گھٹنوں میں درد کی نئی وجہ کیا ہو سکتی ہے؟

گھٹنا تصویر کے کاپی رائٹ IMPERIAL COLLEGE LONDON

ایمپیرئیل کالج لندن کے ماہرین کا کہنا ہے کہ سائنسدانوں کے خیال میں ارتقا کی نذر ہونے والی گھٹنے کی چھوٹی ہڈی ایک بار پھر منظر عام پر آ گئی ہے۔

کچھ لوگوں میں پایا جانے والا فیبیلا گھٹنے کے پیچھے موجود نس کے اندر دبا ہوا ہوتا ہے۔ ڈاکٹروں کا خیال ہے کہ فیبیلا بالکل بے مقصد چیز ہے اور انسان اس کے بغیر باخوشی زندگی گزار سکتے ہیں اور کافی لوگ گزارتے بھی ہیں۔

تاہم، آرتھرائٹس کے شکار لوگوں میں عموماً فیبیلا بھی پایا جاتا ہے۔ ایمپیرئیل کالج کی ٹیم نے اپنے نتائج جرنل آف ایناٹمی میں شائع کیے ہیں۔

فیبیلا کیا ہے؟

طبی اصطلاحات میں فیبیلا کا مطلب "چھوٹا لوبیا' ہے یعنی گھٹنے کی چپنی ہڈی کی طرح یہ ہڈی بھی پٹھے کی نس میں نشونما پاتی ہے۔

یہ کتنی عام ہے؟

ایمپیرئیل کالج میں بائیو انجینیئرنگ کے شعبے سے منسلک ڈاکٹر مائیکل برتھاؤمے اور ان کے ساتھیوں نے 150 سالوں پر مشتمل برطانیہ سمیت 25 ممالک میں گھٹنوں سے متعلق طبی ادب کا مطالعہ کیا۔

یہ بھی پڑھیے!

آپ کی ناک کٹنے سے بچ سکتی ہے

ہڈیوں کو جوڑنے میں بائیو گلاس کا استعمال

’کولھوں کے درد کا تعلق ارتقائی دور سے ہو سکتا ہے‘

جسم کے چھ حصے جو کسی کے کام نہیں آتے

تصویر کے کاپی رائٹ IMPERIAL COLLEGE LONDON

سنہ1918 اور 2018 کے درمیان گھٹنوں میں فیبیلا ہڈی کی موجودگی اس حد تک بڑھ گئی ہے کہ خیال کیا جانے لگا ہے کہ 100 سال پہلے کی نسبت اب یہ تین گنا زیادہ عام ہے۔ برطانوی جریدے ’دا سائنٹسٹ‘ کے تجزیے کے مطابق سنہ 1918 میں دنیا بھر کی 11 فیصد آبادی کے گھٹنوں میں فبیلائے موجود تھے۔

جبکہ 2018 میں 39 فیصد لوگوں کے گھٹنوں میں فیبیلائے پائے گئے۔ محققین نے دنیا کی بڑھتی آبادی کے طبی سکینز اور طبی روزناموں کے نتائج کا استعمال کر کے یہ تخمینہ لگایا۔

فیبیلا کچھ لوگوں میں کیوں پایا جاتا ہے؟

ڈاکٹر برتھاؤمے کا کہنا ہے کہ اس سوال کا جواب کسی کو نہیں پتا کیونکہ اس پر کویی ریسرچ ہی نہیں کی گئی۔

وہ کہتے ہیں 'فیبیلا باقی لوبیا نما ہڈیوں کی طرح نسوں کے درمیان رگڑ کم کرنے میں مدد کر رہا ہو یا ہو سکتا ہے یہ کچھ بھی نہ کر رہا ہو۔'

کیا ہمیں اس کی ضرورت ہے؟

اولڈ ورلڈ بندروں میں فیبیلا گھٹنے کی چپنی ہڈی کا کردار ادا کرتا ہے جس سے پٹھوں کی حرکت میں بہتری آتی ہے۔ مگر بندروں اور انسانوں کے آباؤاجداد کے ارتقائی مراحل میں داخل ہونے کے بعد یہ ہڈی اوجھل ہو گئی تھی۔

ماہرین کے مطابق اب جب کہ اس ہڈی کی واپسی ہوئی ہے تو یہ ہمارے لیے صرف مسائل ہی پیدا کر رہی ہے۔

گھٹنوں کے اوسٹیوآرتھرائٹس کے شکار لوگوں میں اس ہڈی کے ہونے کے امکانات دُگنے ہیں لیکن اس ہڈی کے مسائل پیدا کرنے کی کوئی شواہد موجود نہیں ہیں۔

فیبیلا گھٹنے کے جوڑ کی تبدیلی کے عمل جراحی میں رکاوٹ اور درد اور بےآرامی کا باعث بن سکتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

ہڈی کی واپسی کیوں ہوئی؟

ہڈی کے بارے میں نظریہ یہ ہے کہ اس کی واپسی کا تعلق خوراک سے ہے۔ محققین اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ بہتر خوراک کی وجہ سے اوسط انسان کی لمبائی اور وزن میں اضافہ ہو رہا ہے جس کی وجہ سے پنڈلی کی ہڈی لمبی جبکہ پٹھے بڑے ہوں گے۔

ان تبدیلیوں کی وجہ سے گھٹنے پر دباؤ بڑھ جاتا ہے۔

یہ کیوں ضروری ہے؟

اس چھوٹی ہڈی کی دوبارہ واپسی گھٹنے کے امراض والے مریضوں کے علاج میں ڈاکٹروں کی مدد کر سکتی ہے۔ یہ پچھلی صدی میں ہونے والے انسانی ارتقا سے متعلق معلومات بھی فراہم کر سکتی ہے۔

لیکن پہلے وہ ایسے افراد کی عمر، صنف اور علاقہ ڈھونڈ رہے ہیں جن کے گھٹنے میں فیبیلا موجود ہو سکتا ہے۔ وہ یہ بھی تلاش کرنا چاہتے ہیں کہ آیا فیبیلا ایک گھٹنے میں ہوتا ہے یا دونوں میں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں