ہاٹ کراس بنز: گڈ فرائیڈے پر مسکیٹا بیکری کی خاص سوغات

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
پاکستان کے شہر کراچی کی دہائیوں پرانی بیکری ایک خاص سوغات ہاٹ کراس بنز کے لیے مشہور ہے

پاکستان کے شہر کراچی کے علاقے صدر میں واقع کئی دہائیوں پرانی مسکیٹا بیکری پر معمول سے زیادہ ہی رش ہے۔ دیکھنے میں تو یہ ایک عام سی بیکری ہے جس میں تمام سال کیک، بسکٹس اور بیکری سے متعلق دیگر اشیا فروخت کی جاتی ہیں۔

بنز

لیکن مسیحی تہوار گُڈ فرائیڈے پر اس بیکری میں تیار کی گئی اس تہوار کی خاص سوغات ہاٹ کراس بنز اپنے منفرد ذائقے کے لیے دنیا بھر میں مشہور ہیں۔

بیکری

کاونٹر کے پیچھے خریداروں کو بنز حاصل کرنے کے لیے مخصوص ٹوکن دیتے سید حیدر عباس زیدی اس بیکری کا انتظام چلانے والے خاندان کی تیسری نسل سے ہیں۔

ان کا دعوٰی ہے کہ مسکیٹا بیکری کے ہاٹ کراس بنز کی مقبولیت کا راز ان کی تیاری میں استعمال ہونے والے مصالحوں کا وہ خاص فارمولا ہے جو کئی دہائیوں سے ان کے خاندان کے پاس محفوظ ہے۔

بیکری

حیدر عباس زیدی کے مطابق بنز کی تیاری کے لیے درکار اجزا کی خریداری ایک ماہ پہلے شروع کی جاتی ہے جبکہ تندور میں بنز تیار کرنے کا مرحلہ گُڈ فرائیڈے سے ایک دن پہلے شروع ہوتا ہے۔

بیکری

دن گزرنے کے ساتھ ساتھ مسکیٹا بیکری کے سامنے خریداروں کا رش بڑھتا جا رہا ہے۔ سینکڑوں لوگ قطار میں لگے ٹوکن ہاتھ میں لیے اپنی باری کا انتطار کر رہے ہیں جبکہ بیکری کا عملہ کمال پھرتی سے مطلوبہ تعداد میں بنز لفافوں میں ڈال کر خریداروں کے حوالے کر رہا ہے۔

بیکری

انھی خریداروں میں شامل پادری انیل شاہانی گزشتہ تیس سال سے یہاں کے ہاٹ کراس بنز استعمال کر رہے ہیں اور ان کی اعلیٰ کوالٹی کے معترف ہیں۔

چند قدم دور کھڑے فرانسس الفانسو ان بنز کو مذہب سے زیادہ روایت سے جوڑتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ گذشتہ پچاس سال سے ہر گُڈ فرایئڈے پر مسکیٹا بیکری سے یہ بنز خرید کر اپنے دوستوں اور رشتے داروں کے ساتھ شیئر کرنا ان کے خاندان کی پرانی ریت ہے۔

بیکری

ہاٹ کراس بنز مسیحی برادری کے تہوار گڈ فرائیڈے سے منسلک تو ہیں ہی لیکن مسکیٹا بیکری کے باہر کھڑے خریداروں میں اکثریت دیگر مذاہب سے تعلق رکھتی ہے۔

حیدر عباس زیدی کہتے ہیں کہ 'عیسائی افراد کے علاوہ مسلمان، پارسی اور ہندو مذہب سے تعلق رکھنے والے افراد بھی ہماری بیکری میں تیار کیے گئے بنز خریدتے ہیں۔'

بیکری

اپنے لذیذ ہاٹ کراس بنز کی بدولت مسکیٹا بیکری کراچی کے ثقافتی ورثے کا اہم حصہ بن چکی ہے۔ حیدر عباس زیدی کے مطابق ان کی بیکری کے بنز نا صرف پاکستان بلکہ بیرون ملک بھی مقبول ہیں۔

بیکری

'سمندر پار پاکستانی جب امریکا، کینیڈا اور آسڑیلیا جاتے ہیں تو بڑی تعداد میں یہ بنز اپنے ساتھ لے جاتے ہیں۔ اکثر تو ان کو فریز کر کے کئی کئی مہینے استعمال کرتے ہیں۔'

بیکری

ادھر گرماگرم ہاٹ کراس بنز سے بھرے تھیلے اٹھائے بیکری سے نکلتے صدر کے پرانے رہائشی سید جعفری کے چہرے کی مسکراہٹ بتا رہی ہے کہ ان کی محنت وصول ہوئی۔

وہ کہتے ہیں کہ وہ کیا ان کا پورا گھرانہ مسکیٹا بیکری کے بنز کا گرویدہ ہے اور گڈ فرائیڈے اور ایسٹر کا تہوار اپنے عیسائی دوستوں کے ساتھ مل کر مناتا ہے۔ وہ جاتے جاتے رکتے ہیں اور کہتے ہیں 'خوشیاں تو سب کی سانجھی ہوتی ہیں۔'

.

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں