اورماڑہ کے حملہ آوروں کی کمیں گاہیں ایران میں: شاہ محمود

ایران سرحد
Image caption 3. ایران اور پاکستان کے باہمی مشاورت سے یہ طے کیا کے سرحد کو پر امن رکھنے کے لیے چند بارڈر سنٹرز بنائے جائیں گے۔

پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محود قریشی کا کہنا ہے کہ اورماڑہ میں سکیورٹی اہلکاروں پر حملے کے ذمہ داروں کی کمیں گاہیں ایرانی سرحد کے اندر ہیں اور ایران کو اس بارے میں تفصیلات سے آگاہ کر دیا گیا ہے۔

یہ بات انھوں نے وزراتِ خارجہ کے دفتر میں ایک نیوز کانفرنس میں کہی۔

وزیر خارجہ شاہ محود قریشی کا کہنا تھا چند روز قبل ’ہمارے سپاہیوں کو جیسے ہاتھ باندھ کر شہید کیا گیا پوری قوم غم و غصہ میں ہے اور جاننا چاہتی ہے کہ یہ واقعہ کیوں ہوا۔‘

انھوں نے بتایا کہ ’ایک اتحاد سامنے آ چکا ہے جو بی آر اے کے نام سے پہچانا جاتا ہے جس میں کئی بلوچ دہشت گرد تنظیمیں شامل ہیں انھوں نے اس واقعے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔‘

یہ بھی پڑھیے

اورماڑہ میں بحریہ کے اہلکاروں سمیت 14 مسافر قتل

ایران پاکستانی سرحد پر گولے کیوں برساتا ہے؟

سیستان بلوچستان: ایرانی سرحدی فورس کے اہلکاروں سمیت 14 افراد اغوا

ایران سے معلومات کا تبادلہ

وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ وہ اس لیے اب تک خاموش تھے کیونکہ بقول ان کے ’جب تک ان کے پاس مصدقہ اطلاعات نہیں ہوں گی وہ تب تک انڈیا کی روایت دہراتے ہوئے الزام تراشی نہیں کروں گا۔ ‘

شاہ محمود قریشی نے بتایا کہ ’میرے پاس اب مصدقہ اطلاعات ہییں جو میں شیئر کرنا چاہتا ہوں۔ ایک تو یہ کہ یہ بلوچ دہشت گردوں کی کارروائی ہے اور اس کے کیمپس ایرانی سرحد کے اندر ہیں۔ ہم نے تحقیق و تصدیق کے بعد ایرانی حکام کے ساتھ معلومات کا تبادلہ کیا ہے۔ ہم نے ان کیمپس کے مقامات کی بھی نشاندہی کر دی ہے۔ ‘

’ہم توقع کرتے ہیں کہ ایران پاکستان کا ہمسایہ ہے اور ہمارے دیرینہ تعلقات ہیں انہیں سامنے رکھتے ہوئے ہم توقع کرتے ہیں کہ ایرانی بھائی ان تنظیموں کے خلاف ایکشن لیں گے۔‘

وزیر خارجہ شاہ محود قریشی نے کہا کہ ’ہم اپنے افغان بھائیوں سے بھی ان کے خلاف کارروائی کی توقع کر رہے ہیں کیونکہ بی آر اے کے تانے بانے بھی وہاں جاتے ہیں۔ ان کی لیڈر شپ کی گاہے بگاہے وہںا نشاندہی ہوتی رہی ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ افغانستان کے امن کے لیے پاکستان سے جو ہو سکتا ہے وہ کر رہے ہیں اور ہمیں توقع ہے کہ وہ بھی خیر سگالی کے اسی جذبے کے تحت ہماری مدد کریں گے۔

وزیر خارجہ شاہ محود قریشی کا کہنا تھا کہ ’ہمارے پاس فورنزک شواہد موجود ہیں۔ جنہیں استعمال کرکے اس واقعے کے مجرمان کو پکڑا جا سکتا ہے۔‘

انھوں نے واضح کیا کہ ’یہ پہلی مرتبہ نہیں کہ اس راستے کو استعمال کیا گیا۔ ‘

شاہ محمود قریشی نے بتایا کہ ان کی ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف سے تفصیلی گفتگو ہوئی ہے۔ جس میں انھوں نے پاکستانی قوم کے جذبات اور اپنی توقعات سے بھی آگاہ کیا ہے۔ ان کے بقول ایرانی وزیر خارجہ نے یقین دہانی کروائی ہے وہ نہ صرف اس واقعے کی مذمت کرتے ہیں بلکہ وہ پاکستان کے ساتھ مکمل تعاون کرنے کے لیے تیار ہیں۔

وزیرِ خارجہ کے بقول ایران کا یہ ردِ عمل حوصلہ افزا ہے۔

انھوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستانی وزیر اعظم اتوار کو ایران کے دورے پر جا رہے ہیں جہاں اس حوالے سے مزید اقدامات پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

وزیر خارجہ شاہ محود قریشی کا کہنا تھا کہ ’ہم نے کچھ اقدامات پہلے ہی اٹھا رکھے ہیں اور وہ اس سرحد کی حساسیت کو سامنے رکھتے ہوئے اٹھائے گئے ہیں تاہم ان میں مزید بہتری کی جا سکتی ہے۔

سرحد پر سکیورٹی بڑھانے اور علاقے کو محفوظ بنانے کی غرض سے چند اہم اقدامات کا فیصلہ کیا گیا۔ ان کی تفیصلات وزیر خارجہ نے بتائیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption سرحد پر سکیورٹی بڑھانے اور علاقے کو محفوظ بنانے کی غرض سے چند اہم اقدامات کا فیصلہ کیا گیا ہے

چھ ضروری اقدامات کرنے کا فیصلہ

  1. ’ایک نئی سدرن (جنوبی) کمانڈ تشکیل دی گئی ہے جو علاقے میں نگرانی اور فوری رد عمل کا کام کرے گی۔ اس کا مرکز تربت میں قائم کیا گیا ہے۔ تاکہ یہ سرحد کو پہلے سے زیادہ محفوظ بناسکے۔
  2. ایران سے ملحقہ سرحد کی بہتر انتظام کے لیے پاکستان نے ایک نئی کور ’فرنٹرئر کور‘ بھی بنائی ہے۔
  3. ایران اور پاکستان کے باہمی مشاورت سے یہ طے کیا کے سرحد کو پر امن رکھنے کے لیے چند بارڈر سنٹرز بنائے جائیں گے۔
  4. سرحد پر باڑ لگانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اگرچہ یہ مہنگا اقدام ہے تاہم اس کی اہمیت کے لیے یہ ضروری ہے۔ جن علاقوں کا سب سے زیادہ غلط استعمال ہوتا ہے وہاں باڑ کی تعمیر کا آغاز کیا گیا ہے۔ 950 کلو میٹر طویل یہ باڑ لگائی جائے گی۔
  5. فیصلہ کیا گیا ہے کہ سرحدی گشت میں ربط پیدا کیا جائے گا۔
  6. سرحد نگرانی کے لیے ہیلی سروس بھی شروع کی جائے گی

پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا ماضی میں ایرانی اہلکار بھی اغوا کر کے پاکستان میں لائے گئے تو پاکستان نے جو کردار ادا کیا وہ ایران سے پوشیدہ نہیں۔ ہم ایرانی توقعات پر پورا اترے۔ ہم بھی ایران سے اسی نوعیت کی واضح کارروائی کی توقع کریں گے۔

اسی بارے میں