عمران خان کا دورہ ایران: مذاکرات میں دہشت گردی کا موضوع حاوی رہنے کا امکان

حسن روحانی اور عمران خان تصویر کے کاپی رائٹ PM House/AFP
Image caption وزیر اعظم عمران خان اور صدر حسن روحانی

پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان کے دورہ ایران پر دونوں اطراف سے سکیورٹی اور دہشت گردی کے واقعات پر شکوہ شکایات حاوی رہنے کے امکانات نظر آرہے ہیں۔

پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان آج ایران کے سرکاری دورے پر جا رہے ہیں، اس دورے کی دعوت انھیں ایران کے صدر حسن روحانی نے دی تھی، اس دورے کے دوران وہ ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای سے بھی ملاقات کریں گے۔

ایران اور پاکستان کے دیرینہ مراسم

ایران پہلا ملک تھا جس نے پاکستان کو تسلیم کیا اور وزیر اعظم لیاقت علی خان نے ایران کا دورہ کیا جبکہ شاہ آف ایران محمد رضا پہلوی کسی ریاست کے پہلے سربراہ تھے جنھوں نے پاکستان کا پہلا دورہ کیا۔

ایران اور پاکستان کے درمیان سماجی، ثقافتی اور معاشی تعاون رہا۔ سنہ 1964 میں ایران، پاکستان اور ترکی نے ریجنل کوآپریشن ڈولپمینٹ کی بنیاد رکھی جس سے خاص طور پر بلوچستان میں سڑکوں کی تعمیر ہوئی۔ سنہ 1960 میں جب پاکستان اور افغانستان میں ڈیورنڈ لائن پر کشیدگی ہوئی تو ایران نے اس میں ثالثی کا کردار ادا کیا۔ اس طرح 1965 کی پاکستان بھارت جنگ میں ایران نے پاکستان کی حمایت کا اعلان کیا۔

یہ بھی پڑھیے

اورماڑہ کے حملہ آوروں کی کمیں گاہیں ایران میں: شاہ محمود

’پاکستانی سرحد کے قریب حملے میں دو ایرانی ہلاک‘

ایران کی کلبھوشن یادو تک رسائی کی درخواست

پاکستان اور ایران میں تلخیاں اور دوریاں

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption آیت اللہ خمینی تہران میں اپنے گھر کی کھڑکی میں

پاکستان نے 1979 میں آیت اللہ خمینی کی قیادت میں انقلاب ایران کے بعد قائم ہونے والی حکومت کو قبول کیا لیکن 1980 میں پاکستان کے خلیجی ممالک اور بلخصوص سعودی عرب کی طرف جھکاؤ اور پاکستان میں فرقہ ورایت کی لہر نے پاکستان اور ایران کے دیرینہ تعلقات میں تلخی شامل کردی، افغانستان میں جہاد اور اس کے نتیجے میں بننے والی طالبان حکومت اور بعد میں امریکہ کی جنگ میں پاکستان کی شمولیت دوری میں مزید اضافے کا سبب بنی۔

پاکستان ایران تجارت

ایران کے ایٹمی پروگرام کے باعث امریکی پابندیوں نے پاکستان اور ایران کے سیاسی اور تجارتی تعلقات کو متاثر کیا ہے، موجودہ وقت پاکستان ایران سے ایل پی جی، سیمنٹ، ٹائلز کی امپورٹ کر رہا ہے جبکہ بڑے پیمانے پر بلوچستان کے سرحدی علاقے سے پیٹرول کی اسمگلنگ بھی ہو رہی ہے۔

دونوں فریق پاکستان اور ایران کاروبار کا حجم بڑہانے کا ارادہ رکھتے ہیں تاہم وزیر اعظم کے مشیر تجارت و ٹیکسٹائل عبدالرزاق داؤد کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان کے دورے کے موقعے پر فری ٹریڈ ایگریمنٹ یعنی ایف ٹی اے پر دستخط نہیں کیے جارہے بلکہ اولیتی تجارتی معاہدے پی ٹی اے پر عملدرآمد پر بات ہوگی جس کے تحت دونوں ممالک ٹیرف میں کمی کرکے مخصوص اشیا کی تجارت کو فروغ دیتے ہیں۔

عبدالرزاق داؤد کا کہنا تھا کہ ایران نے پاکستانی اشیا پر ڈیوٹی لگا دی ہے اور اور بدلے میں پاکستان نے بھی ایسا کیا، پاکستان کی ایران کو ایکسپورٹ 35 ملین ڈالرز تک پہنچ گئی ہیں۔

Image caption زیرو پوائنٹ کی تجارت سے دو ڈھائی ہزار مزدوروں کا روزگار وابستہ ہے

امریکی پابندیاں اور ایران سے تجارت

پاکستان اور ایران میں تجارت تو جاری ہے لیکن پاکستانی بینکوں میں سے کوئی بھی اکاؤنٹ کھولنے کے لیے تیار نہیں جس کی وجہ امریکی پابندیاں ہیں۔ پاکستان اور ایران میں گیس پائپ لائن کا کام بھی روک لیا گیا ہے، اس پائپ لائن کی تعمیر کا کام مارچ 2013 میں شروع ہوا تھا اور 25 ماہ میں مکمل ہونا تھا لیکن اس پر عملدرآمد روک دیا گیا۔

گیس پائپ لائن منصوبے سے پاکستان کو 750 ایم ایم سی ایف گیس ملنی تھی۔ ایران اس منصوبے پر عملدرآمد روکنے پر حکومت پاکستان سے وضاحت طلب کرچکا ہے، وزیر اعظم عمران خان کے دورے میں اس منصوبے پر بات ہوگی یا نہیں ابھی تک یہ واضح نہیں کیا گیا۔

ایران اور بھارت کی قربت

افغانستان میں ایران مخالف طالبان حکومت تسلیم کرنے پر ایران اور انڈیا میں سفارتی تعلقات میں بہتری آئی اور اس نے مضبوط تجارتی مراسم کو جنم دیا، انڈیا ایران سے تیل خرید کرنے والے تیسرا بڑا ملک ہے جبکہ حال ہی میں انڈیا نے ایران کے چاہ بہار پورٹ میں سرمایہ کاری کی ہے۔ جس پر پاکستان اپنے تحفظات اور خدشات کا اظہار کرچکا ہے۔

پاکستان انسٹیٹیوٹ آف پیس اسٹڈیز کے ڈائریکٹر عامر رانا کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کی جانب سے گوادر کے قریب آئل ریفائنری لگانے کے اعلان سے ایران میں کچھ خدشات پیدا ہو رہے ہیں کہ کہیں یہ ایران مخالف منصوبہ تو نہیں۔

’عمران خان چین سے پہلے ایران کادورہ کر رہے ہیں سعودی ریفائنری پر دونوں ممالک کے خدشات پائے جاتے ہیں کہ اگر سعودی سرمایہ کاری آتی بھی ہے تو اس حوالے سے کس قسم کی یقین دہانی کرائی جاتی ہے اور کس قسم کے اقدامات اٹھائے جاتے ہیں یہ اعلامیے کے بعد ہی سامنے آئے گا۔

پاکستان ایران سرحد پر کشیدگی

بلوچستان کے علاقے اورماڑہ میں حملے میں پاکستان نیوی اور دیگر فورسز کے 14 اہلکاروں کی ہلاکت کے بعد حکومت پاکستان نے پہلی بار سرکاری سطح پر الزام عائد کیا ہے کہ بلوچ عسکریت پسندوں کی پناہ گاہیں ایران میں واقع ہیں۔ اس حملے کی ذمہ داری براس نامی اتحاد نے قبول کی ہے جس میں بلوچستان لبریشن آرمی، بلوچ لبریشن فرنٹ اور بلوچستان لبریشن گارڈز شامل ہے۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی دورے سے قبل یہ عندیہ دے چکے ہیں کہ بارڈر سیکیورٹی کے لیے الگ سے فورس بنائی جا رہی ہے۔

اورماڑہ حملے سے چند روز قبل کراچی میں کاؤنٹر ٹیرریزم پولیس نے شیعہ شدت پسند تنظیم سے مبینہ وابستہ 6 کارکنوں کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا تھا اور کہا تھا کہ وہ قتل کی 50 واقعات میں ملوث ہے، پولیس نے الزام عائد کیا تھا کہ ملزمان نے پڑوسی ملک سے تربیت حاصل کی ہے۔

پاکستان اور ایران کی سرحد پر گزشتہ چند سالوں سے کشیدگی پائی جاتی ہے، ایران کی جانب سے سویلین آبادی پر فائرنگ اور شیلنگ اب معمول بن چکی ہے گزشتہ سال اس میں چار عام شہری ہلاک اور درجن کے قریب زخمی ہوگئے تھے ۔ پاکستان اور ایران بارڈر 904 کلومیٹر پر مشتمل ہے، جس میں بلوچستان کے چاغی کے علاوہ واشک، پنجگور، کیچ، تربت اور گودار اضلاع شامل ہیں۔

ایران میں گزشتہ ایک دہائی سے سکیورٹی فورسز اور تنصیبات پر حملے کیے گئے ہیں جن میں صدر احمدی نژاد پر قاتلانہ حملہ اور رواں سال ماہ فروری میں ایک کار دھماکہ شامل ہے، جس میں پاسداران انقلاب کے 27 اہلکاروں کی ہلاکت ہوئی تھی۔ اس واقعے کے بعد پاسداران انقلاب نے حکومت پاکستان کو متنبہ کیا تھا کہ وہ اپنی طرف شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کریں ورنہ بین الاقوامی قانون کے تحت وہ کارروائی کا حق رکھتے ہیں۔

ان حملوں کی ذمہ داری جیش العدل نامی سنی شدت پسند تنظیم قبول کرتی ہے، ایران کا الزام ہے کہ اس تنظیم نے پاکستان میں پناہ لے رکھی ہے جبکہ پاکستان حکومت ان الزامات کو مسترد کرتی ہے۔

پاکستان انسٹیٹیوٹ آف پیس اسٹڈیز کے ڈائریکٹر عامر رانا کا کہنا ہے کہ ’وزیر اعظم عمران خان اور ایران کی قیادت میں ملاقات میں شدت پسندی ایک اہم موضوع ہوگا۔ ایران کو بارڈر سیکیوٹی کے حوالے سے تحفظات ہیں کہ کچھ گروپ پاکستان کی زمین کو استعمال کر رہے ہیں۔‘

پاکستان کی یہ پالسی رہی ہے کہ کشیدگی سے بچا جائے کیونکہ اگر کشیدگی بڑھتی ہے تو یہاں ریگیولر فورسز لانی پڑے گی جو ایک انتہائی مہنگا اقدام ہے اس لیے بعض مقامات پر باڑ لگائی جارہی ہے۔

چین اقتصادی راہدری کا گذر کئی سرحدی شہروں سے ہوتا ہے، عامر رانا کے مطابق سی پیک کا سب سے اہم مرکز گوادر اور کوسٹل بیلٹ ہے تو اس میں بھی سکیورٹی کا پہلو بہت اہم ہے اس میں جب تک ایران آن بورڈ نہیں ہوگا محفوظ نہیں بنایا جاسکتا۔

اسی بارے میں