی ٹی چینل کے تجزیہ کار خاور گھمن اس فیصلے کو تحریک انصاف کے لیے ایک دھچکا تو تسلیم کرتے ہیں لیکن ساتھ ہی وہ اس کو عمران خان کا دبنگ اور مشکل فیصلہ قرار دیتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ khawar ghuman

خاور گھمن کے مطابق عمران خان نے اسد عمر کو تبدیل کر کے ایک طرح سے یہ بھی تسلیم کیا ہے کہ اتنی اہم وزارت کے لیے ان کا انتخاب درست نہیں تھا۔

لیکن خاور گھمن کے خیال میں اس طرح کا مشکل فیصلہ کر کے عمران نے ایک مرتبہ پھر یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ ایک غیر روایتی سیاست دان ہیں اور کٹھن اور مشکل فیصلے کرنے سے نہیں گھبراتے۔

دنیا ٹی وی کے تجزیہ کار کا مزید کہنا تھا کہ مشکل فیصلہ لے کر عمران نے اپنی قائدانہ صلاحیت تو ثابت کر دی لیکن اصل چینلج آنے والے دنوں میں معیشت کو بہتر کرنے کا ہے۔ 'آپ نے ایک چانس تو لے لیا ہے لیکن آپ کو دوسرا چانس کوئی نہیں دے گا۔'

انھوں نے کہا کہ اسد عمر کے متبادل کا انتخاب عمران خان کے لیے اصل چیلنج ہو گا اور انھیں ایک ایسا وزیر خزانہ چاہیے جو ملک کو اس بحران سے نکال سکے۔

اسد عمر کو ہٹائے جانے کے مزید عوامل پر بات کرتے ہوئے خاور گھمن نے کہا کہ جماعت کے اندر سے آوازیں اٹھنا شروع ہو گئیں تھیں کہ مہنگائی اور عوام کو درپیش مشکلات کی وجہ سے پارٹی کے منتخب ارکان اپنے حلقوں میں نہیں جا پا رہے۔

اس کے ساتھ ہی خاور کے مطابق ملک کے دیگر مقتدر حلقوں کی طرف سے بھی دباؤ بڑھ رہا تھا کہ اگر وزیر خزانہ معیشت کو بحال نہیں کر پا رہا تو اس کو تبدیل کریں۔

اسد عمر کی طرف سے کابینہ سے علیحدہ ہونے اور توانائی کی وزارت کا قلمدان قبول نہ کرنے کے فیصلے پر محمد مالک کا کہنا تھا کہ خزانہ جیسی اہم وزارت کے بعد کوئی دوسری وزارت قبول کرنا کوئی احسن قدم نہ ہوتا۔

اسی بارے میں