پشاور میں پولیو مہم کے خلاف ’سازش‘ کا الزام، 12 افراد کے خلاف ایف آئی آر درج

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
پولیو: افواہوں سے ملک بھر میں جاری مہم پر کیا اثر پڑا؟

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں پولیس نے پولیو مہم کے حوالے سے افواہیں پھیلانے اور سرکاری املاک پر حملوں کے الزام میں 12 افراد کے خلاف ابتدائی اطلاعی رپورٹ درج کر کے ایک شخص کو گرفتار کر لیا ہے۔

پاکستان میں انسدادِ پولیو مہم کے فوکل پرسن بابر عطا کا کہنا ہے کہ نامزد افراد کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں اور جلد ہی یہ افراد قانون کی گرفت میں ہوں گے۔

ایف آئی آر مجرمانہ سازش کرنے، کارِ سرکار میں مداخلت، سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے، عوام کو ڈرانے دھمکانے اور خوف زدہ کرنے، لوگوں کو بلوے پر اکسانے، بلوہ کرنا، غیر قانونی ہجوم اکھٹا کرنا، ہتھیار رکھنے، لوگوں کو نقل و حرکت محدود کرنا اور جانوروں کو نقصان پہنچانے کی دفعات کے تحت درج کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

ویکسینیشن: سات غلط فہمیاں جنھیں دور کرنا ضروری ہے

پولیو مہم میں استعمال ہونے والے مارکرز تک رسائی کا انکشاف

پشاور کے مضافاتی علاقے بڈھ بیر میں پیر کو سینکڑوں افراد نے مہم کے دوران بچوں کی ہلاکت اور طبعیت خراب ہونے کی افواہوں پر مشتعل ہو کر بنیادی صحت کے ایک مرکز پر دھاوا بول کر وہاں توڑ پھوڑ کی اور اس کے کچھ حصوں کو آگ لگا دی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی کے مطابق اس واقعے کے بعد پشاور شہر میں بھی یہ افواہیں گردش کرنے لگیں کہ بچوں کو زائد المعیاد قطرے پلائے گئے جس پر ویکسین پینے والے سینکڑوں والدین نے بچوں کو لے کر ہسپتالوں کا رخ کیا۔

ان افواہوں سے شہر بھر میں خوف اور بھگدڑ کی کیفیت پیدا ہوئی اور گھنٹوں تک ہسپتالوں کی طرف جانے والے تمام راستے رش کی وجہ سے بند رہے۔

تاہم منگل کو خیبر ٹیچنگ ہسپتال کی جانب سے جاری کیے گئے ایک بیان میں بتایا گیا کہ گذشتہ دنوں میں 7000 سے زائد بچے وہاں لائے گئے تھے، اور سب کو ابتدائی طبی امداد کے بعد گھر بھیج دیا گیا۔ بیان کے مطابق ’تمام بچے صحت مند اور نارمل تھے‘ اور ’ان بچوں کو والدین صرف افواہ پھیلنے کی وجہ سے ہسپتال لائے تھے۔‘اس واقعے کے اثرات ملک بھر میں محسوس کیے گئے اور منگل کی صبح ڈپٹی کمشنر اسلام آباد نے اپنے سوشل میڈیا پیجز پر جاری ایک پیغام میں کہا کہ پشاور کے واقعے سے ملک بھر میں انسدادِ پولیو کی مہم پر اثر پڑا ہے۔ انھوں نے اسے ’پاکستان کو 20 سال پیچھے لے جانے کی کوشش‘ قرار دیا۔

اس کے علاوہ سوشل میڈیا پر بھی ایسی ویڈیوز گردش کرتی رہیں جن میں بچوں کی طبعیت خراب ہونے کے دعوے کیے جاتے رہے۔ ایسی ہی ایک ویڈیو میں ایک شخص کو صحتمند بچوں کو طبعیت خراب ہونے کی اداکاری کرنے کو کہتے دیکھا جا سکتا تھا۔

یہ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد سوشل میڈیا پر اس شخص کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کا مطالبہ بھی سامنے آیا۔

پاکستان میں انسدادِ پولیو مہم کے فوکل پرسن بابر عطا نے پیر کو رات گئے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں بتایا کہ نذر خان نامی مذکورہ شخص کو حراست میں لے لیا گیا ہے اور افواہیں پھیلانے والے دیگر افراد کو بھی گرفتار کیا جائے گا۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ عوام یہ یاد رکھیں کہ پولیو کی ویکسین مکمل محفوظ دوا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter/@babarbinatta

افواہیں کیسے پھیلیں؟

خیال رہے کہ پولیس کے مطابق پیر کی صبح پشاور کے مضافاتی علاقے بڈھ بیر میں ماشوخیل کے مقام پر اس وقت حالات خراب ہوئے جب تین سے چار دیہات سے تعلق رکھنے والے مشتعل افراد نے جمع ہو کر بنیادی صحت کے ایک مرکز پر حملہ کیا۔

بڈھ بیر پولیس سٹیشن کے ڈی ایس پی گران اللہ خان نے بی بی سی کو بتایا کہ علاقے کے ایک نجی سکول میں دس سال سے زائد عمر کے بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے جا رہے تھے کہ اس دوران وہاں کسی نے اچانک یہ افواہ پھیلا دی کہ ویکسین پینے سے بچوں کی طبعیت بگڑ گئی جس سے تین بچے ہلاک ہو گئے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ ’یہ افواہ چند ہی منٹوں میں پورے گاؤں میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی اور اس طرح کچھ دیر کے بعد قرب جوار کے لوگ ڈنڈوں اور لاٹھیوں سے مسلح گھروں سے باہر نکل آئے اور قریب واقع بنیادی صحت کے مرکز پر دھاوا بول دیا۔‘

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ مشتعل ہجوم نے پہلے مرکز میں توڑ پھوڑ کی اور بعد میں اسے آگ لگائی جبکہ مرکز کی دیواروں کو بھی گرا دیا گیا۔

واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور ایلیٹ فورس کے بھاری نفری جائے وقوع پہنچی اور سارے علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔ پولیس اہلکاروں کا کہنا ہے کہ علاقے کے مشران سے ملاقاتوں کے بعد مشتعل افراد منتشر ہو گئے۔

تاہم اس واقعے کے بعد شہر کے مختلف علاقوں میں اچانک یہ افواہیں گردش کرنے لگی کہ بچوں کو زائد المعیاد ویکسین پلائی گئی جس سے چند ہی گھنٹوں کے دوران پورے شہر میں شدید خوف کی کیفیت پیدا ہوئی اور لوگ بچوں کو لے کر ہپستالوں کا رخ کرنے لگے۔

سرکاری ذرائع کے مطابق تقریباً دو ہزار سے زائد بچوں کو مختلف ہسپتالوں میں لایا گیا۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ شہر کے بڑے ہسپتالوں کی طرف سے جانے والے راستے کئی گھنٹے تک بند رہے جبکہ اس دوران والدین پیدل بچوں کو لے صحت کے مراکز پہنچے۔

سرکاری اہلکاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ پشاور کے بعض مضافاتی علاقوں میں مساجد سے اعلانات کیے گئے جن میں کہا گیا کہ بچوں کو زائد المعیاد ویکسین پلائی گئی جس کے نیتجے میں بھی خوف کی صورتحال پیدا ہوئی۔

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
ڈاکٹروں کے مطابق پولیو ویکسین محفوظ ترین دوا ہے جس سے ری ایکشن ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

تحقیقات کا حکم

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے گذشتہ روز واقعے کا سختی سے نوٹس لیتے ہوئے اس کی فوری تحقیقات کا حکم دیا ہے۔

صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر ہشام خان نے پیر کو پشاور میں ایک ہنگامی پریس کانفرس سے خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا کہ دس ماہرین پر مشتمل ایک تحقیقاتی کمیٹی بنائی گئی ہے جو واقعے کی ہر زاویے سے تحقیقات کرے گی۔

انھوں نے کہا کہ ایک سازش کے تحت شہر بھر میں جھوٹی خبریں اور افواہیں پھیلائی گئیں اور سازش میں ملوث افراد کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

ادھر ایمرجنسی آپریشن سنٹر خیبر پختونخوا کے کوارڈنیٹر کامران آفریدی نے ذرائع ابلاغ کو جاری کردہ ایک بیان میں اس بات کی سختی سے تردید کی کہ قطرے زائد المعیاد تھے اور جس سے بچوں کی طبعیت بگڑ گئی۔

وضاحتی بیان میں ان کا کہنا تھا کہ پولیو ویکسین محفوظ ترین دوا ہے جس سے ری ایکشن ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

کامران آفریدی نے مزید کہا کہ جس سکول سے بچوں کی طبعیت بگڑنے کی افواہ پھیلی تھی وہاں کی انتظامیہ پہلے ہی بچوں کو قطرے پھیلانے سے انکاری تھی اور ان سے ایک مرتبہ اس بات پر جھگڑا ہو چکا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں