پاکستان میں وہ کونسی وزارت ہے جو بطور سزا لوگوں کو دی جاتی ہے؟

فواد چوہدری تصویر کے کاپی رائٹ EPA

’ہیلی کاپٹر کا فی کلومیٹر خرچ 55روپے ہے۔‘ فواد چوہدری کے دیے گئے اس دلچسپ بیان کی بازگشت ایک بار پھر ٹوئٹر پر سنی جارہی ہے۔

وفاقی کابینہ کی اہم وزارتوں میں رد و بدل کے بعد فواد چوہدری کو وزارت برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کا قلمدان سونپا گیا۔ وزارت ملنے کا اعلان ابھی ہوا ہی تھا کہ ٹوئٹر پر ایک شور برپا ہوگیا۔ سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبے سے وابستہ لوگوں نے خصوصاً اس فیصلے کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کے سابق چیئرمین عمر سیف نے بی بی سی کو بتایا کہ ’تاثر تو یہ ملتا ہے کہ یہ وزارت تو سزا کے طور پر دی جاتی ہے یا بطور ’کانسولیشن پرائز‘ (حوصلہ افزائی) کہ دی جاتی ہے۔‘

سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت سنہ 1972 سے کام کر رہی ہے. اس وزارت کے چند ترجیحات میں انسانی وسائل کی ترقی، صنعت برائے ریسرچ اور ڈیولپمنٹ اداروں اور یونیورسٹیوں میں جدید ٹیکنالوجی کی منتقلی، خوراک اور زراعت میں جدت، الیکٹرانکس، بایو ٹیکنالوجی، ٹیکسٹائل اور دواسازی کے شعبوں میں ترقی شامل ہپیں۔

یہ بھی پڑھیے

وفاقی کابینہ: خزانہ سمیت اہم وزارتوں میں رد و بدل

ہاؤس جاب سے پارلیمنٹ ہاؤس تک

’اسد عمر کو پیار محبت سے منا لینا چاہیے تھا‘

تصویر کے کاپی رائٹ MOST

وزیر سائنس اور ٹیکنالوجی کی کیا قابلیت ہونی چاہیے؟

اس فیصلے کے سامنے آنے کے بعد مبصرین کی رائے میں ایک ایسے شخص کو اس وزارت کا قلمدان نہیں دینا چاہیے جو خود اس قلمدان کو لینے کا خواہشمند نہ ہو۔ واضح رہے کہ فواد چوہدری نے بھی ٹویٹ کے ذریعے کہا تھا کہ وزیر اعظم کی خواہش پر انھیں یہ منصب سنبھالنے کو کہا گیا ہے۔

ماضی میں اس وزارت سے منسلک لوگوں میں تہمینہ دولتانہ، رانا تنویر حسین سمیت دیگر لوگ وابستہ رہے ہیں جن کے تعلیمی پس منظر پر نظر ڈالی جائے تو ان کا سائنس اور ٹیکنالوجی سے براہ راست کوئی گہرا تعلق نہیں رہا۔ حال ہی میں فواد چوہدری کی تعیناتی نے بھی اس حوالے سے مبصریں اور اس شعبے سے وابستہ لوگوں کے ذہنوں میں یہ سوال کھڑا کردیا ہے کہ فواد چوہدری کو اس وزارت کی قلمدان کس بنیاد پر دی گئی؟

عمر سیف کی رائے میں ’سائنس اور ٹیکنالوجی وزارت کا قلمدان اُسی شخص کے حوالے کرنا چاہیے جس کی سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں دلچسپی ہو اور تعیناتی اس سوچ اور جذبے سے کی جائے کہ اس شعبے میں ہم مثبت پیش رفت کریں اور ملک کو اس شعبے میں آگے لے کر جائیں گے۔‘

پاکستان میں میں نیوکلیئر طبعیات کے ماہر سائنسدان ڈاکٹر پرویز ہود بھائی کا کہنا تھا کہ ’جس کسی کو ’کُھڈے لائن‘ لگانا ہو اسے وزارت تعلیم یا وزارتِ سائنس اور ٹیکنالوجی سونپ دی جاتی ہے۔

پرویز ہود بھائی کے مطابق اس وزارت پر ایسے شخص کو تعینات کیا جانا چاہیے جو سائنس اور ٹیکنالوجی کی ضروریات سے آگاہ ہو اور اس شعبے کے تقاضوں سے بخوبی واقف ہو۔ ’اچھا تو یہ ہوتا کہ اس شخص کے پاس سائنس یا ٹیکنالوجی کے شعبے میں پی ایچ ڈی ہوتا مگر اگر نہیں ہے تو بھی اس شخص کا باشعور اور ایماندار ہونا لازم ہے۔‘

ان کے بقول سب سے اہمیت اس بات کی ہے کہ ’جس بھی شخص کو سائنس اور ٹیکنالوجی کا قلمدان دیا جائے اس کے حوالے سے کسی بھی قسم کے بدعنوانی کے الزامات نہ ہوں۔‘

’پاکستان میں اس وزارت کو اہم نہیں سمجھا جاتا‘

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption ’پاکستان اور انڈیا کا تو اب سائنس اور ٹیکنالوجی میں موازنہ بھی نہیں کیا جاسکتا ہے۔'

عمر سیف کا کہنا تھا کہ ’حکومت اور ہم بحیثیت قوم سائنس اور ٹیکنالوجی کو کتنی اہمیت دیتے ہیں اس کی عکاسی وزیروں کی تعیناتی میں ظاہر ہوتی ہے۔‘

عمر سیف کے مطابق اس وزارت کا تو برسوں سے بُرا حال ہے اور یہ تعیناتی بھی معمول کے مطابق ہی ہوئی ہے۔ اس وزارت کے ساتھ منسلک بہت سی یونیورسٹیاں ہیں، تحقیق کے ادارے ہیں لباریٹریاں ہیں تو ’سوال تو یہ ہے کہ اس وزارت کو کتنی اہمیت دی جارہی ہے کہ ان تمام اداروں میں بہتری آ پائے؟۔

خلائی ٹیکنالوجی کا حوالہ دیتے ہوئے پرویز ہود بھائی کا کہنا تھا کہ ’انڈیا کی ہی مثال لے لیں، انھوں نے اپنا خلائی جہاز پہلے چاند پر بھیجا اور اب ایک ایسا جہازبنا رہے ہیں جو مریخ پر جائے گا۔ پاکستان کا حال یہ ہے کہ ہم چین کے اشتراک سے جو جہاز بھیجتے بھی ہیں وہ بہت سادہ سے ہوتے ہیں، اس لیے پاکستان اور انڈیا کا تو اب سائنس اور ٹیکنالوجی میں موازنہ بھی نہیں کیا جاسکتا ہے۔‘

پاکستان میں پرویز ہود بھائی کے مطابق تحقیق کا نیا پیمانہ رکھا جا چکا ہے جس میں لوگ برق رفتاری سے پرچے یعنی ’ریسرچ پیپر‘ شائع کر رہے ہیں اور وہ ہی لوگ ترقی پا رہے ہیں۔ اس سے تحقیق کا معیار بتدریج تنزلی کا شکار ہے کیونکہ پہلے کوئی سائنسدان اپنی پوری زندگی میں 10 ریسرچ پیپر شائع کرتا تھا مگر اب کوئی بھی شخص انٹرنیٹ سے نقل کر کے سال میں دو سے تین پیپر شائع کر دیتا ہے۔

ٹوئٹر پر اس تعیناتی کا ردعمل

فواد چوہدری نے پنجاب یونیورسٹی سے قانون کی ڈگری حاصل کی اور وہ پیشہ ورانہ طور پر بھی ایک وکیل ہیں۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اس حوالے سے صارفین نے اس طرف نشاندہی کی ایک صارف حسن نے کہا کہ نیا پاکستان مبارک ہو، ایک قانون کے گریجوئیت کو وزیر سائنس اور ٹیکنالوجی بنا دیا گیا ہے۔

ایک صارف نے تو سائنس کے حوالے سے کہا اب سائنس کا خدا ہی حافظ ہے۔

ٹوئٹر پر چند صارفین نے دکھ کا بھی اظہار کیا کہ فواد چوہدری وزارت اطلاعات میں سب سے اچھا کام کر رہے تھے اور انھیں یاد بھی بہت کیا جائے گا۔

اسی بارے میں